صدارتی ریفرنس، جسٹس فائز عیسیٰ خود سپریم کورٹ میں پیش

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود عدالت میں پیش ہو کر کہا ہے کہ ان کی اہلیہ اپنے اثاثوں سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں اپنا بیان دینا چاہتی ہیں۔
سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست پر معاملہ زیر التوا ہے اور آج کیس میں اہم موڑ اس وقت آیا جب درخواست گزار اور عدالت عظمیٰ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود کمرہ عدالت میں پیش ہوگئے اور معاملے پر دلائل دئیے جبکہ سربراہ فل کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہر جج قابل احتساب ہے، ہم ججز اپنی نجی اور پبلک زندگی پر جواب دہ ہیں، عدلیہ کی ساکھ کو ایک جج کے باعث متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت ہورہی ہے، جہاں آج پہلی مرتبہ درخواست گزار خود پیش ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے سابق وزیر قانون فروغ نسیم اپنے دلائل دے رہے ہیں۔
سماعت کے دوران فروغ نسیم نے دلائل دینا شروع کیے اور کہا کہ عدالت کے ایک سوال پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے مشاورت کی ہے، وزیراعظم کہتے ہیں کہ انہیں عدلیہ کا بڑا احترام ہے جبکہ ہمیں معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر 2 ماہ میں فیصلہ کرلے، درخواست گزار کے جج اور اہلیہ ایف بی آر کے ساتھ تعاون کریں۔
سماعت کے دوران ہی فروغ نسیم نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب پر کہا کہ گزشتہ روز ایک جواب داخل کرایا گیا، جس پر وزیر اعظم نے کہا ہے لندن میں میری ایک پراپرٹی بھی نکلے تو ضبط کر لیں، مزید یہ کہ پراپرٹی ضبط کر کے پیسہ قومی خزانے میں ڈال دیں۔ حکومتی وکیل کی بات پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے اس جواب کا جائزہ نہیں لیا، بدقسمتی ہے دونوں سائیڈز میڈیا سے رجوع کرتی رہی ہیں۔اسی دوران بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ جج نے نہیں کہا کہ یہ جائیدادیں وزیراعظم کی ہیں، جواب میں ویب سائٹ کے حوالے سے بات کی گئی ہے، اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ جج نے جواب میں وزیراعظم کے نام لندن کی پراپرٹیز بتائی ہیں۔
اس موقع پر کیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب سماعت کے دوران ہی سپریم کورٹ کے جج اور اس کیس کے درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود عدالت پہنچ گئے، جہاں انہوں نے فروغ نسیم کے دلائل کے دوران عدالت سے بات کرنے کی اجازت مانگی۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کے آپ آئے ہیں آپ تشریف رکھیں۔بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے میری اہلیہ نے ہمیشہ ماسک پہنے رکھنے کی تلقین کی ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ ماسک کی وجہ سے ہم آپ کو ٹھیک سے سن نہیں پا رہے، اس پر جسٹس عیسیٰ نے اپنے چہرے سے ماسک ہٹایا اور کہا کہ میں اپنی اہلیہ کی تلقین کی خلاف ورزی کر رہا ہوں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قاضی فائز عیسیٰ کا مقدمہ نہیں بلکہ ہم سب کا مقدمہ ہے، یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ججز مجھے بچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کیا ہوا، اس میں نہیں جانا چاہتا، ریفرنس سے پہلے میرے خلاف خبریں چلی۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مئی کے آخر میں یہ ساری باتیں شروع ہوئی، مجھے ریفرنس کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کہ میں عدالت میں بحیثیت درخواست گزار ذاتی حیثیت میں پیش ہو رہا ہوں، اگر کچھ غلط کہا ہے تو میرے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کریں۔
