شہباز گل کی جانب سے خاتون جج کے خلاف قانونی کارروائی

ایک خاتون جج کو دھمکانے کے الزام پراسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کا سامنا کرنے والے عمران خان کے ایما پر شہباز گل کے بھائی نے جج زیبا چودھری کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ہی پاس ایک شکایت درج کروا دی ہے تاکہ کپتان اپنے اس موقف کو سچ ثابت کرسکیں کہ انہوں نے جج کو قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی جس پر عمل درآمد بھی ہو چکا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ پاک فوج کے جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے بھائی یسٰین گل نے انہیں ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دینے پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف شکایت درج کروا دی ہے۔ یوں عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اپنا دفاع مضبوط کر لیا ہے کیونکہ اب وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے خاتون جج کو قانونی کارروائی کی دھمکی دی تھی اور اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس انکے خلاف شکایت جمع کروائی جا چکی ہے۔ یسٰین گل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور عدالت کی انسپکشن ٹیم کے رکن کو شکایت درج کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہباز گل پر پولیس تشدد کا علم ہونے کے باوجود جج صاحبہ نے دوبارہ سے پولیس ریمانڈ دے کر جانبداری کا مظاہرہ کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے الزام کا دفاع کرنے کے لئے شہباز کے بھائی یاسین گل کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خاتون جج کے خلاف شکایت درج کروائی ہے اور سنگین الزامات لگائے ہیں، شکایت میں کہا گیا ہے کہ خاتون جج نے 17 اگست 2022 کو عدالتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور توہین کرتے ہوئے شہباز گل کے مزید ریمانڈ کا حکم جاری کیا۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ زیبا کا فیصلہ سنگین بددیانتی اور بد نیتی کے مترادف ہے کیونکہ اس میں جانبداری کی نظر آتی ہے۔ یاسین گل کی شکایت کے مطابق زیبا چوہدری نے شہباز گل کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی کیونکہ وہ اس معاملے کو صرف جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس ہی بھیج سکتی تھیں۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ خاتون جج عدالتی اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق کیس سننے سے انکار کر سکتی تھیں لیکن وہ اپنے اس عمل سے تفتیشی ایجنسی کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں تاکہ شہباز گل پر جسمانی تشدد کے ثبوت مٹا کر ذمہ داران کو بچایا جا سکے۔ یاسین گل کی شکایت میں زیبا چوہدری کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ کوہسار پولیس نے شہباز گل کو 9 اگست کو گرفتار کیا تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے اسے 12 اگست تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر خان جدون نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عدنان کے سامنے نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی جسے خارج کر دیا گیا تھا۔ جب یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہنچا تو قائم مقام چیف جسٹس جسٹس عامر فاروق نے نظرثانی درخواست کا فیصلہ قانون کے مطابق کرنے کی ہدایت کے ساتھ کیس دوبارہ سیشن کورٹ میں بھیج دیا، بعدازاں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کو دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ تاہم خاتون جج کے ریمانڈ منظور کرنے کے حکم کو عمران کی جانب سے ایک عوامی خطاب میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے خاتون جج کو شرم دلاتے ہوئے کہا تھا کہ تم سے حساب لیا جائے گا اور تمہارے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے شہباز گل کے ریمانڈ کی درخواست کو نمٹاتے ہوئے خاتون جج زیبا چوہدری کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔ دوسری جانب عمران کی جانب سے زیبا چوہدری اور ائی جی اسلام آباد پولیس کو دھمکانے کے الزام پر انکے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اسکے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے خاتون جج کی توہین پر عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو طلب کر لیا تھا۔
