امریکا سے جنگ کےلیے تیار، سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے : عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کےلیے تیار ہیں لیکن سفارت کاری کےلیے دروازہ کھلا ہوا ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے یہاں تک کہ قیامت خیز جنگ ہی کیوں نہ ہو۔ہم سفارت کاری کےلیے بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں اور یہ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب پر منحصر ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ ایرانی وفد نے رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر آبنائے ہرمز کھولنے کےلیے ملاقاتوں کے دوران اور غیررسمی انٹرویوز میں سفارت کاری کے ہرپہلو کو آزمایا ہے۔اس کے باوجود امریکی صدر کا پیغام اس کے برعکس رہا ہے تاہم ٹرمپ کے بیان کے باوجود سرکاری سطح پر ایران کو ثالثوں کے ذریعے آگاہ نہیں کیاگیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ ایران جنگ کے خاتمے کےلیے کیےگئے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کےلیے تیار تھا اور تہران چاہتا تھاکہ اس کے منجمد اثاثے اور فنڈز بھی واپس کیے جائیں اور تیل کی فروخت کی اجازت دی جائے۔
امریکا صرف ایران کو تباہ کرنے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے : ایرانی صدر
عباس عراقچی نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مذکورہ شرائط نئی نہیں تھیں بلکہ امریکا کی جانب سے اس سے پہلے کیےگئے وعدوں کا حصہ تھیں۔
