فائز عیسیٰ کیس: سپریم جوڈیشل کونسل کہہ سکتی ہے یہ ریفرنس بےبنیاد ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود عدالت میں پیش ہو کر کہا ہے کہ ان کی اہلیہ اپنے اثاثوں سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں اپنا بیان دینا چاہتی ہیں۔
البتہ بدھ کی سماعت میں بینچ کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوڈیشل کونسل صدر مملکت کے ہاتھوں قیدی نہیں ہو سکتی اور ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس کو بے بنیاد کہہ سکتی ہے اور صدر مملکت سے جج کے خلاف کارروائی کےلیے مزید شواہد مانگ سکتی ہے۔
بدھ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی جو تجویز دی تھی اس بارے میں وزیراعظم اور صدر مملکت سے مشاورت کی گئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے کو ایف بی آر کو بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر اس ضمن میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کی اہلیہ کو بلائے اور عدالت اُن دونوں کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں اور ایف بی آر دو ماہ کے اندر اس بارے میں فیصلہ کرے۔
وفاق کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی نے منگل کو ایک جواب عدالت میں جمع کروایا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت حکومت کی دیگر شخصیات کی لندن میں جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر ان کی ایک جائیداد بھی بیرون ملک ہو تو اسے نیلام کرکے پیسے قومی خزانے میں جمع کروائے جائیں۔
اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججوں نے ابھی اس جواب کا جائزہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بدقسمتی سے فریقین میڈیا سے رجوع کرتے رہے ہیں۔
وفاق کے وکیل اپنے دلائل دے ہی رہے تھے کہ اس دوران خود جسٹس قاضی فائز عیسی کمرۂ عدالت میں آئے اور انھوں نے عدالت سے کچھ کہنے کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی۔
جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے خلاف بھیجے گئے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں میں سے ایک میں درخواست دہندہ ہیں اور اس معاملے کی سماعت کے دوران پہلا موقع ہے کہ وہ کمرہ عدالت میں آئے جبکہ ان کی درخواست کی پیروی وکیل رہنما منیر اے ملک کر رہے ہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت سے کہا کہ ’یہ قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ نہیں ہم سب کا مقدمہ ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق اٹارنی جنرل کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ جج انہیں بچانا چاہتے ہیں۔
’اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی‘
قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ’اس عرصے کے دوران میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کیا ہوا میں اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا‘۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ریفرنس سے پہلے ان کے خلاف خبریں چلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے کچھ غلط کہا ہے تو بےشک عدالت ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکومت نے عدالتی تجویز سے اتفاق کیا ہے یعنی اس معاملے کو ایف بی آر میں بھجوا دیا جائے لیکن انہیں اس پر جواب دینا ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موقف پیش کرنا چاہتی ہیں اور ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی وکیل کہتے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسی آج منی ٹریل بتا دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔
جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ ان جائیدادوں سے آگاہ ہیں اور یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ جائیدادیں درخواست گزار کی اہلیہ اور بچوں کی ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ لندن کی جائیدادوں کے معاملے میں کیا چھپایا گیا اور کوئی چیز جائیدادوں کو چھپانے کےلیے استعمال نہیں کی گئی۔
جب جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کے بارے میں وفاق کے وکیل کے ریمارکس کی بات کی تو بینچ کے سربراہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے لیے آپ کا بڑا احترام ہے۔ آپ جج ہونے کے ساتھ ساتھ درخواست گزار بھی ہیں‘۔ اس پر جسٹس فائز عیسی نے جواب دیا کہ ’مائی لارڈ میں اس وقت درخواست گزار کی حیثیت سے ہی پیش ہوا ہوں‘۔
درخواست گزار نے کہا کہ حکومتی وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کی اہلیہ کو بلا سکتی ہے جب کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے تو خود انہیں ایک بار بھی بلا کر ان کا موقف نہیں سنا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ گلہ بھی کیا کہ انہیں تو ریفرنس کی نقل بھی فراہم نہیں کی گئی تھی۔
بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ جذباتی ہو رہے ہیں تاہم قاضی فائز عیسیٰ نے اس بات سے انکار کیا۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کے بیان پر غور کیا ہے اور یہ بیان درخواست گزار نے اپنی اہلیہ کی جانب سے دیا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار کی اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا تاہم درخواست گزار سے کہا گیا ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے اپنا موقف دیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کےلیے مقرر کیا جائے گا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ کا موقف سننے کے بعد بینچ میں شامل معزز جج صاحبان جتنے مرضی سوال کریں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کا اہم پیغام لائے ہیں اور وہ جائیدادوں کے ذرائع بتانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ کے والد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے اور وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا موقف دینا چاہتی ہیں اس لیے عدالت انہیں یہ موقع فراہم کرے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے اور انہیں خطرہ ہے کہ ’ایف بی آر کو اکاؤنٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر کوئی نیا ریفرنس نہ بنا دے۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اس ریفرنس کی وجہ سے ان کی اہلیہ کو بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے اور وہ اپنی اہلیہ کے موقف کے باوجود میں اپنی درخواست پر مقدمہ لڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ایف بی آر والے جج صاحب سے ڈرتے ہیں اور اگر ایف بی آر نے فیصلہ ان کے حق میں دیا تو پھر بھی یہی کہا جائے گا۔ ’اگر آپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا‘
سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ انہوں نے منہ بند کرتے ہوئے اس ریفرنس کو برداشت کیا اور ہر دن اس معاملے پر ٹی وی چینلز پر بحث کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر صدر نے ایوان صدر میں بیٹھ کر تین انٹریوز دیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنس کی۔
اس پر بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ اگر وہ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا۔
بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عوام میں سے کوئی بھی شخص جوڈیشل کونسل میں رائے کے بغیر درخواست بھیج سکتا ہے تاہم اس کے برعکس در مملکت کو ریفرنس کونسل کو بھیجنے سے پہلے اپنی رائے کا تعین کرنا ہوگا۔
جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ کونسل کو ریفرنس بھیجنے سے قبل صدر مملکت کو رائے بنانی ہو گی کہ ان کہ نظر میں مِس کنڈکٹ ہوا ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صدر کے سامنے رائے سے قبل مواد کیا تھا۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جج کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا آئین میں تعین نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت کہہ دے کہ ان کی نظر میں جج کا مِس کنڈکٹ ہے تو یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔
وفاق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم جوڈیش کونسل کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسی کو دیے گیے شوکاز میں جن الزامات کا ذکر ہے وہ ہی ریفرنس میں درج ہیں۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس غیر ملکی جائیدادوں کی ملکیت اور خریداری کے ذرائع کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہر جج قابل احتساب ہے اور ججز اپنی نجی اور پبلک لائف پر جواب دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی ساکھ کو ایک جج کے باعث متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بنیادی سوال مالی امور کا ہے،اس سوال کا جواب لیا جائے گا۔
وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر ایک مرتبہ جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے تو وہ چیلنج نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 211 کے تحت کونسل کی کاروائی چیلنج نہیں ہو سکتی۔
فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست گزار نے کونسل کے شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا نہیں کی۔
فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت کونسل کے پاس مواد آنے پر ازخود کارروائی کا اختیار بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل مواد ملنے پر جج کےخلاف کاروائی کرنے کی مجاز ہے۔
وفاق کے وکیل کی اس دلیل پر بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ اگر کونسل کے پاس ازخود کارروائی کا اختیار ہے تو کیا افتخار چوہدری کیس کا فیصلہ ختم ھو گیا۔ انہوں نے وفاق کے وکیل کو محاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس افتخار چوھدری کیس میں شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس وقت کے آرمی چیف اور فوجی صدر پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلاکر بٹھایا اور تذلیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوھدری کے خلاف کیس میں بد نیتی عیاں تھی۔
واضح رہے کہ فروغ نسیم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مختلف مقدمات میں ان کی طرف سے پیش ہوتے رہے ہیں۔
وفاق کے وکیل نے کہا کہ اس مقدمےمیں بد نیتی کہاں ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ غیر جمہوری آدمی ہیں۔
فروغ نسیم نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ پاکستان بار کونسل کا وائس چیئرمین منتخب نہ ہوتے۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے دو ججز کے خلاف ریفرنس غلط تھا یا درست اس پر کونسل ایکشن لے چکی ہے۔ بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر ریفرنس فارغ بھی کردیا جائے تب بھی شوکاز نوٹس اپنی جگہ رہے گا۔
بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ شوکاز نوٹس کے بعد کیا صدر مملکت ریفرنس واپس لے سکتے ہیں؟
وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر درخواست گزار کی استدعا کے باوجود مقدمہ واپس نہیں لینے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت ریفرنس دائر ہونے کے بعد واپس نہیں لے سکتے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریفرنس بنانے میں بدنیتی شامل ہے اور کونسل بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے موقع گنوا دیا ہے, انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری ہونے سے پہلے کارروائی کو چیلنج کرنا چاہیے تھا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ آئین صدارتی ریفرنس اور عمومی ریفرنس میں امتیاز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کونسل کہہ سکتی کہ وہ صدر مملکت کی بات نہیں مانتی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال اٹھایا کہ کیا کونسل صدارتی ریفرنس پر انکوائری کیے بغیر اس کو ختم کر سکتی ہے؟
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کے ہاتھوں جوڈیشل کونسل قیدی نہیں بن سکتی، انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک آئینی باڈی ہے اور وہ کہہ سکتی ہے کہ ریفرنس بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل صدر مملکت سے جج کے خلاف کاروائی کےلیے مزید شواہد مانگ سکتی ہے۔
وفاق کے وکیل نے کہا کہ کونسل صدر مملکت کو بھی ریفرنس کے حوالے سے سمن کرسکتی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز عدالت عظمیٰ کے 10رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اس صدارتی ریفرنس میں بدنیتی نظر آئی تو اسے خارج کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ کے مطابق اس ریفرنس میں نقائص موجود ہیں اور اگر یہ کوئی عام معاملہ ہوتا تو کیس کب کا خارج کیا جا چکا ہوتا۔
