شہباز، حمزہ اور مریم کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کااعلان

تحریک انصاف کے رہنما وسابق وفاقی وزیر  فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں شہباز شریف، حمزہ اور مریم نواز کی بریت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں۔

لاہور میں عمرا ن خان کی رہائش گاہ کے باہر  مسرت جمشید چیمہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ کل پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا جائے گا کیونکہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ہر شہری تشویش کا شکار ہے، پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ہر پاکستانی تشویش کا شکار ہے کہ کس طرح پاکستانی حکومت کو چلایا جا رہا ہے، صرف کابینہ بنانا اور بیرونی دوروں پر جانا حکومت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چمن بارڈر پر جس طرح کی صورتحال ہے اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات مکمل منقطع ہیں، بین الاقوامی تعلقات کی یہ صورتحال ہے کہ کوئی بھی دوست ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آرہا اور پاکستان کی معیشت مسلسل سست روی کی طرف جارہی ہے، ایک طرف وزیر خارجہ کے دوروں پر پونے 2 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں مگر دوسری طرف سفارت خانوں میں تنخواہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کا براہ راست تعلق پاکستان کی سیاست سے ہے اور جب تک پاکستان کی سیاست مستحکم نہیں ہوگی اس وقت تک معیشت میں بھی استحکام نہیں آئے گا اور اس کو استحکام میں لانے کا واحد طریقہ انتخابات ہیں، وہ حکومت جس کا ہر شخص اربوں روپے لوٹ کر کے باہر لے گیا ہو اس کو لگتا ہے کہ اپنی گھڑی بیچنا بھی جرم ہے اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں جانا بھی جرم ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان کی آج تحریک انصاف کے وکلا کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے جس میں طے کیا گیا ہے کہ جس طرح قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کو چلینج کیا گیا اسی طرح مریم نواز، حمزہ شہباز، شہباز شریف کی بریتوں کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں۔

عمران خان کی اہلیہ اور بنی گالا کے سابق نگران انعام خان کی آڈیو لیک کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف آڈیوز ریکارڈ کرکے ان کو جوڑا گیا ہے جس کی وجہ سے ان میں کوئی صداقت نہیں ہے، اگر کسی کا خیال ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز یا آڈیوز سے سیاسی فائدہ لیں گے اور عمران خان کو کرپٹ ثابت کریں گے تو ان خیالوں کی دنیا سے باہر آجائیں، پاکستان میں ہمیشہ مقبول رہنماؤں پر حملے ہوتے رہے ہیں اور ان پر مقدمات بھی بنتے رہے ہیں، لیکن اس وقت ملک کی 66 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہمارے مستقبل کی امید ہیں۔

Back to top button