صدر علوی نے الیکشن کی تاریخ دینے کی بونگی کیوں ماری؟

تحریک انصاف کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد عمرانڈو صدر عارف علوی نے یکطرفہ طور پر 6 نومبر کو انتخابات کی تاریخ کی تجویز دے دی ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو خط ارسال کیا ہے جس میں صدر علوی نے الیکشن کمیشن کو 6 نومبر کو عام انتخابات کرانے کی تجویز دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا کہہ دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ نو اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا، آرٹیکل 48 کی شق فائیو کے تحت صدر مملکت کو اختیار ہے کہ 90 روز کے اندر تاریخ مقرر کرے۔صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو لکھا کہ عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کے 89 ویں دین یعنی پیر 6 نومبر کو ہوجانے چاہئیں، آپ کو ملاقات کے لیے دعوت دی تھی کہ مل کر آئین پر عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کریں لیکن آپ نے اس کے برعکس موقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔صدر مملکت نے کہا ہے کہ وزارت قانون بھی الیکشن کمیشن جیسی رائے کا حامل ہے،آئین کی تمام شقوں، سیاسی جماعتوں کی مشاورت، صوبائی اسمبلیوں کے موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تجویز کرتا ہوں کہ وہ عام انتخابات کے معاملے میں اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرے۔

۔ صدر کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کو جہاں سیاسی جماعتیں ملک میں ایک اور آئینی بحران پیدا کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہیں وہیں دوسری طرف عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات میں ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر آئینی ماہرین مختلف آرا کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

یادر ہے کہ انتخابی قوانین میں ترمیم کے بعد انتخابات کی تاریخ کا تعین الیکشن کمیشن کو دیا گیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کی طرف سے مسلسل صدر مملکت پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ خاص طور پی ٹی آئی کے کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ صدر نے جس طرح کچھ روز پہلے مسودات قوانین کے حوالے سے صدارتی منصب کا وقار ملحوظ رکھے بغیر بیان دیا تھا۔ اب بھی وہ پارٹی پالیسی کو سامنے رکھتے ہوئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیں ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ صدر مملکت کو الیکشن کمیشن اور وزارت قانون کی طرف سے باقاعدہ باور کرایا جا چکا تھا کہ وہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے ۔ ان کا ایسا کوئی اقدام آئینی اختیارات سے تجاوز ہوگا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے صدر کو یہ بھی باور کرایا گیا تھا کہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس کی تکمیل کیلئے دی جانے والی ڈیڈ لائن کی مدت میں بھی کمی کی گئی ہے۔ جیسے ہی یہ مراحل طے ہو جائیں گے الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے الیکشن کی تاریخ کااعلان کردے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان بارے دباؤ پر صدر عارف علوی نے نگران وزیر قانون احمد عرفان سے دو بار ملاقات کی تاکہ نگراں سیٹ اپ کو انتخابی عمل تیز کرنے پر راضی کیا جا سکے۔تاہم وزارت قانون اس بات پر ڈٹی رہی کہ انتخابات کی تاریخ صرف الیکشن کمیشن کا اختیار ہے اور اس حوالے سے صدر کا کوئی اختیار نہیں ہے۔اس پیش رفت کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں ترامیم آئین پر فوقیت رکھتی ہیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ لگتا ہے تحریک انصاف صدر سے کوئی ایڈونچر کرانا چاہتی ہے۔

آئینی و قانونی ماہرسید منظور علی گیلانی نے نے پی ٹی آئی کے عام انتخابات کے مطالبے کو جائز قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صدرمملکت کی جاب سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنا قطعی طور پر درست نہیں۔ بلکہ اسے پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمی سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ معاملات میں صدر نے ایسا رویہ ضرور رکھا کہ بحیثیت صدر جو کام انہوں نے آزادانہ ذہن سے کرنا تھے۔ ان پر پی ٹی آئی کے چیئر مین سے مشاورت اور رضامندی سے کیے اور خود کو صدر سے زیادہ پی ٹی آئی کا ہمدرد ترین کارکن ثابت کرنے کی کوشش کی۔الیکشن کی تاریخ تجویز کر کے صدر علوی نے ایک ایڈونچر کرتے ہوئے ملک میں آئینی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب سیاسی مبصر اور قانونی ماہر عبدالمعیز جعفری کہتے ہیں کہ صدر کو آئین کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔قانونی ماہر عبدالمعیز جعفری نے کہا کہ آئین ایک ایسی اتھارٹی ہے جو انتخابی تاریخوں کا اعلان کرنے کے ان کے اختیارات کے حوالے سے کسی بھی دعوے کو ترجیح دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار، کسی بھی صورت میں، اسمبلی کی تحلیل کے 90 دنوں کے اندر انتخابات کے آئینی حکم سے مشروط ہے، جس پر صدر عمل پیرا ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔عبدالمعیز جعفری نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے صدر کے اعلان کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ مسئلہ براہ راست سپریم کورٹ پہنچ جائے گا جہاں کسی بھی جج کو انتخابات میں 90 دن کی مدت میں تاخیر کے حق میں آئین کی تشریح کرنا بہت مشکل پیش آئے گی۔

دوسری طرف وفاقی اور صوبائی نگراں وزراء قانون و انصاف نےمتفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہےکہ انتخابات کی تاریخ دینے کا استحقاق الیکشن کمیشن کو حاصل ہے۔ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے آئین کو مجموعی طور پر پڑھا جانا چاہیے اور آئین کی کسی بھی شق کو دیگر متعلقہ دفعات کو الگ کر کے نہیں پڑھنا چاہیے۔ آئین کے مطابق عام انتخابات کا انعقاد اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کا واحد اختیار ہے۔

Back to top button