سینیٹ: اپوزیشن نےاوپن ووٹنگ بارے صدارتی آرڈیننس مسترد کردیا

سینیٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے اوپن ووٹنگ سے متعلق صدارتی آرڈیننس مسترد کردیا، ساتھ ہی پیپلزپارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے ’حکمران جماعت کے ایجنڈے کو فروغ‘ دینے کے لیے آرڈیننس جاری کرنے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کردیا۔
سینیٹ میں صدارتی آرڈیننس پر بحث کے ایک نکاتی ایجنڈے میں حصہ لیتے ہوئے رضا ربانی نے صدر پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جاننتے تھے کہ آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پہلے سے موجود ہے لیکن انہوں نے پھر بھی سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجا، صدر یہ بھی جانتے تھے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو انہوں نے موقوف کر رکھا ہے اور اگلے ہی دن یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریفرنس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے انہوں نے سینیٹ انتخابات پر آرڈیننس جاری کردیا۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ’آج ہمیں آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد پر غور کرنا چاہیے‘۔
سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت (آرڈیننس جاری کرنے کے بعد) اس آرڈیننس کو دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک کے پہلے اجلاس میں رکھنا چاہیے تھا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ اور سینیٹ کا ہفتہ کو ہوا لیکن آرڈیننس نہ تو اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ میں پیش کیا گیا۔انہوں نے اعتراض کیا کہ آرڈیننس عبوری قانون سازی کے لیے ہوتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ متعدد مرتبہ یہ قرار دے چکی ہے کہ اس طرح کی قانون سازی عارضی ہوتی ہے اور یہ زیادہ سے زیادہ 120 دن کے لیے رہ سکتی ہے اور اس کے بعد خود بخود ختم ہوجاتی ہے، اگر اس پر عمل درآمد نہ ہو تو اسے دوبارہ نامنظوری کی قرارداد کے ذریعے ایک طرف کیا جاسکتا ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ اگر سینیٹ انتخابات آرڈیننس کے تحت ہوتے ہیں تو پھر اس کے اثرات ہوں گے اور آرڈیننس کے ختم ہونے پر قانونی چارہ جوئی کا ایک طوفان برپا ہوجائے گا کہ آیا انتخابات جائز تھے یا نہیں، مزید یہ کہ صرف پارٹی (پی ٹی آئی) میں بغاوت کو روکنے کے لیے آئینی اداروں کو پامال کیا جارہا ہے۔
دوسری طرف وزیر اعظم کے معاون خصوصی بابر اعوان نے کہا کہ آئین میں لکھا گیا ہے حالات کے تناظر میں آرڈیننس جاری کیا جا سکتا ہے، آرڈیننس جاری کرنے والے عارف علوی پہلے صدر نہیں؟ آرڈیننس کی ایک تاریخ ہے، دور آمریت میں جو آرڈیننس جاری ہوئے ان کو بھی آئین تحفظ دیا گیا، حکومت نے قومی ضرورت کے مطابق تمام آئینی تقاضوں پر آرڈیننس جاری کیا، سپریم کورٹ ریفرنس پر جواب دینے کی پابند ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ صدارتی ریفرنس کے خلاف آیا تو یہ ختم ہو جائے گا، اگر یہ فیصلہ آرڈیننس کے حق میں آیا تو یہ رہے گا لیکن جو فیصلہ آنا ہے اس پر پہلے سے اندازے لگائے جا رہے ہیں۔
بابر اعوان نے کہا کہ وہ کیا ہے جو سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا ہے یہی آرڈیننس تو ہے ، وہ کوئی اجنبی نہیں ہے جس نے آرڈینس جاری کیا ہے ،یہ آرڈیننس دن کی روشنی میں صدر پاکستان نے جاری کیا ، جس طرح نے صدر نے آئینی تقاضوں کو پورا کیا کابینہ نے بھی کیا ،جس طرح نے صدر نے آئینی تقاضوں کو پورا کیا کابینہ نے بھی کیا یہ آرڈیننس دن کی روشنی میں صدر پاکستان نے جاری کیا ، جس طرح نے صدر نے آئینی تقاضوں کو پورا کیا کابینہ نے بھی کیا ،جس طرح نے صدر نے آئینی تقاضوں کو پورا کیا کابینہ نے بھی کیا، 100 بار بھی صدر کے خلاف مواخذے کے لیے تحریک لائیں ہم سامنا کریں گے اور اسے ناکام کریں گے،امریکہ میں یہ تحریک دو بار آئی اور ناکام ہوئی۔
سسی پلیجو نے کہا کہ پی ٹی آئی شروع سے ہی اصل معاملوں پر بھاگتی آئی ہے، یہ بات بالکل درست ہے کہ یہ حکومت آرڈیننس کی فیکٹری ہے، صدر کے مواخذے کا مطالبہ درست فیصلہ ہے، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ صدر کے خلاف مواخذے کی بات کی گئی ہو۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہ آرڈیننس عارضی قانون سازی ہے ، اس کی مدت 120 دن ہے، صدارتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد آج سینیٹ کا پہلا اجلاس ہے، صدارتی آرڈیننس کا اجرا بدنیتی پر مبنی ہے، صدر نے آئینی خلاف ورزی کرتے ہوئے صدارتی آرڈیننس جاری کیا، حکومت نے سینیٹ انتخابات کا مذاق بنا دیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا حق صرف پارلیمان کے پاس ہے، ہم اس آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں، ہم اس طرح کے اقدامات کی کسی صورت حمایت نہیں کریں گے، حکومت کی نیت ٹھیک ہے تو بل لے کر ایوان میں آئے، حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اپنے لوگ آپ کو ووٹ نہیں دے رہے، بس آپ کے لئے ایک طریقہ رہپ ہے کہ بندوق کے زور پر ووٹ لے۔
اس موقع پر وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان کرپشن نے پہنچایا ہے، جن ملکوں میں کرپشن ہے وہ سب سے پیچھے ہیں، جب تک کرپشن کاخاتمہ نہیں کیا جائے گا، ملک ترقی نہیں کرسکتا، کرپشن کی وجہ سے ادارے مفلوج ہوئے، اداروں میں میرٹ پر توجہ نہیں دی گئی یہ درست ہے سینیٹ کے الیکشن میں خریدوفروخت ہوتی ہے، ماضی میں سینیٹ الیکشن میں پیسے کا لین دین، ہارس ٹریڈنگ لازم و ملزوم بن گئی تھی ، کرپشن ختم نہ کرکے پارلیمنٹ اپنی حیثیت خود کم کر رہی ہے، ہماری قیادت نے جہاد شروع کیا کہ ملک کو کرپشن سے پاک کیا جائے لیکن یہ لوگ سیاست میں دولت اور دھونس کو لائےہیں، پیسے کوخدا نہ بنائیں میرٹ کو اپنائیں، ہماری قیادت نے جہاد شروع کیا کہ ملک کو کرپشن سے پاک کیا جائے، ایوان نے اس پر بات ہی نہیں کی کہ ہارس ٹریڈنگ کو کیسے ختم کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اس آرڈیننس کے اجراء پر صدر کے مواخذے کی بات درست ہے، ماضی میں بھی آرڈیننس جاری ہوتے رہے ہیں لیکن یہ حکومت تو انقلابی حکومت کے نام پہ بنی تھی، اگر اس طرح آرڈیننس ہی جاری ہونا ہے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دو، اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہے تو جائز طریقے اپنائے۔
