شہباز گل پر بغاوت کا کیس باقی کیسز سے مختلف کیوں ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے بد زبانی چیف آف سٹاف شہبازگل پہلے سیاستدان نہیں جنہیں بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے، ماضی میں بھی کئی سیاستدانوں کے خلاف غداری اور بغاوت کے مقدمات قائم کئے گئے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پارٹی چیئرمین کے غیر منتخب چیف آف سٹاف نے ایک لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران فوجی جوانوں کو ان کی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی ہو۔
شہباز گل کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق ان پر ’بغاوت، ریاست کے خلاف محاذ آرائی، فوج میں بغاوت یا فوجی جوانوں کو بغاوت پر اُکسانے اور عوام میں انتشار پھیلانے‘ جیسے الزامات شامل ہیں، ان الزامات کی وجہ شہباز گل کا وہ آڈیو بیان بنا جو انھوں نے اے آر وائے پر ایک پروگرام کے دوران دیا، اے آر وائے کی انتظامیہ اور چند اینکرز پر بھی ایسے ہی الزامات کے تحت مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل اور اے آر وائے کی انتظامیہ نے ملی بھگت کے ساتھ ایک سازش تیار کی اور شہباز گل نے اسی کے تحت ایک سکرپٹڈ بیان ٹی وی پر فون کال کے دوران دہرایا۔
یاد رہے کہ شہباز گل منتخب عوامی نمائندے نہیں ہیں اور نہ ہی انھوں نے انتخابی سیاست میں براہِ راست حصہ لیا ہے تاہم وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر رہ چکے ہیں اور اب ان کے چیف آف سٹاف ہیں جوکہ پاکستانی سیاست میں ایک نیا عہدہ ہے، شہباز گل پاکستان کی پہلی سیاسی شخصیت نہیں ہیں جن کے خلاف ’’بغاوت‘‘ کے مقدمات درج کیے گئے ہوں۔ چند ایک سیاسی شخصیات کو اس سے پہلے ان الزامات کے تحت سزائیں بھی ہو چکی ہیں جن میں جاوید ہاشمی کا نام نمایاں ہے۔
اس سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف پولیس نے 2020 میں ’بغاوت‘ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، نواز شریف اور ان کی جماعت کے درجن بھر رہنماؤں کے خلاف درج اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی تقاریر میں فوجی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ’نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئی تقاریر میں کُھلے عام عوام کو فوج کے خلاف بغاوت کی ترغیب دی تھی، نواز شریف لندن میں مقیم ہیں تاہم ان کی صاحبزادی مریم نواز پاکستان میں موجود ہیں۔
مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی جاوید لطیف کے خلاف گذشتہ برس ’اداروں کو بُرا بھلا کہنے‘ اور ’نفرت پر مبنی بیانات دینے‘ کے الزام پر مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ ان کے خلاف کیس میں بھی زیادہ تر وہی دفعات ایف آئی آر میں شامل کی گئی تھیں جو شہباز گل کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں شامل ہیں۔ شہباز گل کی طرح جاوید لطیف کے خلاف بھی مقدمہ ایک ٹی وی پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔ لاہور کی ایک عدالت کی جانب سے ان کی قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد ہونے پر پولیس نے انھیں عدالت سے گرفتار کر لیا تھا۔
تاہم چند ماہ جیل میں رہنے کے بعد لاہور ہی کی ایک عدالت نے جاوید لطیف کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا، اس وقت وفاق اور صوبہ پنجاب میں تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔ سینیئر سیاستدان اور سابق ممبر قومی اسمبلی جاوید ہاشمی بھی 2003 میں اسی طرح خبروں کا مرکز بنے تھے، انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کارگل جنگ کے دوران سینکڑوں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کی ذمہ داری ایک جرنیل پر عائد کرتے ہوئے ایک خط تقسیم کیا تھا۔ اس خط کا عنوان تھا ’قومی قیادت کے نام‘ اور یہ پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر کے لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا تھا جو مبینہ طور پر چند نامعلوم فوجی افسران کی جانب سے لکھا گیا تھا۔
تب جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی، جاوید ہاشمی کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف ’بغاوت اور فوج کو بغاوت پر اکسانے‘ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ان کے خلاف مقدمہ چلا جس کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت نے انھیں 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
