مولانا طارق جمیل کا سیلاب کو عذاب الٰہی قرار دینے پر رگڑا

گلوکاری کے میدان میں ناکام ہونے کے بعد تبلیغی بن کی دین فروشی کے دھندے سے وابستہ ہو جانے والے نام نہاد عالم دین مولانا طارق جمیل کو سیلاب جیسی ناگہانی آفت کی ذمہ داری پاکستانی قوم کے اعمال پر ڈالنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مولانا نے بارشوں سے آنے والے سیلاب میں ڈوبنے والوں کو یہ مفت مشورہ دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی اجتماعی معافی مانگیں اور توبہ کریں تاکہ آفت ٹل جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے مولانا طارق جمیل کرونا کو بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب قرار دیتے ہوئے اسکی ذمہ دار ی بھی لوگوں کے اعمال پر ڈال کر انہیں اجتماعی معافی مانگنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بیان داغنے کے ایک ہفتہ بعد ہی مولانا طارق جمیل خود بھی کرونا کا شکار ہوگئے تھے۔
خیال رہے اس وقت پاکستان میں ناگہانی آفت سیلاب کی صورت میں ہر طرف تباہی مچا رہی ہے، جس سے عوام پریشانی سے دوچار ہیں، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے سیلاب اور طوفانی بارشوں کو عذاب الٰہی قرار دیتے ہوئے عوام سے اجتماعی توبہ کی تلقین کر دی ہے۔ مولانا طارق جمیل نے بارشوں اور سیلاب سے آنے والی تباہی کو اللہ کے غضب کی نشانیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مخلوق سے ناراض ہے اور اس آفت کا علاج یہی ہے کہ ہم سب مل کر اجتماعی توبہ کریں، اور اپنے اگلے پیچھے گناہوں کو تسلیم کرتے ہوئے دل سے اللہ سے معافی مانگ لیں۔ مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہمارے ملک پر جو آفت آئی ہے، اس کا اصل علاج یہی ہے کہ ہم سب مل کر توبہ استغفار کریں، ہم سب اللہ کی طرف سے آزمائشوں کا شکار ہیں، اس سال جو بارشوں کا طوفان آیا یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی واضح علامت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا تھا کہ جب تو ناراض ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں بارشوں کو بے وقف کر دیتا ہوں۔
اپنی جوانی میں جمی بھائی کے نام سے گلوکاری کرنے والے مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ کہ یہ بارشیں لاہور میں بھی آ سکتی تھیں، ملتان میں بھی آ سکتی تھیں اور پورے پنجاب میں بھی آ سکتی تھیں، لیکن انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں کا رخ کیا۔ ہم وہاں کے بھائیوں کے درد میں برابر کے شریک ہیں جن کے گھر، مال مویشی اور بچے بہہ گئے۔ مولانا طارق جمیل نے عوام سے اپیل کی کہ اس وقت جس کے پاس جو ہے وہ اللہ کے نام پر نکالے اور سیلاب زدگان کی مدد کرے، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے لوگوں کو کہا کہ وہ انکی فاؤنڈیشن کو دل کھول کر عطیات دیں تا کہ سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کی جا سکے، انہوں نے کہا کہ راجن پور، تونسہ اور جنوبی پنجاب کے جتنے علاقوں میں نقصان ہوا ہے، وہاں میری فائونڈیشن ان بھائیوں کی مدد کرے گی۔
تاہم سوشل میڈیا پر مولانا طارق جمیل کی جانب سے بارشوں اور سیلاب کو عذاب الٰہی قرار دینے کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا صارف یاسمین قاضی نے مولانا طارق جمیل کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ "بہت گناہ کرتے ہیں نا یہ غریب لوگ، زندگی بھر جہنم جھیلتے ہیں ہر سال ان کو خدا ایک بڑی سزا دیتا ہے، امیروں سے سیکھیں کوئی گناہ نہیں اس لیے کوئی سزا بھی نہیں عیش ہی عیش۔
‘
سوشل میڈیا صارف اسما اعظم نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ مطلب جہاں جہاں سیلاب آیا وہ گنہگار ہیں اور باقی جو محفوظ رہے وہ نیکو کار۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو دکھ اور تکلیف میں بھی اپنی دوکانداری سے باز نہیں آ سکتے؟ ایک تو اس آفت کا شکار لوگ انتہائی مشکل وقت سے گزر رہے اور اوپر سے ڈرامے باز مولانا طارق جمیل اسے ان کے گناہوں کی سزا قرار دے رہے ہیں، حد ہے!
