4 اکتوبر کا لانگ مارچ بھی ناکام ہو گا: سہیل وڑائچ کا تجزیہ

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے تحریک انصاف کا لانگ مارچ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک موخر ہونے کے بعد اپنے سابقہ موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قیادت جو مرضی کر لے، اب احتجاجیوں کا اسلام آباد پہنچنا محال ہے۔ ان کے مطابق اگر پی ٹی آئی کا کوئی جلوس اسلام آباد پہنچ بھی جائے تو عمران خان کی رہائی کا امکان صفر ہو چکا ہے۔ انکے مطابق ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ یہ لانگ مارچ کیا واقعی تحریک انصاف کا آخری لانگ مارچ ہوگا یا اس کے بعد بھی کوئی نئی تحریک چل سکے گی؟
یاد رہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ 27 ستمبر کو ہونے والا لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا۔ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ محض ایک احتجاجی سرگرمی نہیں بلکہ پارٹی کی موجودہ قیادت کے لیے سیاسی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر یہ دباؤ موجود رہا ہے کہ اگر عمران خان کی رہائی کے لیے عملی جدوجہد نہیں کی جاتی تو موجودہ قیادت کی سیاسی حیثیت اور عہدے دونوں سوالیہ نشان بن سکتے ہیں۔ اسی لیے 27 ستمبر کا مارچ مؤخر ہونے کے باوجود اس کی سیاسی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے نتیجے پر نظریں مزید مرکوز ہوگئی ہیں۔
سینیئر اینکر پرسن کے مطابق تحریک انصاف کو ایک طرف اپنے کارکنوں اور حامیوں کو متحرک رکھنے کا چیلنج درپیش ہے اور دوسری طرف حکومت کی جانب سے اسلام آباد تک رسائی روکنے کے لیے کیے گئے انتظامات ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ لانگ مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دیا، ادھر حکومت نے اس فیصلے کو پارٹی کی ایک اور ناکامی قرار دیا ہے۔ سہیل وڑائچ نے اپنی تحریر میں چھریوں کی مختلف اقسام کو سیاسی کشمکش کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ سادہ الفاظ میں ان کا مطلب یہ ہے کہ سیاست میں بعض اوقات مخالفین براہ راست ٹکراؤ کے بجائے نرم رویے، اشاروں، دباؤ اور اندرونی سیاسی چالوں کے ذریعے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انکے نزدیک موجودہ صورت حال میں وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ خود تحریک انصاف کے اندر بھی مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف کے یوٹیوبرز اور عمران خان کی بہنوں کے سیاسی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے اندر ایک حلقہ بیرون ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا بیانیے اور دباؤ کو اہم سمجھتا ہے جبکہ پارٹی کی پاکستان میں موجود قیادت کے بعض ارکان اس طرز سیاست سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اسی اختلاف کو وہ مستقبل میں پارٹی کے اندر کھلی تقسیم کا سبب بننے والی ممکنہ دراڑ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اس اختلاف کا ایک اظہار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان شفیع جان کے بیانات میں بھی دکھائی دیتا ہے، جن میں بیرون ملک موجود یوٹیوبرز کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر وہ تحریک کے بارے میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو خود پاکستان آکر اس کی قیادت کریں یا احتجاجی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کریں۔ سادہ الفاظ میں یہ تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تحریک انصاف کے اندر بعض رہنما بیرون ملک سے پارٹی کی سیاست، حکمت عملی اور تنقید پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کے حوالے سے وڑائچ کہتے ییں کہ جب کوئی سیاسی جماعت مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہی ہو تو عہدوں اور اثر و رسوخ کی کشمکش اکثر پس پردہ رہتی ہے، لیکن مسلسل سیاسی ناکامیوں یا احتجاجی تحریکوں کے مطلوبہ نتائج نہ آنے کی صورت میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر جاتے ہیں۔
ان کے خیال میں تحریک انصاف کے اندر بھی بعض اختلافات اب محض ذاتی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ پارٹی کی آئندہ حکمت عملی، قیادت اور احتجاج کے طریقہ کار سے جڑ گئے ہیں۔
اسی تناظر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کھلی دشمنی بعض اوقات قابلِ فہم ہوتی ہے، لیکن بظاہر محبت اور خیرخواہی کے ساتھ کیے جانے والے طنزیہ یا زہریلے رویے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ سیاسی زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی کے اندر کھلے اختلاف سے زیادہ نقصان دہ وہ اختلاف ہوسکتا ہے جو بظاہر اتحاد کے پردے میں جاری رہے اور فیصلوں، بیانات اور افواہوں کے ذریعے ایک دوسرے کو کمزور کرتا رہے۔
سہیل وڑائچ نے کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی سیاست میں مختلف گروہ ایک دوسرے پر براہ راست حملہ کرنے کے بجائے اپنی اپنی سیاسی چالیں چل رہے ہیں اور ہر گروہ اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر جاری کشمکش کو بھی وہ اسی وسیع تر سیاسی مقابلے کا حصہ قرار دیتے ہیں جس میں کامیابی نہ ملنے کی صورت میں اندرونی اختلافات بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں اصل سوال عمران کی رہائی اور لانگ مارچ کے عملی نتیجے کا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر تحریک انصاف کا مارچ 4 اکتوبر کو شروع بھی ہوتا ہے تو اسلام آباد تک اس کی رسائی ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہوگی، جبکہ اسلام آباد پہنچنے کی صورت میں بھی صرف احتجاج کے ذریعے عمران خان کی فوری رہائی کا امکان ان کے نزدیک باقی نہیں رہا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اسکی جدوجہد آئینی اور سیاسی ہے اور مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی سمیت آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور جمہوری حقوق کا مطالبہ ہے۔ یوں 4 اکتوبر کا لانگ مارچ تحریک انصاف کے لیے صرف ایک احتجاجی تاریخ نہیں بلکہ اس کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر مارچ مؤثر عوامی دباؤ پیدا نہ کرسکا تو پارٹی کے اندر موجود اختلافات مزید نمایاں ہوسکتے ہیں، جبکہ اگر بڑی تعداد میں کارکن متحرک ہوئے تو تحریک انصاف اسے اپنی سیاسی جدوجہد کے نئے مرحلے کے طور پر پیش کرسکتی ہے۔
کیا خیبر پختونخوا میںPTI کی آخری پناہ گاہ بھی خطرے میں ہے؟
تاہم سہیل وڑائچ کے تجزیے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ موجودہ حالات میں لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کا راستہ کھول سکے گا یا نہیں، اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا 4 اکتوبر کا احتجاج تحریک انصاف کا آخری بڑا لانگ مارچ ثابت ہوگا یا اس کے بعد پارٹی کوئی نئی اور مختلف نوعیت کی سیاسی تحریک شروع کرنے میں کامیاب ہوگی۔
