کیا مذاکرات سے PTIکو فیس سیونگ مل سکتی ہے؟

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان محاذ آرائی کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے مذاکرات کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت دونوں جانب محسوس کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ مقرر کی ہے اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات میں مزید تاخیر کی ضرورت نہیں۔
اصل مسئلہ اب یہ نہیں کہ حکومت اور تحریک انصاف مذاکرات کے اصولی حق میں ہیں یا نہیں، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا اور دونوں فریق ابتدا میں کن نکات پر اتفاق کر سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ سیاسی اور انتظامی معاملات پر بات چیت ہوسکتی ہے، لیکن عمران خان کی رہائی کو مذاکرات کا براہ راست ایجنڈا بنانے کے بجائے اسے عدالتی عمل سے جوڑا جا رہا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی بنیادی سیاسی مہم ہی عمران خان کی رہائی، ان سے ملاقات اور ان کے حوالے سے قانونی و طبی معاملات کے گرد گھوم رہی ہے، اس لیے دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول مشترکہ ایجنڈا تیار کرنا مذاکرات کی پہلی بڑی آزمائش ہوگا۔
تحریک انصاف کے لیے صورتحال اس لحاظ سے پیچیدہ ہے کہ ایک طرف اسے اپنے کارکنوں اور حامیوں کو سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام دینا ہے اور دوسری طرف حکومت کے ساتھ کسی ممکنہ بات چیت کے لیے راستہ بھی کھلا رکھنا ہے۔ 4 اکتوبر کی نئی تاریخ دراصل پارٹی کو ایک اضافی سیاسی وقت فراہم کرتی ہے جس میں وہ احتجاجی حکمت عملی، مذاکرات اور حکومت کے ردعمل کو ایک ساتھ جانچ سکتی ہے۔ خود سہیل آفریدی نے مارچ مؤخر کیے جانے کے بعد مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی، جبکہ یہ بھی واضح کیا کہ پارٹی اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئی۔
حکومت کے لیے بھی مذاکرات کا راستہ بالکل بے معنی نہیں۔ اسلام آباد مارچ کو روکنے کے لیے پہلے ہی بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے گئے اور دارالحکومت کی طرف آنے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ مارچ مؤخر ہونے کے بعد حکومت کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ 4 اکتوبر سے پہلے سیاسی رابطے کے ذریعے کسی قابل عمل فارمولے پر پہنچنے کی کوشش کرے۔ دوسری جانب حکومت کے لیے یہ شرط اہم ہے کہ سیاسی مذاکرات کے ساتھ احتجاجی سرگرمیوں کو کس حد تک محدود کیا جائے اور دارالحکومت میں معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔
اس پورے معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے۔ تحریک انصاف کو خدشہ ہے کہ مذاکرات محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جبکہ حکومت کو یہ تحفظات ہیں کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ احتجاج اور مارچ جاری رہا تو بات چیت کا مقصد ہی متاثر ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار ہونے کے باوجود عملی پیش رفت ایجنڈے، شرائط اور ابتدائی اقدامات پر اتفاق کے بغیر مشکل دکھائی دیتی ہے۔
ایک اور اہم سوال عمران خان سے ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق معاملات کا ہے۔ تحریک انصاف ان معاملات کو سیاسی اور انسانی بنیادوں پر اہم قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ عمران خان کی رہائی عدالتی معاملہ ہے۔ چنانچہ اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو ممکنہ طور پر یہی طے کرنا ہوگا کہ کون سے معاملات سیاسی مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں اور کون سے معاملات عدالتوں یا متعلقہ قانونی اداروں کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اسی حد بندی پر بھی ہوگا۔
خیبر پختونخوا کی حکومت کی صورتحال نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان اختلافات، اسلام آباد مارچ میں صوبائی حکومت کے کردار اور گورنر راج سے متعلق قیاس آرائیوں نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں گورنر راج یا ہنگامی اقدامات سے متعلق مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ایسے کسی اقدام کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم ان امکانات کو حتمی حکومتی فیصلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی بنیادی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے بھی کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں۔ تحریک انصاف کے لیے یہ راستہ احتجاج کو فی الحال مؤخر کرکے مذاکرات کو موقع دینے کی صورت میں ہوسکتا ہے، جبکہ حکومت کے لیے سیاسی معاملات پر بامقصد گفتگو اور ایسے معاملات کو مذاکراتی ایجنڈے سے الگ رکھنے کی کوشش اہم ہوگی جو براہ راست عدالتی اختیار سے متعلق ہیں۔ اگر دونوں جانب سے ابتدائی اعتماد سازی کے اقدامات کیے جاتے ہیں تو 4 اکتوبر کی نئی تاریخ محض احتجاج کی نئی تاریخ نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات کے لیے ایک آخری موقع بھی بن سکتی ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مارچ مؤخر کرنے کی وجوہات کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تحریک انصاف نے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ بعض ذرائع نے پارٹی کی انتظامی و لاجسٹک تیاریوں اور اندرونی اختلافات کو بھی اس فیصلے سے جوڑا۔ اس اختلافِ رائے سے قطع نظر ایک حقیقت واضح ہے کہ 27 ستمبر کے بجائے 4 اکتوبر کا انتخاب حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو اضافی سیاسی وقت فراہم کرتا ہے۔
اب اصل امتحان یہ ہے کہ اس اضافی وقت کو دوبارہ تصادم کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے یا مذاکرات کی بنیاد رکھنے کے لیے۔ اگر حکومت اور تحریک انصاف مذاکرات کے لیے قابل قبول ایجنڈا، رابطے کا مؤثر طریقہ اور ابتدائی اعتماد سازی کے اقدامات طے کر لیتے ہیں تو سیاسی کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن اگر عمران خان کی رہائی، احتجاج ختم کرنے کی شرط، خیبر پختونخوا حکومت اور دیگر معاملات پر دونوں فریق اپنی اپنی حتمی پوزیشن پر قائم رہے تو مذاکرات شروع ہونے کے باوجود ان کا نتیجہ نکالنا مشکل ہوگا۔ اس لیے موجودہ مرحلے میں اصل سوال مذاکرات ہوں گے یا نہیں، سے زیادہ یہ ہے کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کیا دینے اور کیا حاصل کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