اسی دوران بینچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ درخواست گزار، ہم حکومتی وکیل کو سن رہے ہیں، یہ مناسب نہیں کہ حکومتی وکیل کو دلائل سے روک کر کسی کو موقع دیا جائے، جس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ حکومت نے عدالتی تجویز سے اتفاق کیا ہے، مجھے اس پر جواب دینا ہے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کا مؤقف عدالت میں پیش کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ میں آج اپنی اہلیہ کا اہم پیغام لایا ہوں، وہ جائیدادوں کے ذرائع بتانا چاہتی ہیں، اہلیہ کے والد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے، اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے جائیداد سے متعلق بتانا چاہتی ہیں، عدالت اہلیہ کو ویڈیو لنک پر مؤقف دینے کا موقع دے۔ انہوں نے کہا کہ اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی، اس پر سربراہ بینچ جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ آپ کی اہلیہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی پیشکش پر عدالتی بینچ کے سربراہ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس عمر عطا بندیال بولے جج صاحب کے بیان پر غور کیا ہے، انہوں نے اہلیہ کی جانب سے بیان دیا، اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے مؤقف دیں، تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، میری اہلیہ کو کسی وکیل کی معاونت نہیں ہوگی۔ جسٹس عیسیٰ بولے کہ اہلیہ کہتی ہیں کہ اکاؤنٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر نیا ریفرنس نہ بنا دے، اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اہلیہ کا مؤقف سن کر جتنے مرضی سوال کریں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، میری اہلیہ کو عدالت کے سامنے مؤقف دینے کی اجازت ہونی چاہیے، میں اپنی اہلیہ کا وکیل نہیں ان کا پیغام لے کر آیا ہوں، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دیکھیں جج صاحب، جس پر جسٹس عیسیٰ بولے کہ میں یہاں جج نہیں درخواست گزار ہوں۔
اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم آپ کی پیشکش پر مناسب حکم جاری کریں گے، ہم نے اہلیہ کا پیغام سن لیا ہے، جس پر جسٹس عیسیٰ بولے کہ میری اہلیہ کی استدعا کو تبدیل نہ کریں، اس پر پھر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ہم اہلیہ کی زبانی مؤقف دینے کی پیش کش پر غور کریں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس عیسیٰ کی بات پر حکومتی وکیل فروغ نسیم بولے کہ جج سے میری کوئی دشمنی نہیں، اگر مناسب جواب دیتے ہیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ میں جج اور ان کی اہلیہ کا بڑ احترام کرتا ہوں، میں نے کبھی معزز جج کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھی۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ اگر اہلیہ جواب دیتی ہیں تو سارا عمل شفاف ہو جائے گا، 9 ماہ میں ہم نے بھی کیس کی تیاری کی ہے، اس لیے کہتے ہیں کہ ریفرنس میں نقائص ہیں، اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ریفرنس کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا۔
مذکورہ سماعت میں دلائل دیتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کو 29 مئی کو ریفرنس موصول ہوا جبکہ کونسل نے 14 جون کو حکم جاری کیا، اس کے علاوہ جج نے 28 جون کو اپنا جواب جوڈیشل کونسل میں داخل کیا۔ دوران سماعت جسٹس جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ معاون خصوصی شہزاد اکبر نے گزشتہ روز ٹی وی پر آکر زیر التوا مقدمے پر بات کی، سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس سے بڑا جواب حکومت نے داخل کردیا۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومتی وکیل نے بتایا کہ اہلیہ سلائی مشین چلاتی ہے، جس سے 5 یا 6 ملین پاؤنڈ (50 سے 60 لاکھ پاؤنڈ) آتے ہیں، اس پر سربراہ بینچ جسٹس عمر عطا بندیا نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے، جسٹس قاضی امین نے اس نقطے پر حکومتی وکیل کو روکا تھا، ہمارے لیے آپ کا بڑا احترام ہے لیکن آپ درخواست گزار ہیں، آپ کے وکیل مؤثر انداز میں یہ بات کر سکتے ہیں (کیونکہ) آپ جذباتی ہو سکتے ہیں، جس پر جسٹس عیسیٰ نے جواب دیا کہ میں جذباتی نہیں ہوں۔