شیریں مزاری کی علی ظفر کو قومی ایوارڈ دینے کی مخالفت


وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے گلوکار علی ظفر کو سول ایوارڈ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ریاست کو کسی بھی ایسے شخص کی قومی سطح پر حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جس پر خواتین کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام لگا ہو۔
شیریں مزاری نے ایوان صدر میں ایک تقریب کے دوران گلوکار علی ظفر اور میشا شفیع کے مبینہ ہراسانی کیس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی عورت ہراسانی سے متعلق شکایت کرتی ہے اور وہ شوبز میں ہے تو آپ سمجھیں گے کہ وہ غلط کر رہی ہے۔ دوسری جانب جب شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والے مرد عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ان پر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے۔
شیریں مزاری نے کہا بحیثیت حکومت، بحیثیت ریاست ہمیں ہر ایسے شخص کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جس پر کہ جنسی ہراسانی کا الزام لگا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی ایوارڈز دینے کے لیے خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کے اموں پر غور بھی نہیں کرنا چاہیے جب تک قانون پوری طرح اپنا فیصلہ نہ کردے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے کیسز سپریم کورٹ میں ہیں، ہراسانی کے مقدمات بہت زیادہ تاخیر کا شکار ہیں کیوں کہ انہیں سنا نہیں جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ ملزمان طاقتور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں مثالی طور پر آگے بڑھنا ہے تو ہمیں خواتین کے ساتھ ہراسانی کے معاملے خلاف بہت واضح اور ٹھوس مؤقف اپنانا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں صرف ہراسانی کی بات نہیں کر رہی، ہمارا مؤقف صنفی تشدد سے متعلق بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے ایک ایپلی کیشن متعارف کروائی ہے اور ہماری ہیلپ لائن بھی ہے۔
خیال رہے کہ اسوقت پاکستانی شوبز انڈسٹری میں گلوکارہ میشا شفیع اور اداکار و گلوکار علی ظفر کا کیس چل رہا ہے، میشا شفیع نے گلوکار پر 2018 میں جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے۔ تاہم علی ظفر نے فوری طور پر ان کے الزامات کو مسترد کردیا تھا، بعد ازاں علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم بھی شروع ہوگئی تھی جس کے خلاف انہوں نے ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا اور ایف آئی اے نے حال ہی میں میشا شفیع سیمت 9 افراد کو قصوروار قرار دیا تھا۔
الزامات لگانے کے بعد میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف محتسب اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو بھی درخواست دی تھی مگر ان کی درخواست مسترد ہوگئی تھی، جس پر علی ظفر نے گلوکارہ کے خلاف لاہور سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے سمیت ایف آئی اے میں شکایت درج کروائی تھی۔ علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کیس کی سماعتیں تاحال سیشن کورٹ میں جاری ہیں۔
علاوہ ازیں رواں برس 14 اگست کو ‘یوم آزادی’ کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 184 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کےلیے سول ایوارڈز کا اعلان کیا تھا، جنہیں 23 مارچ کو ‘یوم پاکستان’ کے موقع پر منعقد کی جانے والی تقریب میں ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ صدر پاکستان نے اس سال جن شخصیات کو سول ایوارڈ کےلیے نامزد کیا ان میں گلوکار علی ظفر بھی شامل ہیں۔
بعدازاں 19 اگست کو عورت مارچ، عورت آزادی مارچ، ویمن ایکشن فورم اور تحریک نسواں کی جانب سے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں علی ظفر کو سول ایوارڈ دینے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اکتوبر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران لوگوں کی مالی مدد کرنے پر علی ظفر کو حکومت پاکستان کی جانب سے شانِ پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا تھا اور اس پر بھی کچھ تنقید سامنے آئی تھی۔ تاہم علی ظفر کا یہ موقف حکیم شفیق کی جانب سے عائد کردہ ہراسانی کا الزام اب تک ہر فورم پر جھوٹا ثابت ہوا ہے اس لئے شیریں مزاری کی جانب سے ان کے خلاف کی گئی گفتگو سراسر ذیادتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button