ملک بدری کے فیصلے کے بعد سنتھیا کی کھلم کھلا دھمکیاں


پاکستانی سیاستدانوں پر گھٹیا الزامات لگانے والی مشکوک امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی اپنا ویزا ختم ہونے پر وزارت داخلہ کی جانب سے 15 روز میں ملک چھوڑنے کے حکم نامے کے بعد کھلم کھلا دھمکیوں پر اتر آئی ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان چھوڑنے کے سوال پر سنتھیا نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر انھیں پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا تو وہ واشنگٹن پہنچ کر سب کا جینا حرام کر دے گی اور ایسے ہوشربا انکشافات کرے گی کہ جو پہلے نہ کبھی کسی نے نہ سنے ہوں گے نہ دیکھے ہوں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے سنتھیا پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف انتہائی غیر اخلاقی الزامات عائد کر چکی ہے جن کے بعد اسے عدالت کی طرف سے یہ ہدایت مل چکی ہے کہ وہ اب کسی سیاستدان کے خلاف کوئی نازیبا بات نہیں کرے گی۔
اس سے پہلے 2 ستمبر کے روزوفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں دس برسوں سے قیام پذیرمشکوک امریکی خاتون کو کسی خاص ایجنڈے کے تحت تحفظ فراہم کرنے کے الزامات لگنے کے بعد 15 روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا لیکن خاتون کا اصرار ہے کہ وہ پاکستان میں ہی رہے گی اور وزارت داخلہ کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔ سنتھیا کا پاکستانی ویزا31 اگست 2020 کو ختم ہو گیا تھا اور وزارت داخلہ نے اس کی پاکستان میں مزید قیام کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
وفاقی وزارت داخلہ کا یہ فیصلہ تب سامنے آیا جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنتھیا کو پاکستان سے ڈی پورٹ کرنے کی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام سے پاکستان میں موجود غیر ملکی افراد کی بزنس ویزا پالیسی طلب کی جس کے تحت امریکی خاتون پچھلے دس سال سے پاکستان میں قیام پذیر ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عدالت کے اسی حکم نامے کے بعد وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سنتھیا کے ویزے میں توسیع نہ کی جائے ورنہ حکومت کے لیے عدالت میں مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔
اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو دئیے گئے اپنے تحریری بیان میں سنتھیا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر پشتون تحفظ موومنٹ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے بارے میں تحقیق کرتی رہی ہیں اور آئی ایس پی آر کے اسلام آباد دفتر کے ساتھ بھی اسکے مستقل رابطے ہیں۔ لیکن اب 15 روز میں ملک چھوڑنے کا حکم ملنے بعد سنتھیا نے دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ ایک ٹی وی چینل پر سنتھیا رچی سے ڈی پورٹ کیے جانے کے فیصلہ پر ردعمل مانگا گیا تو اس نے کہا کہ اگر مجھے ملک بدر کیا گیا تو میں سب کا جینا حرام کر دوں گی، امریکہ پہنچ کر ایسے انکشافات کروں گی جو پہلے کبھی کسی نے نہ سنے ہوں گے۔ اس پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا وہ کسی فرد واحد کو دھمکی دے رہی ہے یاپھر ریاست پاکستان کو ڈرانا چاہتی ہیں۔ جواب میں امریکی خاتون نے کہا کہ وہ جو بھی معاملہ سامنے لائے گی اس کے ثبوت بھی ساتھ ہوں گے جن کو جھٹلانا کسی کے بس کی بات نہیں ہو گی۔ سنتھیا نے مزید کہا کہ کسی بھی قانون میں آزادی اظہارِ رائے پر پابندی نہیں لگائی گئی اور وہ خود پر کسی قسم کی پابندی برداشت نہیں کرے گی۔
دوسری طرف سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے سنتھیا کے اس دھمکی آمیز بیان کی مذمت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیا کوئی پاکستانی امریکی حکومت کی جانب سے سے ویزہ نہ ملنے یا ملک بدری کے احکامات کے جواب میں ایسی گفتگو کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے جیسی سنتھیا کر رہی ہے؟ صارفین کاکہنا ہےکہ کسی غیر ملکی خاتون کا اس طرح کھلم کھلا دھمکیاں دینا قانون اور ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور اسے 15 روز انتظار کرنے کی بجائے فوری طور پر پاکستان سے بے دخل کر دینا چاہیے۔تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ مقتدر قوتیں جو سنتھیا کو پچھلے دس برس سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بغیر کسی روک ٹوک کے رہائش کی اجازت دئیے ہوئے ہیں اس کی بے دخلی رکوانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ سنتھیا رچی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ پچھلے تین مہینے سے لفظی جنگ لڑنے میں مصروف ہے اور اس نے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف خود کو ریپ کرنے کا مقدمہ درج کرانے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ سنتھیا نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین پر بھی جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے جنہیں وہ پولیس اور عدالت کے سامنے ثابت کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ اس سے پہلے سنتھیا نے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر بھی نازیبا الزامات لگائے تھے اور بعد میں انکی وضاحت کر دی۔ سنتھیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 2018 کے الیکشن کے وقت تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ رہنے کی وجہ سے وہ وزیراعظم عمران خان سے بھی رابطے میں رہتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button