ڈراموں میں عورت کمزور لیکن حقیقت میں ڈھیروں مضبوط ہے


پاکستانی اداکارہ مایا علی آج کل پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں خواتین کو روتا ہوا اور کمزور دکھانے پر پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں ٹی وی ڈراموں میں عورت کو جتنا کمزور اور مظلوم دکھایا جاتا ہے دراصل وہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہیں۔ وقت بدل رہا ہے اور دنیا بھر میں طاقتور خواتین پر فلمیں بن رہی ہیں۔
مایا علی کا شمار پاکستان کی ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ سنہ 2018 میں ’طیفا ان ٹربل‘ اور سنہ 2019 میں ’پرے ہٹ لوو‘ میں کام کرنے والی اداکارہ ان دنوں شعیب منصور کی نئی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ اس دوران انہوں نے چار سال کے عرصے کے بعد ایک ٹی وی ڈرامے میں کام کیا ہے، جس میں ان کے ساتھ شہریار منور بھی ٹی وی پر کم بیک کریں گے۔ مایا علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی ٹی وی کو الوداع نہیں کہا تھا۔ دراصل ٹی وی ہی ان کی ’پہلی محبت‘ ہے اور شاید اسی وجہ سے وہ آئی ڈریم کے ڈرامے ’پہلی سے محبت‘ کے ذریعے ٹی وی پر کم بیک کر رہی ہیں۔ مایا کےلیے چار سال بعد ٹی وی پر واپسی کی بڑی وجہ ہدایتکار انجم شہزاد تھے۔
مایا علی کا کہنا تھا کہ جب وہ ’طیفا ان ٹربل‘ اور ’پرے ہٹ لوو‘ میں کام کر رہی تھیں، تو ان کا تمام فوکس فلم پر اور اپنے کردار پر تھا اور اسی وجہ سے وہ ٹی وی سے دور رہیں۔ ’طیفا ان ٹربل‘ ابھی آئی نہیں تھی کہ مجھے پرے ہٹ لوو مل گئی جس کی وجہ سے ٹی وی سے دوری لمبی ہوگئی۔ کم بیک کےلیے میں کوئی اچھا رول تلاش کر رہی تھی، ایسے میں جب مجھے عبداللہ سیجا نے کال کی اور بتایا کہ ان کا ڈرامہ ’پہلی سی محبت‘فائزہ افتخار نے لکھا اور انجم شہزاد اسے ڈائریکٹ کر رہے ہیں، تو میں نے فوراً حامی بھر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے دس سالہ کیریئر میں انہوں نے ’رنگ لاگا‘ اور ’خانی‘ جیسے ڈراموں کے ہدایتکار کے ساتھ کبھی کام نہیں کیا، اس ڈرامے کے ذریعے ایک تو ان کی یہ خواہش پوری ہوگئی اور دوسرا اچھی اسکرپٹ کی جو تلاش تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔ مایا علی نے پہلی سی محبت کی اسکرپٹ کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ فائزہ افتخار نے بہت خوب تحریر کیا ہے، انہوں نے دس بارہ اقساط ایک ہی رات میں پڑھ لی تھیں۔ اور اس ڈرامے میں ساس بہو کا ذکر ہے نہ لڑائی جھگڑے۔ نہ ہی یہ کسی افیئر کے گرد گھومتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ کہانی دیکھی اور سُنی سُنی اس لیے لگتی ہے کیوں کہ یہ پہلی سی محبت ہے، اور پہلی سی محبت سب کرتے ہیں، کسی کو مل جاتی ہے، اور کسی کی ساری زندگی دل میں رہ جاتی ہے۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میں نے اچھے اسکرپٹ کا جتنا انتظار کیا تھا، مجھے اتنی ہی اچھا اسکرپٹ ملا۔
مایا سمجھتی ہیں کہ یہاں ٹی وی ڈراموں میں عورت کو جتنا کمزور اور مظلوم دکھایا جاتا ہے دراصل وہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستانی ٹی وی ڈراموں پر عورت کو رونے کے علاوہ کچھ اور بھی کرتے کیوں دکھایا نہیں جاتا؟۔ اپنی مثال دیتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ میری ماں جو میرے لیے رول ماڈل ہیں، وہ بہت مضبوط خاتون ہیں۔ میری خالہ اور میرے آس پاس کی خواتین بھی کوئی کمزور نہیں۔ لیکن ہمارے ڈراموں میں ایسی عورت شاید اس وجہ سے نہیں دکھائی جاتی کیوں کہ عوام کو عورت کا رونا یا اسے روتا دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔
مایا علی کا مزید کہنا تھا کہ جس ڈرامے میں عورت روتی نہیں، وہ لوگوں کو پسند نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ میری پروڈکشن ہاؤسز سے بھی گزارش ہے کہ عورت کو تھوڑا مضبوط تو دکھائیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ گھر سے نکلی تو رونے لگی۔ گھر میں آئی تو بھی رونے لگی۔ کوئی اس کی وجہ پر تو جائے کہ وہ روتی کیوں ہے۔
مایا علی پوچھتی ہیں کہ اگر کسی اچھے ڈرامے کی ریٹنگ نہیں آتی تو اس کا قصور وار کون ہوگا۔ سوسائٹی، لوگ یا بنانے والے۔ وقت بدل رہا ہے اور دنیا بھر میں طاقتور خواتین پر فلمیں بن رہی ہیں۔ شعیب منصور صاحب کی فلم ’ورنہ‘ آئی تھی۔ اس میں بھی ایک خاتون کو دکھایا جو تکلیف میں تھی لیکن مضبوط بھی تھی۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی ایسا کام ہوگا جس میں عورت کو مضبوط دکھایا جائے گا۔
گزشتہ سال مایا علی کی فلم ’پرے ہٹ لوو‘ آئی تھی جس میں ان کے سامنے ہیرو شہریار منور تھے۔ ’پہلی سی محبت‘ میں بھی مایا علی اور شہریار منور کی جوڑی آمنے سامنے ہوگی۔ یہ بات اس لیے بھی قابل ذکر ہے کیوں کہ یہ دونوں اداکاروں کا ٹی وی پر کم بیک پراجیکٹ ہے۔ تاہم مایا علی کا کہنا ہے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ڈرامے میں شہریار ان کے مدمقابل ہیرو ہوں گے۔ اپنے ساتھی اداکار کے بارے میں بات کرتے ہوئے مایا علی کا کہنا تھا کہ شہریار منور ایک اچھے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کو اسٹار اور پروڈیوسر بھی ہیں۔
بقول مایا علی شہریار کے ساتھ میری کیمسٹری لوگوں کو بہت پسند ہے، میری اور ان کی دوستی بہت جلدی ہو گئی تھی۔ جب ہم پرے ہٹ لوو کر رہے تھے تو اسی دوران ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ایکشن ری ایکشن کا کام ہوتا ہے۔ دونوں سمجھ گئے تھے کہ دوسرا کیا کرے گا اور اسی وجہ سے ہمارا کام آسان ہوگیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ساتھ ڈرامہ کریں گے۔ یہ اندازہ ضرور تھا کہ آگے چل کر ایک اور فلم کرلیں گے، لیکن ڈرامے میں ساتھ کاسٹ ہونا غیر ارادی تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے ’پہلی سی محبت‘ کرنے کی حامی ہدایتکار کی وجہ سے بھر لی تھی، میرے مدمقابل ہیرو کون ہوگا، اس کا مجھے بعد میں پتا چلا لیکن شہریار کے ہونے کی وجہ سے میرا کام بڑا آسان کام ہوگیا۔ ایک تو وہ اپنے کو ایکٹرز کے ساتھ بہت جلدی ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں، دوسرا خود اپنے ڈائیلاگز تو یاد کرتے ہیں ہی، دوسروں کے بھی یاد کر لیتے ہیں اور جہاں کوئی غلطی ہو، اس کو درست کر لیتے ہیں۔
مایا کے خیال میں سنیما کی بحالی میں دیر ہے، پر اندھیر نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button