شاہد آفریدی عمرانڈو بریگیڈ کی تنقید کا شکار کیوں بنے؟


میڈیا کی آنکھ کا تارہ اور کرکٹ شائقین سے عزت و تکریم حاصل کرنے والے سابق کپتان شاہد آفریدی اس وقت عمرانڈو بریگیڈ کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں، سابق آل رائونڈر نے عمران خان کی بطور وزیراعظم پالیسیوں کو نامناسب قرار دیا تو عمرانڈو بریگیڈ نے اپنی توپوں کے رخ شاہد آفریدی کے طرف موڑ دیئے۔

یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب شاہد آفریدی نے شہباز شریف کو وزیرِاعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی، ایسے میں پی ٹی آئی کے مداحوں نے تنقید کا رخ شاہد آفریدی کی جانب موڑ دیا۔ یاد رہے کہ شہباز کو مبارکباد دینے کے بعد آفریدی نے اپنے اگلے ٹویٹ میں کہا تھا کہ جب وقت رخصت آ جائے تو چاہے آپ حق پر ہوں، آپکو با وقار طریقے سے اپنی رخصت قبول کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات، سازشیں، حتیٰ کہ شکست بھی اقتدار کے کھیل کا حصہ ہوتی ہے، تاریخ کے صفحات میں بالآخر بات اخلاقی معیار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر آتی ہے، اسی سے انسانی تاریخ کے کردار امر ہوتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف ہونے والی تنقید کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ریاست، سیاست و حکومت سے بہت اوپر ہوتی ہے جہاں بات ریاست پر آئے، وہاں ہر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنی ریاست اور اس کے دفاع پر مامور اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، فوج والے بھی آپ کے اپنے ہیں، ایل او سی سے کوسٹ لائنز تک ہر سپاہی، ہر محافظ قابل احترام ہے، ہماری افواج ہیں تو ہم ہیں۔ اس کے بعد شاہد آفریدی نے عید پر ایک ٹی وی چینل پر بھی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عمران کو سڑکوں پر آنے کی بجائے پارلیمنٹ میں جانا چاہئے، پارلیمنٹ ایسی جگہ ہے جہاں عمران بھائی مضبوط اپوزیشن کے طور پر بہتر کردار ادا کر سکتے تھے۔ شاہد آفریدی نے شہباز شریف کی تعریف بھی کی اور کہا کہ میں ان کے کاموں کو پہلے دن سے سراہا رہا ہوں۔

دوسری جانب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے یوتھیوں نے شاہد افریدی پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی اور انکی خوب کلاس لی۔ عجیب بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ وہ بطور کرکٹر کئی مرتبہ پاکستانی ٹیم کو ہروانے کا باعث بنے کیونکہ وہ وکٹ پر ٹکتے ہی نہیں تھے۔ آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے صارفین ان کی شہباز شریف کے ساتھ لی گئی ایک پرانی تصویر شیئر کر رہے ہیں اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کو دی گئی مالی امداد کا ذکر کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آفریدی دراصل اس وجہ سے شہباز کی حمایت کر رہے ہیں کہ وہ ان سے پیسے لیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب آفریدی کا کہنا ہے کہ انہیں ماضی میں جو امدادی رقم ملی وہ ان کی جیب میں نہیں گئی تھی بلکہ اس ہسپتال میں خرچ ہوئی جو کہ تھر میں قائم ہے، خدارا شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کو اپنے سیاسی ڈرامے میں نہ گھسیٹیں۔ زیادہ تر عمرانڈو صارفین یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ شاید شاہد آفریدی کو سیاست میں لانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر صرف شاید آفریدی کے مخالفین ہی موجود نہیں بلکہ بڑی تعداد میں انکے حمایتی بھی ہیں۔ آفریدی کے مداحوں کی جانب سے ان کے حق میں ڈھیروں ٹوئیٹس کیے جا رہے اور انکے ناقدین کو اختلافِ رائے کا احترام کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

کرکٹر کامران اکمل نے شاہد آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اس طرح لالہ پر تنقید نہیں کر سکتے، بطور کرکٹر انھوں نے پاکستان کی بہت خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی رائے اور اپنے خیالات ہیں، برائے مہربانی آپ ان کے کرکٹ کریئر کو سیاست کے ساتھ مت جوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران کوئی خدا نہیں کہ جس پر تنقید ہی نہیں ہو سکتی۔

لیکن ایک اور صارف ارسلان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’شاہد بھائی یاد رکھیں عمران پر تنقید کرنا ’ریڈ لائن‘ کراس کرنے کے مترادف ہے، اس لئے پھر نہ کہیے گا کہ آپ سے بد تمیزی ہوئی۔ عمرانڈو قبیلے سے تعلق رکھنے والے اداکار کاشف محمود نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’کرکٹ کی تباہی کے بعد اب یہ بندہ سیاست کا فلاسفر بن رہا ہے، اور عمران کی غلطیاں نکال رہا ہے، آفریدی صاحب، سیانے کہتے ہیں کہ جس کا کام اسی کو ساجھے، کرکٹ تو آپ کو کھیلنی نہیں آئی، سیاست تو بہت آگے کی چیز ہے۔

Back to top button