ضدی کپتان بالآخر چوہدریوں کے گھر حاضری دینے پر کیوں مجبور ہوئے؟


معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران اور شریفوں کے مابین بڑھتی ہوئی قربت سے خوفزدہ ہو کر بالآخر چودھری شجاعت کی عیادت کے بہانے ان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی حکومت کو خطرے میں پڑنے سے بچایا جا سکے۔ تاہم واقفان حال کا کہنا ہے کہ نہ تو چوہدری برادران دل سے عمران خان کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی عمران خان کے دل میں ان کے لیے کوئی اچھے جذبات ہیں اس لیے عمران خان کے ان کے گھر جانے سے چوہدری برادران کا خیالات میں کوئی فرق نہیں آیا۔
پاکستان کی سیاست کا ذکر گجرات کے چوہدریوں کے بغیر نامکمل رہتا ہے یہ کہنا شاید کسی حد تک درست ہے، کیونکہ بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں پاکستانی سیاست میں جتنے بھونچال آئے ہیں ان میں کسی نہ کسی طرح گجرات کے چوہدری نمایاں رہے ہیں۔ اسوقت گجرات کے چوہدریوں کی سیاست شجاعت حسین اور پرویزالٰہی لے کر آگے بڑھ رہے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت بھی کسی حد تک انہی کی مرہون منت ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی جماعت کو اقتدار لینے کے لیے 2018 کے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی تھی چنانچہ مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کا ساتھ دینے سے ہی عمران خان وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہو سکے لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ چوہدریوں کو عمران کے پاس لے کر گئے تھے کپتان اب ان کے ساتھ بھی سیدھے میں بات نہیں کرتے اور ہر معاملے میں اپنی من مانی کرتے ہیں۔ ان حالات میں اب یہ اطلاعات ہیں کہ گجرات کے چوہدریوں نے اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر عمران خان کی مزید حمایت جاری رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی شروع کر دی تھی۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے تھے اور عمران پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ اب انہیں چودھریوں کے ساتھ اپنے معاملات خود ٹھیک کرنے پڑیں گے۔ لہذا جب چوہدری برادران نے چند روز پہلے لندن فون کرکے نواز شریف کے ساتھ ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی تو عمران خان کو اپنی حکومت خطرے میں پڑتی دکھائی دی اور چار و ناچار انہیں لاہور میں چوہدری شجاعت کی عیادت کے لئے ان کے گھر جانا پڑ گیا۔ یاد رہے کہ برسراقتدار آنے کے بعد سے عمران خان پہلی مرتبہ چوھدریوں کے گھر گئے ہیں۔ اس سے پہلے پرائیویٹ محفلوں میں انہوں نے چوہدری شجاعت یا پرویز الہی اور ان کی اولاد کے حوالے سے کبھی کوئی اچھی بات نہیں کی اور چودھری برادران بھی یہ سب جانتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ چوہدری برادران نے ساری زندگی مسلم لیگ کی سیاست کی ہے اور قاف لیگ بنانے سے پہلے وہ نواز شریف کے ساتھی تھے۔ نواز شریف اور چوہدری برادران میں بھی تب اختلافات پیدا ہوئے تھے جب نواز شریف کی جانب سے ان کی اہمیت کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کے وعدے کو پورا نہ کیا گیا۔ چنانچہ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی سرپرستی میں چوہدریوں نے مسلم لیگ ق کی بنیاد رکھی جس نے پانچ سال تک وفاق اور پنجاب میں حکومت بھی کی۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ درپردہ قوتوں کی بے پایاں حمایت کے باجود چوہدری صف اول کی سیاسی طاقت کھڑی نہیں کر سکتے تھے۔ پرویز مشرف کے دور میں بھلے چیف ایگزیکٹو کے اختیار ان کے پاس تھے اور وزیر اعظم کا عہدہ اختیارات کے حوالے سے صدر سے کم تھا پھر بھی چوہدری شجاعت کو انتہائی مختصر وقت کے لیے وزیر اعظم بنایا گیا اور پھر ان کی جگہ امپورٹڈ وزیر اعظم شوکت عزیز نے لے لی۔
