صداقت عباسی بغیر پریس کانفرنس گھر واپس کیسے پہنچے؟

کئی ماہ سے غائب عمرانڈو رہنما صداقت عباسی انٹرویو نشر ہوئے اور پریس کانفرنس کئے بغیر گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ سے جذباتی انداز میں مل رہے ہیں۔ صداقت عباسی گھر پہنچے تو والدہ اور بیٹیوں کے گلے لگ کر روتے رہے۔ اُن کی گھر واپسی پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، جبکہ والدہ اور بیٹیاں گلے لگ کر روتی رہیں۔

خیال رہے کہ صداقت عباسی سانحہ نو مئی کے بعد سے روپوش تھے جبکہ پھر اُن کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں تھیں۔صداقت عباسی نے 3 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی اور پھر وہ اپنے وکیل کے ہمراہ روانہ ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ صداقت عباسی کو پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے اٹھایا گیا تھا اور ان کی بازیابی کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھی۔پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ نامعلوم افراد نے پی ٹی آئی رہنما کو اغوا کیا ہے، پٹیشن میں ان کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی۔

دوسری جانب سینئر صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیالکوٹ سے رہنما عثمان ڈار کے منظرعام پر آ کر انٹرویو دینے اور 9 مئی واقعات کی ذمہ داری عمران خان پر ڈالنے کے بعد پی ٹی آئی کے ایک اور لاپتہ رہنما صداقت علی عباسی کے حوالے سے خبر آئی ہے کہ دو روز قبل انہیں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ویگو ڈالے میں بٹھا کر اسلام آباد میں ڈان نیوز کے دفتر میں لائے اور اینکر پرسن عادل شاہزیب نے ان کا انٹرویو کیا۔ انٹرویو میں صداقت علی عباسی نے 9 مئی واقعات کی ذمہ داری عمران خان پر ڈالنے کے بجائے بشریٰ بی بی پر ڈالی اور کہا کہ وہی ان دنوں اہم ہدایات دے رہی تھیں۔ یہ انٹرویو بعد ازاں نشر نہیں ہوا اور اسے چینل کے ڈیٹا بیس سے ڈیلیٹ کروا دیا گیا۔ یہ انکشاف کیا ہے صحافی اسد علی طور نے۔

یوٹیوب پر حالیہ وی-لاگ میں اسد علی طور نے بتایا کہ دو روز قبل رات 12 بجے کے بعد سابق ممبر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے لاپتہ رہنما صداقت علی عباسی کو نجی نیوز چینل ڈان کے آفس پہنچایا گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ دو ویگو ڈالے آئے جن میں صداقت علی عباسی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار سوار تھے۔ وہی اہلکار انہیں عمارت کے اندر لائے اور عمارت کی سکیورٹی کو بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اینکر پرسن عادل شاہزیب کو پہلے سے بتایا جا چکا تھا اور وہ سٹوڈیو میں ان کا انتظار کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صداقت علی عباسی کے انٹرویو کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن چینل انتظامیہ کو اس پر اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور صرف چند لوگوں کو ہی اس بارے میں علم تھا۔ صداقت علی عباسی کا انٹرویو کر تو لیا گیا تاہم بعدازاں چینل پر نشر نہیں ہو سکا۔

اسد طور کے مطابق اس سے قبل پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں بھی صداقت علی عباسی کئی مرتبہ ڈان نیوز کے آفس میں بہت سے پروگرامز میں شرکت کر چکے ہیں۔ وہ ہمیشہ اچھے اور نفیس لباس زیب تن کرتے اور بہت عمدہ طریقے سے پیش آتے تھے۔ لیکن اس بار جب انہیں انٹرویو کے لیے مبینہ طور پر کالے ویگو ڈالے میں لایا گیا تو ان کا حلیہ نیوز چینل پر انٹرویو کے حوالے سے غیر مناسب تھا۔ انہوں نے ٹی شرٹ ایسے پہن رکھی تھی جیسے سونے کے لیے پہنی جاتی ہے۔ ان کے بال بری طرح سے بکھرے ہوئے تھے اور ان کا چہرا سرخ تھا لیکن اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ چہرے کی سرخی کی وجہ کیا تھی۔صحافی نے کہا کہ ذرائع کے مطابق عباسی صاحب کافی مخبوط الحواس نظر آ رہے تھے کیونکہ بارہا ڈان کے آفس آنے کے باوجود اس بار آنے پر انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس فلور پر اور کس سائیڈ پر سٹوڈیو ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کس طرف جانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے ہمراہ آنے والے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد سٹوڈیو میں بھی پورا وقت ان کے ساتھ رہے۔ صداقت عباسی کے بال ٹھیک کیے گئے اور چہرے کا میک اپ کیا گیا۔ عادل شاہزیب کے ساتھ ان کے انٹرویو سے پہلے مبینہ طور پر ساتھ آئے افراد نے ان دونوں کے سامنے ایک ایک صفحہ رکھا۔ اینکر عادل شاہزیب کو دیے جانے والے صفحہ پر شاید انٹرویو کے لیے ہدایات یا پھر پوچھے جانے والے سوالات تحریر تھے۔ اسی طرح صداقت علی عباسی صاحب کو دیے گئے کاغذ پر شاید جوابات تحریر تھے۔ یہ انٹرویو کم و بیش 45 منٹ پر محیط تھا اور صداقت علی عباسی نے عثمان ڈار کی طرح 9 مئی کی پوری ذمہ داری عمران خان پر ڈالنے کے بجائے بشریٰ بی بی پر ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بشریٰ بی بی ہی ان دنوں سارے اجلاسوں کی صدارت کر رہی تھیں اور وہی ہدایات دے رہی تھیں۔

اگلے روز ڈان نیوز کی انتظامیہ کو تمام صورت حال کا علم ہوا تو اس وقت ڈان کے پرنٹ میڈیا سے سینیئر صحافی عارفہ نور اور دیگر صحافیوں نے اس حوالے سے احتجاج کیا کہ چینل کس طرح اپنی پالیسی اور اصولوں کو نظرانداز کر کے ایسا انٹرویو نشر کر سکتا ہے۔ چینل انتظامیہ کے حکم پر اس انٹرویو کو نشر ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد انٹرویو کی فائل کو چینل کے ڈیٹا بیس سے ڈیلیٹ کروا دیا گیا اور عملے کو تنبیہ کی گئی کہ اس انٹرویو کا کوئی لفظ بھی چینل سے باہر نہیں جائے گا۔

Back to top button