شاہد خاقان نئی سیاسی جماعت کا پنگا کیوں لے رہے ہیں؟

نون لیگ کے سابق احسان فراموش وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے کھوکھلے دعوؤں کے بعد ملک میں ایک بار پھر ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی خبریں گرم ہیں اور مبصرین اس ممکنہ نئی جماعت کے حوالے سے کئی پہلوؤں پر بحث کر رہے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور نون لیگ کے اہم رہنما شاہد خاقان عباسی ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کے اسباب و محرکات اور مقاصد کو کئی حلقوں میں زیر بحث لایا جارہا ہے۔
اس حوالے سے لیگی رہنما اور سابق گورنر خیبر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان نے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ کافی عرصے سے ایسا سوچ رہے تھے اور کچھ عرصے پہلے لندن میں میاں نواز شریف صاحب سے ملاقات میں بھی انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔‘‘اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق میاں نواز شریف نے انہیں کہا تھا کہ اگر وہ بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیں۔جب اقبال ظفر جھگڑا سے دریافت کیا گیا کہ اس وقت شاہد خاقان عباسی کا پاکستان مسلم لیگ نون میں کیا اسٹیٹس ہے، تو انہوں نے جواب دیا، ” نہ ہی انہیں پارٹی سے نکالا گیا ہے اور نہ انہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اب پارٹی بنانے کے بعد وہ خود مسلم لیگ نون سے استعفیٰ دے دیں گے۔‘‘
تاہم پارٹی کی تشکیل کے حوالے سے متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس حوالے سے بتایا، ” مجھے پکا پتا نہیں کہ شاہد صاحب کوئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے مجھ سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ کچھ عرصے پہلے شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، سابق سینیٹر لشکری رئیسانی اور سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکر نے ملک کے مختلف علاقوں میں پاکستان کے مسائل کے حوالے سے سیمینارز منعقد کرائے تھے، جس کے بعد یہ خبریں گرم ہو گئی تھیں کہ یہ چاروں کوئی نئی پارٹی بنانے جا رہے ہیں. ان چار ممتاز شخصیات کے اس گروپ کی ایک اہم شخصیت لشکری رئیسانی بتایا، ” جب ہم یہ سیمینار منعقد کر رہے تھے تو اس وقت پارٹی کے مسئلے پر تھوڑی بہت بات چیت ہوئی تھی لیکن کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی تھی۔‘‘
دوسری جانب معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جب پارٹی کچھ رہنماؤں کو اچھے عہدے دیتی ہے، تو ان کا ذہن بدلنے لگتا ہے اور ان کی وفاداری پہ سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ ”غلام مصطفی جتوئی، غلام مصطفی کھر اور عبدالحفیظ پیرزادہ بھٹو صاحب کے قریبی لوگوں میں تھے۔ جب انہیں پارٹی نے عہدے دیے تو پارٹی کے لیے ان کی وفاداریاں مشکوک ہونے لگیں۔ ایسا ہی مسئلہ تقریبا شاہد خاقان عباسی اور چوہدری نثارکا ہے۔‘‘ سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ اس وقت عمران خان کی مقبولیت کی لہر ہے۔ ”اور جب تک عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے معاملات طے نہیں ہو جاتے اور ان کی مقبولیت کی لہر تھم نہیں جاتی، اس وقت تک کسی دوسری سیاسی جماعت کے لیے جگہ بننا مشکل ہے۔‘‘
دوسری جانب کئی نون لیگی رہنما کافی عرصے سے پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت سے نالاں نظر آتے ہیں، جس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ سردار مہتاب عباسی اور ان کے بیٹے شمون عباسی بھی شامل ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ناراض اراکین شاہد خاقان عباسی کی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں سینیئر صحافی حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ سردار مہتاب کا اپنے حلقے میں بہت اثر ورسوخ ہے۔ ”اور وہ ممکنہ طور پر شاہد خاقان عباسی میں کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔‘‘ظفر اقبال ظفر جھگڑا بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ” سردار مہتاب عباسی اور کچھ ناراض ارکان شاہد خاقان عباسی کی پارٹی کو جوائن کر سکتے ہیں۔‘‘
تاہم سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین جیسے کہ چوہدری نثار یا سردار مہتاب عباسی خود تھوڑے سے انا پسند ہیں۔ ”اس لیے ان کا شاہد خاقان عباسی سے شخصیت کا تنازعہ بن سکتا ہے۔ تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ شاہد خاقان عباسی کی پارٹی کو جوائن کریں گے۔‘‘
پاکستان میں کئی سیاسی جماعتیں طاقتور حلقوں کی مدد سے معرض وجود میں آتی ہیں اور بعض اوقات انہی کی معاونت سے پروان بھی چڑھتی ہیں۔ کیا شاہد خاقان عباسی کی جماعت کو بھی کسی طاقتور حلقے کی تھپکی ہے؟ سہیل وڑائچ کے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ ” شاہد خاقان عباسی خود اسٹیبلشمنٹ سے نالاں نظر اتے ہیں اور اس پہ تنقید کر رہے ہیں۔ تو یہ کیسے ممکن ہے؟ کہ وہ ہی شاہد خاقان عباسی کی نئی جماعت کی تشکیل میں معاونت کریں۔
تاہم ظفر اقبال جھگڑا کا کہنا ہے کہ پاکستان ممکنات کی زمین ہے۔ ” یہاں پر کچھ بھی ہو سکتا ہے بظاہر پتہ نہیں چلتا کہ کس کو کس کی حمایت حاصل ہے لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی نئی سیاسی جماعت کو ممکنہ طور پر طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل نہ ہو۔‘‘