2008 کے انتخابات میں ق لیگ کی واضع شکست کے بعد چوہدری برادران مرکز میں ن لیگ کے اتحاد چھوڑنے کے بعد پیپلز پارٹی کی ساتھ اتحاد میں دوبارہ حکومت میں آ گئے۔ جتنی دیر بھی یہ حکومت رہی ایک طرح کی خبر ضرور سننے کو ملتی رہی کہ پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے اتحاد میں دراڑیں، یا ’صدر زرداری کا شجاعت کو فون، ق لیگ نے حکومت سے نکلنے کا فیصلہ موخر کر دیا۔‘
2018 میں تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ چوہدریوں کی شراکت داری کے دوران بھی پچھلے اڑھائی سالوں سے اس سے ملتی جلتی خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔
چوہدری برادران نے چند ہفتے پہلے وزیراعظم عمران خان کے ایک عشائیہ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا جس کو ان کا واضح اظہار ناراضی سمجھا گیا تھا۔ تاہم وزیراعظم نے پھر بھی چوہدریوں کو یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ وہ انکی دعوت کے باوجود کیوں نہیں آئے۔ لیکن جب 24 نومبر کو چوہدری برادران نے فون کرکے نواز شریف سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی اور جواب میں نواز شریف نے چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کی تو وزیراعظم کا ماتھا ٹھنکا اور وہ اگلے ہی روز چوہدری برادران کے پاس لاہور پہنچ گئے۔ 25 نومبر کو عمران خان کی چوہدری برادران کے ساتھ ان کے گھر میں ملاقات کے بعد ٹی وی چینلز یہ خبر چلا رہے ہیں کہ ’وزیر اعظم سے ملاقات میں بڑا بریک تھرو، برف پگھل گئی۔ اتحادیوں کے وزیر اعظم سے گلے شکوے دور وغیرہ وغیرہ۔‘
وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں جن گلوں شکووں کا ذکر ہو رہا اس کی ایک جھلک مونس الہی کے پانچ نومبر کے ٹویٹ سے عیاں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’ہمارا پی ٹی آئی سے اتحاد ووٹ کی حد تک ہے۔ ہمارے معاہدے میں عمران خان کے کھانے کھانا شامل نہیں۔‘یہ ٹویٹ انہوں نے ان خبروں کے بعد لکھی جن میں ق لیگ کی طرف سے وزیر اعظم کی کھانے کی دعوت میں شرکت سے انکار سامنے آیا تھا. اسی طرح پارٹی کے ایک اور راہنما طارق بشیر چیمہ کے ٹی وی چینلز برملا گلے شکوے بھی دیکھنے کو نظر آئے جس میں انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم تو ملنا تک گوارہ نہیں کرتے۔‘ ایسے میں یہ سوالات بہر حال اٹھتے ہے کہ چوہدریوں کی سیاست اصل میں ہے کیا؟ نواز شریف سے بھی راستے جدا کیے، پرویز مشرف سے بھی دوری ہو گئی، پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی مدوجزر کا ماحول رہا اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ بھی ساس بہو والا معاملہ ہے۔
اس حوالے سے سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’چوہدری اتحادی سیاست کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ابھی جو تحریک انصاف کے ساتھ کہانی چل رہی ہے اس میں یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اتحادی ہیں تو پھر سلوک بھی اتحادیوں والا ہونا چاہیے۔ مونس الہی کو وفاقی وزیر نہیں بنایا گیا پنجاب میں بھی انہیں ایک وزارت کم دی گئی۔ تو ایسے میں گلے شکوے تو قدرتی بات ہے۔ دوسری طرف بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ چوہدری ساز باز کی سیاست کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی ڈر رہا ہے کہ چوہدری پنجاب میں وزارت اعلی لینے کے لیے جوڑ توڑ کر رہے ہیں۔ تو اعتماد میں کمی کی وجہ سے ہی ایسی صورت حال جنم لیتی ہے۔ باقی میں مستقبل میں ن لیگ کی طرف ان کا کوئی دروازہ کھلتا نہیں دیکھ رہا۔ کیونکہ ن لیگ اب مکمل طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ لے چکی ہے جو چوہدریوں کی سیاست کے مکمل الٹ ہے۔ ہاں اگر اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کا دباؤ لے کر نواز شریف کے ساتھ کوئی سازباز کر لے تو پھر چوہدری برادران بھی ان کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button