مولانا کشمیر کمیٹی لینگے یا گورنر شپ کے بدلے راضی ہونگے؟

حکومتی اتحادی جماعتوں نے اقتدار سے بے دخلی کے صدمے سے دوچار مولانا فضل الرحمٰن کو کسی بھی قیمت پر منانے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی قیادت کو ادراک ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے پاس سٹریٹ پاور ہے، کل اگر مولانا احتجاج کا اعلان کرتے ہیں اور پی ٹی آئی بھی ساتھ شامل ہو جاتی ہے تو حکومت کے لیے سنجیدہ خطرہ بن سکتا ہے اسی لیے اتحادی جماعتیں مولانا کو راضی کرنے کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہیں۔ نواز شریف کی مولانا سے ملاقات کے اثرات کابینہ کی تشکیل والے مرحلے تک نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ مولانا وزارتوں گورنر شپ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بننے پر رضامندی ظاہر کر سکتے ہیں۔
مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم دوسری جانب جے یو آئی کے سینیئر رہنما اسلم غوری کے مطابق نواز شریف نے دوران ملاقات وزارت عظمٰی کے ووٹ کے متعلق کوئی بات نہیں کی اور ان کی جانب سے مسلم لیگی وفد کو بتا دیا گیا ہے کہ ان کے موجودہ نظام کے متعلق تحفظات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’نواز شریف نے مولانا سے ناراضگی کی وجوہات ضرور پوچھی ہیں جس کے جواب میں مولانا نے انھیں بتا دیا ہے کہ ان کے الیکشن کمیشن اور جمہوریت کو کنٹرول کرنے والوں کے حوالے سے تحفظات ہیں۔‘اسلم غوری کا کہنا تھا کہ ’ہماری نواز شریف سے نہیں بلکہ موجودہ نظام سے ناراضگی ہے۔ نواز شریف پر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ اس نظام کا حصہ نہیں رہنا چاہتے۔‘’ہم تو اپنی موجودہ نشستوں سے بھی استعفے دینا چاہ رہے ہیں اور اس کے لیے پارٹی کے اندر مشاورت اور ماحول تیار کر رہے ہیں تاکہ جنرل کونسل کو اعتماد میں لیا جا سکے۔‘
شہباز شریف کو وزارت عظمٰی کا ووٹ دینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جے یو آئی کے سینیئر رہنما نے کہا کہ اگرچہ نواز شریف نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی لیکن ان سے پہلے ان کی پارٹی کے آنے والے وفود ووٹ مانگتے رہے ہیں اور اس معاملے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان کے خیال میں نواز شریف اور حکومتی اتحاد کو مولانا فضل الرحمان کے ووٹ کی ضرورت بھی نہیں ہے اور وہ بار بار ان کے پاس ووٹ کے لیے نہیں بلکہ اپوزیشن میں بیٹھنے سے روکنے کے لیے جا رہے ہیں۔’مولانا اگر اپوزیشن میں بیٹھ گئے تو وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر حکومتی اتحاد کے لیے بہت مشکلات پیدا کر دیں گے، اس لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی انہیں ایسا کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔‘ضیغم خان کا کہنا تھا کہ مولانا فوری طور پر حکومتی اتحاد کی بات نہیں مانیں گے اور امکان ہے کہ وہ وزیراعظم اور صدر دونوں عہدوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔ تاہم جس وقت زرداری ان کو منانے کے لیے نکلے اس وقت وہ رضامند ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ تینوں مولانا فضل الرحمان کے دوست تھے اور ان تینوں نے الیکشن میں مولانا کی مدد نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غصے میں ہیں۔ کیونکہ مولانا نے پی ڈی ایم بنا کر اور عمران خان کی حکومت گرا کر ان دوستوں کے لیے بہت کچھ کیا تھا اور اب بدلے میں انہیں کچھ نہیں ملا۔‘انہوں نے کہا کہ اگر مولانا شہباز شریف یا آصف زرداری کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ حیران کن ہو گا لیکن اگر وہ ان لوگوں کے منانے پر ان کے ساتھ شامل نہیں ہوتے تو وہ اس سے زیادہ حیران کن ہو گا۔’مولانا ابھی اسٹیبلشمنٹ کو بھی پیغام دے رہے ہیں کہ وہ ناراض ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ دوسری طرف حکمران اتحاد بھی مولانا کو تھوڑا وقت دے رہا ہے اور صدارتی انتخابات کے بعد وہ مولانا کو ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کریں گے جس کے بعد مولانا کے حکومت کے ساتھ مل جانے کے امکانات ہیں۔‘
دوسری جانب سینیئر صحافی مجیب الرحمان شامی سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ فی الحال حکمران اتحاد کو ووٹ نہیں دیں گے۔’مولانا فضل الرحمان کو بلوچستان میں بھی اپوزیشن کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ اس لیے وہ مشکل سے دوچار ہیں اور لگتا نہیں کہ آسانی سے ووٹ دے دیں گے۔ ہاں اگر نواز شریف نے کوئی انتہائی ذاتی نوعیت کی درخواست کی ہے تو پھر دوسری بات ہے۔‘
