کرکٹر رضوان اپنے موبائل کا پاس ورڈ دینے سے انکاری کیوں؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے آن لائن جوئے کے الزام کی تحقیقات میں تعاون سے انکار کر کے خود کو اور بھی ذیادہ مشکوک بنا دیا ہے۔ یوں ان کا کرکٹ کیریئر بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ محمد رضوان اور امام الحق کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے تحقیقات کے لیے طلب کیا تھا اور اس سے پہلے ان دونوں کے موبائل فون بھی اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ تحقیقاتی ایجنسی نے دونوں کرکٹرز سے ان کے موبائل فونز کے پاس ورڈ مانگے تھے تاکہ چیک کیا جا سکے کہ دونوں کن مشکوک لوگوں سے رابطے میں تھے۔ امام الحق نے تو اپنے موبائل کا پاس ورڈ دے دیا لیکن محمد رضوان ایسا کرنے سے انکاری ہیں اور اسی وجہ سے وہ مزید مشکوک بھی ہو گئے ہیں۔
این سی سی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ رضوان سے متعدد مرتبہ رابطہ کرکے تحقیقات میں تعاون کی درخواست کی گئی، تاہم کبھی رابطہ نہ ہو سکا اور کبھی انہوں نے وکیل کے ذریعے پیش ہونے سے معذرت کر لی۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اب آخری مرتبہ رضوان سے رابطہ کرے گی اور تعاون نہ ملنے کی صورت میں قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔
معاملے کی تحقیقات کرنے والے افسران کا کہنا ہے کہ رضوان کیخلاف آن لائن جوئے، مشکوک رابطوں، مالی معاملات اور ڈریسنگ کی معلومات لیک کرنے کے الزامات کی تحقیقات نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، تحقیقاتی ادارے کے ساتھ تعاون کے معاملے پر پیدا ہونے والی صورتحال نے رضوان کے لیے قانونی اور پیشہ ورانہ دونوں سطح پر مشکلات بڑھا دی ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم کا مؤقف ہے کہ محمد رضوان کی موجودگی میں موبائل فون کا فرانزک تجزیہ کرنے سے ڈیجیٹل شواہد کے تحفظ اور جانچ کے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی قانونی اقدام تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔
اس معاملے کی بنیاد پاکستان کرکٹ ٹیم کے حالیہ دورۂ انگلینڈ کے دوران سامنے آنے والی بعض اطلاعات کو قرار دیا جا رہا ہے، جن میں ڈریسنگ روم سے معلومات کے اخراج، مشکوک رابطوں اور مالی معاملات کا ذکر سامنے آیا تھا۔ این سی سی آئی اے نے اسی تناظر میں محمد رضوان اور امام الحق سے پوچھ گچھ شروع کی اور دونوں کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کا عمل شروع کیا تاکہ دستیاب ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر اصل صورتحال کا تعین کیا جا سکے۔
محمد رضوان کے موبائل فون کی فرانزک جانچ اس تحقیقات میں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ تحقیقاتی ٹیم فون میں موجود پیغامات، رابطوں، ڈیجیٹل سرگرمیوں اور دیگر متعلقہ مواد کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ ادارے کے مطابق موبائل فون کو دوسرے طریقوں سے بھی فرانزک کیا جا سکتا ہے، تاہم اس صورت میں بعض ڈیٹا کے متاثر یا ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے، اسی لیے رضوان کی موجودگی اور تعاون کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم تحقیقات کے ابتدائی مرحلے سے متعلق مختلف اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں جن کے مطابق دونوں کرکٹرز کے موبائل فونز سے ابتدائی فرانزک جائزے میں کوئی ایسا قابلِ ذکر مواد سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر فوری طور پر کسی جرم کا تعین کیا جا سکے، جبکہ مالی اور تکنیکی پہلوؤں کی مزید جانچ جاری ہے۔ اس صورتحال میں حتمی نتیجے کے لیے فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد کا انتظار کرنا ضروری ہوگا۔
یاد رہے کہ محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کی کارروائی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ تحقیقاتی نوٹس بنیادی طور پر معلومات حاصل کرنے اور تحقیقات آگے بڑھانے کا ایک طریقۂ کار ہے اور محض نوٹس جاری ہونا کسی جرم کے ارتکاب کا ثبوت نہیں۔ عدالت نے رضوان کو تحقیقاتی عمل میں تعاون کرنے کی ہدایت کی جبکہ تحقیقاتی ادارے کو انہیں ہراساں نہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔
دوسری جانب امام الحق نے ابتدائی مرحلے میں ہچکچاہٹ کے بعد تحقیقاتی عمل میں تعاون کیا ہے۔ ان کے موبائل فون کی فرانزک جانچ بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ این سی سی آئی اے نے دونوں قومی کھلاڑیوں سے متعلق معاملات کی چھان بین کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو فرانزک نتائج، مالی ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر دستیاب معلومات کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔
تحقیقات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم کسی کھلاڑی سے پوچھ گچھ، موبائل فون تحویل میں لیے جانے یا فرانزک جانچ کا عمل بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ تحقیقات میں مبینہ ڈریسنگ روم لیکس، مالی معاملات، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور بعض رابطوں سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیے جانے کی اطلاعات ہیں، لیکن ان میں سے کسی ایک پہلو کو بھی حتمی الزام قرار دینا اس وقت قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان کرکٹ کے دو معروف کھلاڑیوں سے متعلق یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ تحقیقات کے نتائج ان کی ساکھ اور مستقبل کے کرکٹ معاملات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
فی الحال اصل توجہ فرانزک تجزیے، مالی ریکارڈ اور دیگر شواہد سے سامنے آنے والی معلومات پر ہے۔ محمد رضوان کی جانب سے تحقیقاتی عمل میں آئندہ کیا طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے اور این سی سی آئی اے اپنی حتمی رپورٹ میں کیا نتیجہ اخذ کرتی ہے، اس کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔
