صحافیوں کا کیس: کیا عدالتی فیصلہ آئین کے مطابق ہے؟

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے لیے گئے از خود نوٹس کو واپس لے کر ایک نئی بحث کھول دی ہے کہ آیا کسی بھی معاملے پر از خود نوٹس لینے کا اختیار واقعی کسی بینچ کے پاس نہیں بلکہ صرف چیف جسٹس کے پاس ہے؟ زیادہ تر آئینی ماہرین سپریم کورٹ کے فیصلے پر مطمئن نظر نہیں آتے اور ان کا کہنا ہے کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار آئین پاکستان نے سپریم کورٹ کے ہر جج کو تفویض کیا ہے جس پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اس سے پہلے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بنچ نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے سینئیر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار اور ہراساں کرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس پر جاری حکمنامہ واپس لیتے ہوئے انکے دو رکنی بنچ کی عدالتی کارروائی بھی ختم کر دی تھی۔
صحافیوں کی گرفتاری سے شروع ہونے والا یہ کیس ایک دلچسپ صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس کا آغاز تو صحافیوں کی ہراسانی کے معاملے سے شروع ہوا مگر اسکا اختتام ججوں کے ازخود نوٹس لینے کے اختیار اور سپریم کورٹ کے ججوں میں تفریق کے تاثر پر ہوا۔ اس کیس کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ دراصل چیف جسٹس کے سوموٹو یا ازخود نوٹس کے اختیارات کو دیکھ رہا تھا جب کہ بینچ میں وہ جج بھی شامل تھے جو کہ مستقبل میں چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوں گے۔ یعنی وہ جج مستقبل میں اپنے اختیارات کے بارے میں ایک کیس کی سماعت کر رہے تھے حالانکہ اس کیس میں ان کا اپنا مفاد بھی شامل تھا اور قانونی طور پر ان کو اس بیچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔
تاہم 26 اگست کو قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے از خود نوٹس لینے کے دائرہ اختیار کے معاملے پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی معاملہ کسی بینچ کے سامنے آئے تو وہ خود اس کا نوٹس نہیں لے سکتا بلکہ وہ یہ معاملہ چیف جسٹس کے نوٹس میں لاسکتا ہے اور چیف جسٹس کا اختیار ہے کہ وہ اس معاملے پر بینچ تشکیل دیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دو رکنی بنچ نے صحافیوں کی بلا جواز گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کرنے پر ڈی جی ایف آئی اے سمیت کئی سینئر افسران کو عدالت میں طلب کر لیا تھا تاہم جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک پانچ رکنی بینچ بنانے کر جاتس فائز عیسی بنچ کا فیصلہ واپس لے لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک خط میں پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو غیر قانونی اور آئین کے منافی قرار دیا ہے۔
آئینی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ آئین پاکستان کی دفعہ 184کی شق 3، جو کہ از خود نوٹس سے متعلق ہے، اس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی اس شق میں سپریم کورٹ کا ذکر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر وہ جج جو کسی بینچ کا حصہ ہے وہ سپریم کورٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ مفاد عامہ کے کسی معاملے پر سپریم کورٹ کا کوئی بھی بینچ از خود نوٹس لے سکتا ہے۔ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ اگر ایک لمحے کے لیے اس پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو ماضی میں سپریم کورٹ کے ججوں نے جو از خود نوٹس لیے تھےاور جن پر فیصلے سنائے گئے تھے ان تمام از خود نوٹسوں پر کیے گئے فیصلوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا ہوا کہ صرف چیف جسٹس ہی سپریم کورٹ ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں جس میں چیف جسٹس کی طرف سے از خود نوٹسوں کا ان کے بقول غلط استعمال ہوا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس ثاقب نثار قابل ذکر ہیں۔
عرفان قادر نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے دور میں جب ہسپتالوں اور سکولوں پر چھاپے مارتے تھے تو کیا اس حوالے سے کوئی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس میں دائر ہوتی تھی جس پر وہ کارروائی کرتے ہوئے چھاپے مارتے تھے؟انھوں نے کہا کہ ایک طرف سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں کہتی ہے کہ وفاقی حکومت سے مراد صرف وزیر اعظم نہیں بلکہ کابینہ میں شامل وزرا ہیں جبکہ دوسری طرف اس طرح کے فیصلے دے کر جوڈیشل ڈکٹیٹرشپ لائی جا رہی ہے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں تو جسٹس عمر عطا بندیال کو اس لارجر بینچ میں بیٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ وہ اگلے سال فروری میں ملک کے چیف جسٹس ہوں گے لہازا اس فیصلے میں انکا اپنا مفاد بھی چھپا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی شق چار میں یہ لکھا گیا ہے کہ اگر کسی جج کا یا اس کے کسی دوست یا رشتہ دار کا کسی بھی عدالتی کیس سے مفاد وابستہ ہے تو اس کو اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے جس میں یہ معاملہ سنا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ از خود نوٹس لینے کا معاملہ انتظامی نوعیت کا ہے اور بہتر ہوتا کہ اس بارے میں چیف جسٹس فل کورٹ بلا کر اس کا فیصلہ کر دیتے۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے جج یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ آئین کی سربلندی کے لیے ایک پیج پر ہیں لیکن ان کے عمل سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے ان میں اختلافات واضح ہیں۔ فیصلے سے پہلے عبدالطیف آفریدی نے پانچ رکنی بینچ سے یہ بھی کہا کہ اس تاثر کو زائل کیا جانا چاہیے کہ سپریم کورٹ میں تفریق ہے کیونکہ عوام میں یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔آفریدی نے کہا کہ ماضی میں سیاسی معاملات سپریم کورٹ کے سامنے لائے گئے اور ان پر فیصلے لیے گئے، جس کے باعث عدالت کی ساکھ متاثر ہوئی۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے کو چیف جسٹس گلزار احمد کے لیے چھوڑ دیا جائے، تا کہ وہ واپسی پر معاملے کا جائزہ لیں۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد اس وقت امریکہ میں چھٹیوں پر ہیں۔
عبدالطیف آفریدی نے جسٹس بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کے حکم نامے میں (abeyance) یعنی ’معطل‘ کے لفظ کے استعمال پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں اقتدار پر قبضہ کیا تو  آئین کو معطل کر دیا لیکن اس نے اپنی تقریر میں abeyance کا لفظ استعمال کیا تھا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ پانچ رکنی لارجر بینچ کی طرف سے از خود نوٹس لینے کے اختیار کے معاملے کو بڑی عجلت میں نمٹایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ صرف دو دن کی عدالتی کارروائی کے بعد جس میں صرف اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو سنا گیا، کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اگر جسٹس فائز عیسی کی طرف سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس پر کوئی متاثرہ فریق عدالت میں گیا ہوتا تو پھر بھی کہا جا سکتا تطا کہ متاثرہ فریق کی درخواست کی سماعت کے لیے قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیا گیا لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو درست مان لیا جائے کہ از خود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہے تو موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد نے، جو اُس وقت چیف جسٹس نہیں تھے، کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا، وہ بھی واپس لیں اور اس پر جو احکامات جاری ہوئے وہ بھی واپس لیں۔انھوں نے کہا کہ جسٹس گلزار نے جس وقت کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا تب آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس تھے۔
رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کی درخواست کے بارے میں جو عدالتی سماعت کی تھی اس کو ہی ختم کر دیا گیا اور یہ درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے کہ وہ اس پر بینچ تشکیل دیں۔انھوں نے کہا کہ آئین میں یہ درج ہے کہ کسی بھی جج کو اس وقت تک بینچ سے الگ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ خود اس بینچ سے الگ ہونے میں آمادگی ظاہر نہ کرے۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کے از خود نوٹس لیے جانے کے بارے میں لارجر بینچ کی تشکیل کے بارے میں ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک بینچ کی عدالتی کارروائی کو دیکھنے کے لیے مانٹیرنگ بینچ نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا یہ بھی موقف تھا کہ سپریم کورٹ کا کوئی بینچ کسی دوسرے بینچ کے فیصلے پر فیصلہ نہیں دے سکتا۔

Back to top button