لگ بھگ چار برس جیل میں رہنے کے بعد 2007 میں سپریم کورٹ نے جاوید ہاشمی کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا، جاوید ہاشمی اس وقت مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر تھے، تحریک انصاف کی مرکز میں حکومت ختم ہونے کے بعد رواں برس کراچی سے پی ٹی آئی کے رہنما عالمگیر خان کے خلاف بھی ’بغاوت‘ اور ’انتشار پھیلانے کی کوشش کرنے‘ کے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا گیا تھا، گلشنِ اقبال تھانے میں درج مقدمے میں عالمگیر خان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے ایما پر کراچی میں وال چاکنگ کی گئی تھی جس میں ’حساس ملکی اداروں اور اعلٰی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ‘ بنایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس نوعیت کی وال چاکنگ سے انتشار پھیلنے کا خطرہ تھا۔
تاہم عالمگیر خان کے خلاف عدالت نے ’بغاوت‘ کی بنیاد پر قائم مقدمہ ختم کر دیا تھا، عدالت کا کہنا تھا کہ بغاوت کا مقدمہ وفاقی حکومت کی رائے کے بغیر درج نہیں کیا جا سکتا تھا، پاکستان میں ریاست سے بغاوت کے مقدمات کی فہرست طویل ہے تاہم راولپنڈی سازش کیس، اگرتلہ سازش کیس، حیدرآباد ٹریبیونل اور اٹک سازش کیس ان میں نمایاں ہیں۔ فروری 1951 میں 13 فوجی افسروں اور چار سویلین افراد کو، جن میں میجر جنرل اکبر خان، شاعر فیض احمد فیض اور کمیونسٹ رہنما میجر اسحاق نمایاں تھے، ریاست کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا جو بعد میں راولپنڈی سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا۔
15 جون 1951 کو اس مقدمہ کی سماعت حیدر آباد سینٹرل جیل میں شروع ہوئی جو ڈھائی سال تک جاری رہی۔ جسٹس محمد شریف نے اس سازش کے مرکزی کردار میجر جنرل اکبر خان کو 12سال قید کی سزا سُنائی۔ دوسرے تمام فوجی افسروں کو بھی سزا سُنائی گئی۔
1955 میں لاہور ہائی کورٹ نے اپیل میں انھیں بری کر دیا تو چند گھنٹوں بعد انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا لیکن بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا اگرتلہ سازش کیس پاکستان کی تاریخ کاسب سے اہم بغاوت کا مقدمہ کہا جا سکتا ہے، اس کی کڑیاں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام سے ملتی ہیں، چھ جنوری 1968 کو حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے 28 افراد کو گرفتار کیا ہے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان میں فوجی افسر جیسے لیفٹیننٹ کمانڈر معظم حسین اور دوسرے سویلین افراد شامل تھے۔
18 اپریل 1968 کو عوامی لیگ کے سربراہ شیخ جیب الرحٰمن کو جنرل ایوب خان کے حکم پر گرفتار کیا گیا اور جلد ہی رہا کر دیا گیا لیکن 9 مئی کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا، جون میں اس مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی اور 35 افراد پر مسلح بغاوت سے پاکستان کو اس کے ایک حصہ سے محروم کرنے کی سازش کا الزام لگایا گیا۔ سب نے صحت جرم سے انکار کیا۔
تین اگست 1971 کو شیخ مجیب الرحمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا اور فیصل آباد (اس وقت لائل پور) کی ایک جیل میں ججوں کے ایک پینل نے مجیب الرحمن مقدمہ کی سماعت شروع کی جس کا مجیب الرحمان نے بائیکاٹ کیا اور ججوں نے انھیں مجرم قرار دیا۔ شیخ مجیب الرحمان کو میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا۔ 16 دسبر 1971 کو پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دیئے اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مجیب الرحمن کو پاکستان سے رہا کیا گیا، وہ بنگلہ دیش کے پہلے سربراہ حکومت بنے۔
ایک اور اٹک سازش کیس صدر جنرل ضیا الحق کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے جب جنوری 1984 میں 14 فوجی افسروں اور تین سویلینز پر، جن میں وکیل رضا کاظم نمایاں تھے، حکومت کے خلاف سازش کا الزام لگایا گیا اور انھیں اٹک قلعہ میں قید کیا گیا، الزام تھا کہ انھیں انڈیا سے سمگل شدہ اسلحہ مہیا کیا گیا تھا۔
14 جولائی 1985 کو 12 ملزموں کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا جبکہ تین ملزموں کو سزا سُنائی گئی اور وہ 1988 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اقتدار میں آنے پر رہا کیے گئے، سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں بھی زیادہ تر وہ دفعات موجود ہیں جو اس سے قبل کئی سیاسی شخصیات کے خلاف درج ‘بغاوت’ کے مقدمات میں شامل کی جاتی رہی ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ شہباز گل نے جس قسم کے بیانات دیے ہیں اس نوعیت کے براہِ راست بیانات اس سے قبل کسی سیاستدان نے نہیں دیئے، وہ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی کئی سیاستدان فوج کے سیاست میں کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن اس طرح کھلے عام فوج میں بغاوت شہباز گل سے پہلے کسی سیاستدان نے نہیں کی۔ انکے مطابق یہی وجہ تھی کہ اس سے قبل جتنے سیاستدانوں پر ’بغاوت‘ کے الزامت لگے، ان میں انھیں رہائی مل گئی۔ تاہم شہباز گل کے مقدمے میں معاملہ زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ جلد باہر آجائیں گے یا لمبا عرصہ قید کاٹیں گے۔

Back to top button