بھارتی کاکروچ پارٹی نے مودی سرکار کو پھر آگے لگا لیا

 

 

 

بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی نے ایک مرتبہ پھر کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر مودی سرکار کے لیے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ اس بات تنازع کا مرکز الیکشن میں دھاندلی اور ووٹرز لسٹوں میں ہونے والی بے ضابطگیاں ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کمشنر نے مودی سرکار کے ساتھ مل کر 30 ریاستوں کی ووٹرز لسٹوں میں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کر دیے۔

 

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج مختلف ریاستی دارالحکومتوں تک پھیل گیا ہے۔ بھارت میں انتخابی نظام سے متعلق تنازع اب محض سیاسی بیانات یا پارلیمانی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ ووٹر فہرستوں، الیکشن کمیشن کی اندرونی کارکردگی، انتخابی ڈیٹا کے انتظام، سڑکوں پر احتجاج اور آئندہ ریاستی انتخابات کے تناظر میں ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس سمیت متعدد اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر پر انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

 

ادھر الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے فیصلے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہیں اور ادارے کے اندر مختلف آرا فیصلہ سازی کے معمول کا حصہ ہیں۔ بحران کی شدت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایک بڑے اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ چیف الیکشن کمشنر کے زیر نگرانی کیے جانے والے اقدامات پر تحریری اعتراضات ریکارڈ کرائے۔

 

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اعتراضات نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے، انتخابی ڈیٹا تک رسائی، فارم 6 میں تبدیلیوں اور خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے طریقۂ کار سے متعلق تھے۔ بعض معاملات میں دونوں کمشنروں نے اقدامات کو غیر مجاز یا غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ساتھ ووٹر ڈیٹا کے انتظام کو مرکزی سطح پر مرکوز کرنے پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔

 

یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ خصوصی جامع نظرثانی کا عمل جون 2025 میں بہار سے شروع ہوا اور بعد ازاں ملک کے بیشتر حصوں تک پھیلایا گیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری ہونے والی مسودہ انتخابی فہرستوں میں 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، تاہم ان تمام ناموں کو حتمی طور پر اہل ووٹروں سے محروم قرار نہیں دیا گیا بلکہ ایس آئی آر کے تحت مختلف وجوہات، جن میں منتقلی، وفات، دوہری رجسٹریشن اور دیگر ریکارڈ سے متعلق معاملات شامل ہیں، کی بنیاد پر نام مسودہ فہرستوں سے نکالے گئے۔

 

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں سیاسی طور پر غیر متوازن اثرات پیدا کرسکتی ہیں اور اس عمل سے غریب، مزدور، نقل مکانی کرنے والے شہری اور دستاویزات کے مسائل سے دوچار طبقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ الزامات سیاسی دعووں کی سطح پر ہیں اور ان کے حتمی اثرات کا تعین آزادانہ اور جامع جانچ کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور انتخابی فہرستوں کو درست اور تازہ رکھنے کے لیے ایس آئی آر کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کے فیصلوں میں داخلی مشاورت اور اختلافِ رائے ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہے۔

 

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے خود بھی تنازع کے ایک اہم تکنیکی پہلو کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 26 ستمبر کو کمیشن نے ووٹر فہرستوں سے متعلق سافٹ ویئر کے جائزے کا اعلان کیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ نظام انتخابی قوانین اور ضوابط کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب الیکشن کمیشن کے اندر ہی ووٹر ڈیٹا کے انتظام اور آئی ٹی نظام پر اعتراضات کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ کمیشن کی جانب سے یہ قدم تنازع کو محض سیاسی الزام تراشی سے نکال کر انتخابی نظام کے تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کی جانچ کے دائرے میں بھی لے آیا ہے۔ اس ادارہ جاتی تنازع کا سب سے نمایاں اثر سڑکوں پر تب نظر آیا جب کانگریس نے مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔

 

کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ووٹرز لسٹوں میں بے ضابطگیوں کو ’ووٹ چوری‘ قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

اس احتجاجی ماحول میں کاکروچ جنتا پارٹی بھی ایک نمایاں آواز کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس گروہ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے چیف الیکشن کمشنر کو استعفا دینے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی اور اعلان کیا کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں 2 اکتوبر سے ممبئی سے ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ کاکروچ جنتا پارٹی اس سے قبل امتحانی پرچوں کے لیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے باعث بھی نمایاں ہوئی تھی اور اس تازہ تنازع میں اس کی سرگرمی نے انتخابی نظام کے معاملے کو نوجوانوں کی احتجاجی سیاست سے بھی جوڑ دیا ہے۔

 

اس تنازع کی اہمیت آئندہ ریاستی انتخابات کے باعث مزید بڑھ گئی ہے۔ اترپردیش اور گجرات سمیت کئی اہم ریاستوں میں 2027 کے دوران انتخابات متوقع ہیں، اس لیے ووٹر فہرستوں کی درستگی، انتخابی ادارے کی غیر جانب داری اور شہریوں کے ووٹ کے حق سے متعلق سوالات اب آنے والے انتخابی مقابلوں کی سیاسی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ اگر انتخابی فہرستوں سے متعلق اعتراضات شفاف انداز میں دور نہ کیے گئے تو تنازع حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلاف سے آگے بڑھ کر انتخابی ادارے پر عوامی اعتماد کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بھارت میں انتخابی عمل کے بارے میں اعتراضات بیک وقت پارلیمانی سیاست، عدالت، الیکشن کمیشن اور سڑکوں پر سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں انتخابی شفافیت اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں، دوسری طرف الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں کی درستگی اور قانونی طریقۂ کار پر زور دے رہا ہے، جبکہ کمیشن کے اندر ریکارڈ کیے گئے اختلافات نے ادارے کے فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سافٹ ویئر کے جائزے کا فیصلہ اس بات کی اہمیت بڑھا دیتا ہے کہ انتخابی ڈیٹا کے نظام کو قابلِ تصدیق اور شفاف انداز میں جانچا جائے۔

 

 

Back to top button