وہ بولے کہ حکومتی وکیل کہتے ہیں منی ٹریل آج بتا دیں، کل بتا دیں، پہلے انہوں نے تسلیم کیا کہ ان جائیدادوں سے آگاہ ہیں، تسلیم کیا کہ یہ جائیدادیں میری اہلیہ اور بچوں کی ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا لندن کی جائیدادوں کو چھپایا گیا؟ کوئی چیز جائیدادوں کو چھپانے کے لیے استعمال نہیں کی گئی لیکن کہا گیا کونسل کسی شخص کی اہلیہ کو بلا سکتی ہے، جوڈیشل کونسل نے ایک بار بھی بلا کر میرا مؤقف نہیں سنا۔طویل سماعت میں جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تاخیر سے جواب جمع کرائے گئے۔سماعت کے دوران درخواست گزار جسٹس عیسیٰ نے یہ بات کہی کہ سابق اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ساتھی ججز نے درخواست تیار کرنے میں مدد کی، اس پر جسٹس عمر بولے کہ آپ اس بات کو چھوڑ دیں۔عدالتی بینچ کے سربراہ کی بات پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں التجا کرتا ہوں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، جس پر جسٹس عمر نے کہا کہ ہم نے توہین عدالت کی کارروائی کی ہے۔
اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کہ اہلیہ کے مؤقف کے بعد میں اپنی درخواست پر مقدمہ لڑوں گا، حکومتی وکیل نے کہا تھا کہ ایف بی آر والے جج سے ڈرتے ہیں، ایف بی آر نے فیصلہ ہمارے حق میں دیا تو پھر یہی کہا جائے گا۔درخواست گزار جج نے کہا کہ عدالت میری اہلیہ کے بیان کے بعد ان سے سوالات کرسکتی ہے۔اپنے خلاف ریفرنس کی بات پر جسٹس عیسیٰ نے بولا کہ منہ بند کرتے ہوئے اس ریفرنس کو برداشت کیا، ہر دن اس معاملے پر ٹی وی چینلز پر بحث کی گئی، صدر مملکت نےایوان صدر میں بیٹھ کر 3 انٹریوز دیے، شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل نے ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنس کی اورایک دوسرے کو جھوٹا قراردیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کہ میں نے حکومتی آفر قبول نہیں کی، میں منافق نہیں ہوں جو کہتا ہو سچ کہتا ہوں، اس معاملے میں میری اہلیہ کو کیوں الزام دیا گیا، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ جج صاحب ہم آپ کا احترام کرتے ہیں اب آپ تشریف رکھیں اورحکومتی وکیل کو دلائل دینے دیں، یہ فل کورٹ کی سماعت ہے آپ بیٹھ جائیں۔
اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں یہاں جج کی حیثیت سے نہیں آیا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ نے عدالت کی کارروائی میں مداخلت کی ہے، اگر آپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا۔ بینچ کے سربراہ نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت آج اس معاملے پر اپنا حکم تحریر کر دے گی، آپ اپنی اہلیہ کا پیغام لے کر آئے، آپ کی اہلیہ کا پیغام ہمارے شیڈول کو متاثر نہیں کرے گا، ہم اس کیس کو ایف بی آر کو بھیج رہے ہیں۔
اس موقع پر سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا گیا جس کے بعد سماعت شروع ہوئی تو فروغ نسیم نے دلائل دینے کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ بینچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عوام سے کوئی بھی شخص جوڈیشل کونسل میں رائے کے بغیر ریفرنس بھیج سکتا ہے، صدر مملکت کو ریفرنس کونسل کو بھیجنے سے پہلے اپنی رائے کا تعین کرنا ہوگا، کونسل کو ریفرنس بھیجنے سے قبل صدر مملکت کو رائے بنانی ہوگی کہ ان کہ نظر میں مس کنڈکٹ ہوا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جج کے مس کنڈکٹ کا آئین میں تعین نہیں، صدر مملکت کہہ دیں کہ میری نظر میں جج کا مس کنڈکٹ ہے تو یہ دلیل بڑی خطرناک ہے، ساتھ ہی جسٹس یحییٰ بولے کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صدر کے سامنے رائے سے قبل مواد کیا تھا۔اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ شوکاز میں جن الزامات کا ذکر ہے وہ ہی ریفرنس میں درج ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ ریفرنس غیر ملکی جائیدادوں کی ملکیت اور خریداری کے ذرائع کا ہے، عدالت کونسل کی کارروائی میں نہیں جاسکتی، لگتا ہے کونسل نے بڑا محتاط رویہ اختیار کیا، عدالت مالی معاملات پر جوابدہ ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہر جج قابل احتساب ہے، ہم ججز اپنی نجی اور پبلک زندگی پر جواب دہ ہیں، عدلیہ کی ساکھ کو ایک جج کے باعث متاثر نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال مالی امور کا ہے، اس سوال کا جواب لیا جائے گا، چاہے جسٹس عیسیٰ کے وکیل اپنی رضا مندی نہ دیں، عدالت اس معاملے پر آگے بڑهے گی۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں بذریعہ درخواست جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دھماکا خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں تلاش کے دوران اثاثہ برآمدگی یونٹ کے چیئرمین مرزا شہزاد اکبر اور وزیراعظم عمران خان کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں اور سابق صدر پرویز کی لندن میں جائیدادوں کی معلومات ملی ہیں۔سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں درخواست گزار جج نے کہا تھا کہ انہیں شہزاد اکبر کے اس دعوے کہ برطانیہ میں کسی کی بھی جائیداد سرچ انجن 192ڈاٹ کام کے ذریعے تلاش کی جاسکتی ہے سے ایک اشارہ ملا۔انہوں نے بتایا کہ سرچ انجن کو کچھ معروف شخصیات کی جائیدادیں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے تنائج کے مطابق برطانیہ میں عمران خان کی جائیدادیں 6، شہزاد اکبر کی 5 ، سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی ایک، ذوالفقار بخاری کی 7، عثمان ڈار کی 3، جہانگیر ترین کی ایک اور پرویز مشرف کی 2 جائیدادیں ہیں۔
جج کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد معروف عوامی شخصیات ہیں اور انکم ٹیکس، فارن ایکسچینج یا منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ میں غیر قانونی جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو اپنا ریکارڈ چیک کرنا چاہیئے اور دیکھنا چاہیئے کہ کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر ہے اور ان شخصیات نے کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا ان افراد کی آمدن قابل ٹیکس تھی کیوں کہ زرعی زمین انکم ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنٰی ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اثاثہ برآمدگی یونٹ کو غیر قانونی اور بغیر کسی قانون کے کام کرنے والا قرار دیا جائے اوریونٹ کی درخواست گزار جج اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ریفرنس کے زمرے میں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ شہزاد اکبر اور اثاثہ برآمدگی یونٹ کے ضیا مصطفیٰ نسیم کے خلاف حکام جن اور ان کے اہلِ خانہ کی دستاویزات، ریکارڈز تک رسائی، حصول نقول تیار کرنے اور اسے آگے بڑھانے پر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی چارہ جوئی کریں جن میں بینکنگ آرڈیننس 1962، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی آرڈیننس 2000 انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 شامل ہیں۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا معاملہ گزشتہ برس سال میں شروع ہوا تھا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔اس حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔
صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 2 ریفرنسز میں شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا تاہم یہ ریفرنس بعد میں خارج کردیا گیا تھا۔بعد ازاں7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس ذاتی طور پر چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔صدارتی ریفرنس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحلیل ہوجانے کے بعدعدالت عظمیٰ کے 10 رکنی فل کورٹ نے 14 اکتوبر کو سماعت کا آغاز کیا تھا جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
