شائستہ ڈائرکٹ الیکشن جیتنے والی 9ویں رکن قومی اسمبلی


مسلم لیگی رہنما شائستہ پرویز ملک نے خاتون ہونے کے باوجود لاہور کے ایک انتخابی حلقے سے براہ راست قومی اسمبلی کا الیکشن جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یوں اب پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں ایک اور منتخب خاتون رکن کا اضافہ ہوگیا ہے، جس کے بعد براہ راست الیکشن جیت کر منتخب ہونے والی خواتین ارکان اسمبلی کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پاکستان جیسے ملک میں کسی خاتون کا براہ راست قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑ کر جیتنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اس سے پہلے شائستہ پرویز ملک خواتین کے لیے مختص سیٹ پر مسلم لیگ نواز کی جانب سے نامزد ہوئی تھیں، تاہم اپنے شوہر پرویز ملک کی وفات کے بعد انہوں نے ان کی سیٹ پر براہ راست الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب رہیں۔ معروف صحافی عبادالحق انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ گذشتہ 50 برس میں شائستہ پرویز پانچویں خاتون رکن قومی اسمبلی ہیں جو براہ راست الیکشن میں لاہور سے کامیاب ہوئی ہیں۔ پنجاب میں ان سے پہلے زرتاج گل، غلام بی بی بھروانہ، مہناز اکبر عزیز اور نوشین افتخار شامل ہیں۔ اس طرح سندھ سے سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی ڈاکٹر نفسیہ شاہ، شازیہ مری، شمسالنسا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا رکن اسمبلی ہیں۔ آصف زرداری کے سابق ساتھی ذوالفقار مرزا کی اہلیہ فہمیدہ اس وقت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے کھاتے میں وفاقی کابینہ کی بھی رکن ہیں۔ اس سے پہلے شائستہ پرویز ملک کی طرح نوشین افتخار بھی نواز لیگ کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب میں ڈسکہ سے جیتی تھیں۔ یاد رہے کہ شائستہ پرویز ملک اپنے شوہر اور نوشین افتخار اپنے والد کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی نشستوں پر کامیاب ہوئیں۔
عبادالحق بتاتے ہیں کہ ماضی میں لاہور سے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز، ثمینہ گھرکی اور شازیہ مبشر بھی رکن اسمبلی منتخب ہوئیں تھیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما ثمینہ گھرکی واحد خاتون رکن اسمبلی ہیں جو لگاتار دو مرتبہ لاہور سے کامیاب ہو کر قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔
بےنظیر بھٹو نے لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست خالی کر دی تھی جبکہ کلثوم نواز اپنی بیماری کی وجہ سے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہ اٹھا سکیں۔ کلثوم نواز کو نواز شریف کی نااہلی پر لاہور سے انتخاب لڑایا گیا اور اُن کی بیٹی مریم نواز نے اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلائی تھی۔ اس سے پہلے مریم نواز 2013 کے عام انتخابات میں اپنے والد نواز شریف کی انتخابی مہم کے دوران سیاسی افق پر نظر آئیں تھیں۔
کلثوم نواز کی کزن اور معروف پہلوان زبیر جھارا کی بیوہ سارہ زبیر نے 2013 میں لاہور سے نواز شریف کے مدمقابل کاغذات نامزدگی جمع کرائے لیکن بعد میں انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔
سارہ زبیر سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی سیاسی جماعت کی طرف سے امیدوار کے طور پر سامنے آئی تھیں۔ مریم نواز نے خود بھی 2018 میں انتخابی سیاست شروع کرنی تھی لیکن احتساب عدالت کی سزا کی وجہ سے وہ انتخابی معرکے میں نہ اتر سکیں۔
نومنتخب خاتون رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک کا شمار ان خواتین ارکان اسمبلی میں ہوگا جو مخصوص نشست پر منتخب ہوئیں اور بعد میں براہ راست انتخاب لڑ کر اسمبلی میں پہنچیں۔ ان خواتین میں حنا ربانی کھر اور فردوس عاشق اعوان کے نام بھی نمایاں ہیں۔شائستہ پرویز ملک اُن خواتین ارکان اسمبل بھی شامل ہیں جو اپنے شوہروں کے ساتھ بیک وقت رکن اسمبلی بننیں۔
الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کی انتخابی عذر داری پر سابق سپیکر ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا تو نئے انتخابات میں ایاز صادق کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ اُن کی اہلیہ نے متبادل امید وار کے طور پر کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے۔حکمران جماعت کے امیدوار کی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ نے اپنے شوہر کے متبادل کے طور کاغذات نامزدگی داخل کرائے لیکن دونوں میاں بیوی کے کاغذات مسترد ہوگئے۔
شائستہ پرویز ملک کے مدمقابل دیگر امیدواروں میں سے مزدور رہنما غلام فاطمہ بھی انتخابی میدان میں تھیں۔

Back to top button