عمران خان کی جلد جیل سے رہائی نا ممکن کیوں؟

اٹک جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان ملک میں 9 مئی کو کی جانے والی شرپسندابہ کارروائیوں کے ماسٹر مائنڈ اور مرکزی ملزم ثابت ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد عمران خان کا سزا سے بچنا اور مستقبل قریب میں جیل سے باہر آنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے کیونکہ مقتدر حلقے فیصلہ کر چکے ہیں کہ9 مئی کو کی جانے والی شرپسندانہ کارروائیوں میں ملوث کسی ملزم کو کوئی رعایت یا معافی نہیں دی جائے گی۔قرین از قیاس یہی ہے کہ عمران خان عام انتخابات میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی ہونگے۔
تازہ پیشرفت کے مطابق سانحہ نو مئی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 14 مقدمات کی تفتیش مکمل کرلی ہے جس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو دس نامزد مقدمات میں قصور وار قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع جے آئی ٹی کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف مرکزی مقدمہ 96/23 کا چالان دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سوشل میڈیا سے متعلق چار سو سے زائد شواہد ملے ہیں، گرفتار ملزمان کے بیانات اور نشاندہی پر چیئرمین کو گنہگار قرار دیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی حکام کے مطابق جناح ہاؤس حملے میں براہ راست ملوث 80 ملزمان کے بیانات میں سازش کا عنصر واضح ہوا جبکہ نو مئی کے واقعات پر دوران تفتیش براہ راست سازش کے شواہد بھی ملے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے بیانات حالات سے متضاد پائے گئے ہیں۔جے آئی ٹی کے مطابق دیگر نو مقدمات میں بھی ٹھوس شواہد کی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی گنہگار قرار پائے ہیں، چودہ مقدمات کا چالان جلد عدالت میں جمع کرادیا جائے گا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق 9 مئی کو جناح ہائوس پر جلاو گھیرائو کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے علاوہ اسد عمر، شاہ محمود قریشی ، چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت دیگر رہنمائوں کو بھی قصوروارقرار دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سانحہ 9 مئی کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تین دفعہ شامل تفتیش کیا ۔جے آئی ٹی کی ٹیم اٹک جیل میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کا بیان ریکارڈ کرنے گئی تھی ۔
دوسری جانب کارکنوں کو فوج کیخلاف ابھارنے والی تحریک انصاف کی قیادت اب حساس املاک پر حملوں اور آگ لگانے کے واقعات سمیت دیگر پرتشدد کارروائیوں سے برات کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ نقصان ہو جانے کے بعد اب پی ٹی آئی قیادت کہتی نظر آتی ہے کہ ان کا ایسی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم سانحہ 9 مئی بارے سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کا ماننا ہے کہ فوجی قیادت یکسو ہے کہ نو مئی کے واقعات عمران خان کی ایماء پر منظم پلاننگ کے تحت بیرونی شہ پر ہوئے۔ سانحہ 9 مئی میں عمران خان کے ملوث ہونے کے شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں اس لئے ان کیخلاف مقدمے کے اندراج میں تاخیر ہوئی۔ تاہم شواہد سامنے آنے کے بعد عمران خان کی معافی کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔ سلیم صافی کے بقول ریاست معلومات اور شواہد کی بنیاد پر دو چیزوں پر یکسو ہے، ریاست سمجھتی ہے نو مئی کے واقعات فوج کو ڈی مورلائز کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا جسے بیرونی سپورٹ بھی حاصل تھی، فوجی قیادت کے مطابق ایک سیاسی گروہ نے وہ کچھ کیا جو 75سال میں دشمن بھی نہیں کرسکا تھا۔انہوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات میں عمران خان کے ملوث ہونے کے شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں اس لیے ان کیخلاف مقدمے کے اندراج میں تاخیر ہوئی، نو مئی کے واقعات پر درج کیسوں میں بھی عمران خان کو سزا کا خطرہ ہے، ادارے میں یکسوئی ہے کہ نو مئی کے واقعات عمران خان کی ایماء پر منظم پلاننگ کے تحت بیرونی شہ پر ہوا ہے۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا کارکنوں کو فوج کیخلاف ابھارنے کے الزام سے بچنا نا ممکن نظر آتا ہے کیونکہ عمران خان گرفتاری کی صبح بھی فوج کو برا بھلا کہہ کر گھر سے نکلے تھے اور حساس تنصیبات و املاک کو نشانہ بنانے کیلئے فضا تیار کی تھی جبکہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران خان فوج کو بدنام کرنے کیلئے اس کے حساس ادارے اور اس کے بہترین افسر کو چن کر ہدف بناتے رہے ہیں،
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر عمرانڈوز نے ملک کے مختلف شہروں میں ریاستی اداروں کی املاک کو منظم طور پر ہدف بناکر انہیں گزند پہنچائی تھی۔ جو پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کانہ صرف حصہ تھی بلکہ اس کے لئے لگاتار فضا تیار کی گئی تھی جس میں کلیدی کردار خود عمران خان نے اداکیا، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں تحریک انصاف کی قیادت نے لبرٹی چوک میں جمع ہوئے اپنے کارکنوں کو اس مقام کی نشاندہی کی جہاں جاکر انہوں نے احتجاج کرنا ہے بعدازاں وہ اس حساس نوعیت کی عمارت میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کے مرتکب ہوئے۔ مبصرین نے یاد دلایا ہے کہ عمران نے اپنے حکومت سے عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے کے بعد مسلسل دفاعی اداروں کو اور ان کی کمانڈ کو مطعون کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ ان کااثر قبول کرکے انہیں اپنی مدد فراہم کرنے پرمجبور ہو جائیں ایک دوسرے ذریعے کا کہنا ہے کہ وہ فوج پر تنقید کرکے اسے بے حوصلہ کرنے کے خواہاں رہے ہیں حالانکہ پاکستان کی فوج کو عوام کی تائید پر ہمیشہ سے بھروسہ رہا ہے عمران نے فوج کو بدنام کرنے کےلئے عالمی میڈیا کا بھرپور استعمال کیاہے اس سلسلے میں انہوں نے فوج کے ایسے شعبے کے اعلیٰ افسروں کا نام لے کر اور کبھی ان کا نام ایسے بگاڑ کر جو مغربی معاشروں میں بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ بے بنیاد اورسنگین الزامات عائد کئے جن کی وسیع پیمانے پرسوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ سے تشہیر کی گئی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اب یہ ممکن نہیں کہ عمران خان فوج کے خلاف جذبات ابھارنے اور مکمل منصوبہ بندی کے تحت فضا فوج کے خلاف ہموار کرنے کے الزام سے برأت اختیار کرسکیں انہیں اپنی اس ملک دشمن روش کے لئے جواب دہ ہونا پڑے گا۔
