شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

سپریم کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔
20 سے زائد شوگر ملز مالکان نے شوگر انکوائری کمیشن کی تشکیل اور رپورٹ کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر 17 اگست کو عدالت عالیہ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے شوگر انکوائری کمیشن اور انکوائری رپورٹ کو کالعدم قرار دیا تھا۔وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن رپورٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اب سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی گئی۔ عدالت عظمیٰ نے سندھ کی 20 شوگر ملز اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے اور کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
سماعت کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ کمیشن پر ایک اعتراض یہ تھا کہ کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کمیشن میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہونے چاہئیں تھے جو نہیں تھے۔اٹارنی جنرل نے دلائل دئیے کہ کمیشن نے رپورٹ میں کوئی سزا تجویز نہیں کرنی تھی بلکہ مزید تحقیقات محکموں نے خود کرنی تھی، نوٹیفکیشن جاری ہو گیا تھا لیکن گزٹ میں تاخیر سے شائع ہوا، سندھ ہائی کورٹ نے ایک بنیاد یہ بھی بنائی کہ کمیشن میں آئی ایس آئی سے ایک رکن بعد میں شامل کیا گیا جو غلط ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی سے رکن کی شمولیت بھی دیگر اراکین کے ساتھ ہی ہوئی تھی لیکں اس کی منظوری کابینہ نے اگلے روز دی، رپورٹ سے کسی شوگر مل کا حق متاثر نہیں ہوتا، رپورٹ پر کارروائی کے لیے تمام قواعد پر مکمل عمل ہوا۔عدالت نے اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد وفاقی حکومت کی سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ عبوری طور پر معطل کر دیا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فارنزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں۔ فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جب کہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے چینی پر 29 ار ب روپے کی سبسڈی کا معاملہ قومی احتساب بیورو(نیب) اور ٹیکس سے متعلق معاملات فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) کو بھیجنے کا فیصلہ کیاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button