سینٹ الیکشن سے پہلے شو آف ہینڈ کا قانون لانے کی کوشش کیوں؟

اگست 2019 میں ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو بچانے والی وفاقی حکومت نے اب مارچ 2020 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدو فروخت روکنے کے لیے آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد خفیہ ووٹنگ میں اپنے ووٹرز کو ادھر ادھر ہونے سے روکنا ہے۔ یاد رہے کہ اگست 2019 میں جب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی تو یہ طے تھا کہ وہ فارغ ہو جائیں گے۔ خفیہ رائے شماری سے پہلے جب شو آف ہینڈ ہوا تو یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ صادق سنجرانی کا جانا ٹھہر چکا ہے۔ تاہم جب خفیہ رائے شماری کے نتائج سامنے آئے تو حیران کن طور پر سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی جس کی بنیادی وجہ ان کو اپوزیشن جماعتوں کے 14 ووٹوں کا مل جانا تھا۔ اب جبکہ سینٹ کے انتخابات مارچ 2020 میں ہونا طے ہیں حکومت نے صادق سنجرانی ٹائپ کی کوئی کہانی اپنے خلاف دہرائے جانے کے خطرات کو ختم کرنے کے لیے خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں آئینی ترمیم کے ایک مسودے پر کام تیز کر دیا ہے۔
دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ اگر اسکی جانب سے لائی جانے والی ترامیم منظور ہو گئیں تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ماضی کی طرح ایک رکن اسمبلی کا ووٹ کروڑوں روپوں میں نہیں بکے گا۔ اس سلسلے میں سیکرٹ بیلٹ یعنی خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے لیے آئینی مسودے کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد انتخابی اصلاحات بل کا مسودہ جلد ہی ایوان میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اب تک سینیٹ انتخابات میں اراکین اسمبلی خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کاسٹ کرتے تھے اور علم نہیں ہوتا تھا کہ کس رکن اسمبلی نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ میں اگر امیدوار کو مطلوبہ تعداد میں ووٹ مل جائیں تو باقی ووٹ اگلے امیدوار کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس نئی آئینی ترمیم کے بعد اب ووٹ اوپن ہو جائے گا اور علم ہو سکے گا کہ کس رکن اسمبلی نے کس کو ووٹ دیا ہے۔ نئی ترامیم میں تجویز کیا گیا ہےکہ جس طرح سے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کا انتخاب ہوتا ہے بالکل اسی طرح سینیٹ چیئرمین کا انتخاب بھی کیا جائے اور ہارس ٹریڈنگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے۔
انتخابی اصلاحات ترمیمی مسودے کے مطابق سینیٹ کے انتخابات سنگل ٹرانسفر ایبل اوپن ووٹ کے ذریعے ہوں گے۔اس طریقہ کار کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کی جائے گی جس میں لکھا گیا ہے کہ سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ووٹ لیا جائے۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 59 کی شق 2 میں بھی ترمیم لائی جائے گی جس میں لکھا ہے کہ سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ ہو گا۔
حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے والے ممبران پارلیمنٹ اس امید کا اظہار کرر ہے ہیں کہ اگر واقعی یہ ترامیم منظور ہوگئیں تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ماضی کی طرح ایک رکن اسمبلی کا ووٹ کروڑوں میں نہیں بکے گا۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں سیکرٹ بیلٹ کے نظام کو تبدیل کرنا تحریک انصاف کے منشور میں شامل تھا اور ہم 2015 سے چاہتے تھے کہ خفیہ رائے شماری ختم ہو کیونکہ اس میں دھاندلی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کا نکتہ نظر یہی تھا کہ شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخابات نہیں ہو سکتے کیونکہ اس میں تکنیکی مسائل ہیں لیکن اُس وقت سینیٹ انتخابات کے طریقہ کار میں اس لیے ترمیم نہیں کی جا سکی کیونکہ سینیٹ انتخابات کا شیڈول آ چکا تھا، جس کے بعد طریقہ کار میں ترمیم کی گنجائش نہیں بنتی تھی۔
