شدت پسندوں سے معاہدہ بھلائی نہیں، تباہی کا نسخہ ہے


سینئیر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا ہے کہ کسی شدت پسند تنظیم کو پہلے دشمن ملک کا ایجنٹ قرار دینا، پھر اس پر پابندی عائد کرنا اور بعد ازاں اسکی جانب سے احتجاج کے بعد دباؤ میں آ کر اور بلیک میل ہو کر اس کے آگے گھٹنے ٹیکنا اور سمجھوتہ کرنا ریاست پاکستان کی بھلائی نہیں بلکہ تباہی کا نسخہ ہے جس سے پرہیز میں ہی پاکستان کی بقا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ بالآخر تحریک لبیک کے پرزور احتجاج کے اسکا حکومت سے معاہدہ ہو ہی گیا۔ اب تحریک لبیک دھرنا ختم کرے گی، تمام سڑکیں کھول دی جائیں گی، شہری جو بند سڑکوں کی وجہ سے پریشان تھے ان کی پریشانی ختم ہو گی – زندگی معمول پر واپس لوٹے گی۔ لبیک کے دھرنے میں اسلحہ بھی تھا اور ڈیزل کے بھرے ہوئے ڈرم بھی تھے لیکن معاہدے کے بعد لوگوں میں جو نفسیاتی خوف پھیلا ہوا تھا وہ ختم ہو گیا۔ اب مریض، مزدور، استاد، شاگرد اور گھبرائے ہوئے گھر میں بند تمام پاکستانی سکھ کا سانس لیں گے۔ پولیس فورس نے بھی شکر کیا ہو گا کہ ایک مسئلہ ختم ہوا، آخر ان کے تو دس ساتھی اس دوران اپنی جان سے گئے، اب رینجرز بھی اپنی بیس پر واپس لوٹیں گے۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ یہ غیر معمولی حالات کوئی بھی شخص پسند نہیں کرتا۔ یہ ہنگامی حالات انفرادی اور اجتماعی طور پر نقصان دہ ہیں۔ تو یقیناً اس مسئلے کے حل پر خوشی تو سب کو ہو گی، یہ اور بات کہ ایسی خوشی کے دن ہمیشہ تھوڑے ہوتے ہیں۔ حکومت اور لبیک کے مابین حالیہ معاہدے معاہدے کے بعد کہیں کوئی بہت بڑی کامیابی کی بات کر رہا ہے تو کئی مذاکرات کرنے کی مہارت کی قصیدہ گوئی فرما رہے ہیں! حکومت اور لبیک کے مابین معاہدے کے اعلان کے لیے کی جانے والی پریس کانفرنس میں بہت کچھ کہا گیا۔ جوش پر ہوش حاوی ہوا، قوم کی فلاح کے لیے فیصلے ہوئے اور ملک کو انتشار سے بچایا گیا۔ مفتی منیب نے بتایا کہ جو اسلحہ پاکستان میں بنتا ہے، اسے اپنے لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ دشمنوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن معاہدے کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں گئیں۔
مفتی صاحب نے معاہدے کے نقاط کے بارے میں بات نہیں کی۔ ان کا یہ کہنا کہ میڈیا بات نہ کرے اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد میں شاید اب بھی کچھ مسئلہ ہے ورنہ خاموش رہنے کی بات کیوں ہوتی۔
بقول نسیم زہرہ جو خبریں سامنے آئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حکومت ماضی کے معاہدوں پر عمل کرے گی، تحریک لبیک اب سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو گی اور اس پر عائد پابندی واپس لے لی جائے گی، یوں کبیک ایک سیاسی جماعت کی مانند متحرک رہ سکتی ہے لیکن تشدد سے گریز کرے گی۔ اس سب کا مطلب یہ ہوا کہ اسکے رہنماؤں کے ام فورتھ شیڈول سے بھی نکال دیے جائیں گے، لبیک وعدہ کرے گی کہ اب دھرنے نہیں ہوں گے اور پولیس اور ریاستی اداروں پر حملے بھی نہیں ہوں گے۔ یاد رہے کہ اسی حکومت نے اپریل 2021 میں لبیک کو کالعدم قرار دیا تھا لیکن اس اب فیصلے کو تبدیل کیا جائے گا۔
یعنی وزیر اعظم اور ان کے وزراء نے تحریک لبیک پر بھارتی فنڈنگ سے چلنے والی عسکریت پسند تنظیم ہونے کا جو الزام لگایا تھا وہ اب ہوا ہو گیا ہے- لیکن اسی کے ساتھ ریاست پاکستان کی رٹ بھی ہوا میں اڑ گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں بات چیت کی پالیسی اور ہر قیمت پر دھرنے والوں پر گولی نہ چلانا اور دھرنا ختم کروانا طے ہوا۔ اور پھر یوں ہی ہوا۔ راولپنڈی اور آبپارا میں تیار کردہ پالیسی پر پورا پورا عمل ہوا۔ بقول نسیم زہرہ، یہ حکومت چلانے کا ایک نرالا طریقہ ہے۔ چاہے ہمیں اس طریقے سے جتنی بھی واقفیت ہو! کچھ ہزار لوگ باہر نکلیں، کچھ کو قتل کریں، کچھ دھرنے کریں، اسلام کا نام لیا جائے اور پھر ان کی مرضی کا معاہدہ ہو جائے۔ لیکن یہ سب کرتے ہوئے ریاست پاکستان نے اپنی رٹ اور آئین پاکستان کو بھی پامال کیا ہے ہے جس کا نقصان نہ صرف ملک بلکہ اس کے عوام کو بھی اٹھانا پڑے گا۔ نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ یہ سب کچھ پاور پلے کا ایک رخ ہے جس میں شراکت کاری بہت سے اداکاروں کی اور اداروں کی رہی ہے- تاہم یاد رکھا جائے کہ یہ نسخہ قانون کی بالادستی کا ہر گز نہیں۔
جسٹس منیر کمیشن نے اس مسئلے کا عندیہ 1954 میں دیا تھا – لیکن ریاست اور سیاست اس خطرناک راستے کو چھوڑنے سے اب تک انکاری نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے مستقبل کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

Back to top button