یاد رہے کہ رواں برس موجودہ حکومت نے شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخابات کرانے کی تجویز دی تھی لیکن وفاقی کابینہ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق شو آف ہینڈز کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے کی تجویز مسترد کرنے کا مقصد چھوٹی سیاسی جماعتوں کی حق تلفی کو روکنا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ کا یہ موقف ہے کہ حکومت یہ آئینی ترمیم مارچ 2020 کے انتخابات میں کسی بڑے آپ سیٹ سے بچنے کے لئے کرنا چاہتی یے کیونکہ اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ سینٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کیسے کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ شو آف ہینڈ کا لفظی مطلب یہ ہے کہ اراکین ایوان میں متعلقہ امیدوار کے حق میں اپنی نشست سے کھڑے ہو کر ووٹ دیں گے اور جتنے اراکین اس متعلقہ امیدوار کے حق میں کھڑے ہوں گے ان کی گنتی کر لی جائے گی۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ بتاتی ہے کہ سیکرٹ بیلٹ یا خفیہ رائے شماری سے ہارس ٹرینڈنگ کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ اس طرح اراکین کے نام سامنے نہیں آتے اور پس پردہ ساز باز کے ذریعے وفاداریاں بھی خریدی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کا موقف ہے کہ اوپن بیلٹنگ کا بنیادی مقصد سیاست میں پیسے کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہا کہ خفیہ طور پر اراکین ادھر ادھر ووٹ بیچتے رہے اس لیے سیکرٹ بیلٹنگ سے جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ ہے۔
2015 کے سینیٹ انتخابات میں آفتاب احمد خان شیرپاﺅ کی قومی وطن پارٹی کو شدید دھچکا لگا تھا جو دس اراکین کے باوجود سینیٹ کی ایک بھی نشست جیتنے میں ناکام رہے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں جتنے بھی سینیٹ کے الیکشن ہوئے ہیں ان میں الزام لگتا رہا ہے کہ پیسے کا استعمال کیا گیا اور پچھلی مرتبہ بھی ہوا کہ ایک پارٹی جس کی خیبر پختونخوا میں چند ہی سیٹیں تھیں وہ اپنے دو سینیٹر بنا گئے، اس کا مطلب ہے کہ وہاں پر لمبی ہارس ٹریڈنگ ہوئی تھی۔ اسی طرح یکم اگست 2019 کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد صرف اس وجہ سے ناکام ہوئی کہ اپوزیشن کے 14 سینیٹرز بک گئے اور یوں متحدہ اپوزیشن اکثریت کے باوجود صادق سنجرانی کو ہٹانے میں ناکام رہی۔
ہارس ٹریڈنگ کا بظاہر مطلب ‘گھوڑوں کے خرید و فروخت’ ہے، جسے سیاست میں اب کہاوت کے طور پر استعمال کیاجاتا ہے، لیکن لفظی طور پر ہارس ٹریڈنگ سے یہ مطلب اخذ کیا جاتا ہے کہ دو لوگوں یا پارٹیوں کے درمیان بات چیت سے ایسا اتحاد جس سے دونوں کا فائدہ ہو۔ اس کو دو گروہوں کے درمیان سودے بازی بھی کہا جاتا ہے۔ سیاست میں جب ایک جماعت دوسری جماعت کے اراکین کو پیسے یا عہدے کا لالچ دے کر اپنی حمایت میں ووٹ کروائے تو اسے سیاسی ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ ہمیشہ تب ہوئی ہے جب کسی ایک جماعت کی اکثریت نہ ہو لیکن وہ آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے اراکین کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی تعداد پوری کرے۔اس کی تازہ مثال گذشتہ سینیٹ انتخابات تھے جس میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر اراکین کے ووٹوں کی خرید و فروخت ہوئی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ وہ سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کرے گا۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور تحریک انصاف کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اراکین کے ساتھ ووٹوں کے لیے گٹھ جوڑ کیا ہے، جس کے بعد ہارس ٹریڈنگ کے ہی الزام میں تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ سے 13 اراکین کو فارغ کر دیا تھا۔
ماضی میں بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لیے مسلم لیگ ن نے بھی سیاسی ہارس ٹریڈنگ کی تھی، جو کہ ناکام ہوئی۔ ن لیگ کے انہی کارناموں کی وجہ سے اسے چھانگا مانگا کی سیاست کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔
