محسن داوڑ منظور پشتین سے دور اور بلاول کے قریب ہوگئے

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے سخت گیر رویے نے بالآخر پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ آئندہ پی ڈی ایم کے کسی بھی جلسے یا اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے. یاد رہے کہ محسن داوڑ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی مرضی کے خلاف ذاتی حیثیت میں پی ڈی ایم کے جلسوں میں شریک ہو رہے تھے۔
حالانکہ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں پی ڈی ایم سے دوری اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے محسن داوڑ نے اس تاثر کی نفی کی کہ انہیں مولانا فضل الرحمن کے سخت رویے نے اپوزیشن اتحاد چھوڑنے پر مجبور کیا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے پساور جلسے میں مولانا نے محسن داوڑ کے ساتھ غیر ضروری طور ہر سخت رویہ اپنایا اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اس اجلاس میں کس حیثیت سے اور کیوں شریک ہیں جبکہ انکو بلایا بھی نہیں گیا۔ اب جبکہ پیپلز پارٹی ملتان میں 30 نومبر کو ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کیلئے محسن داوڑ کو دعوت دے چکی ہے، انہوں نے یہ اعلان کیا یے کہ وہ آئندہ اپوزیشن اتحاد کے جلسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مولانا محسوس کریں نہ کریں لیکن محسن داوڑ کے اس فیصلے سے اپوزیشن اتحاد کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ دوسری طرف یہ افواہیں بھی ہیں کہ مولانا نے داوڑ کے خلاف سخت رویہ منظور پشتین کے کہنے پر اپنایا جو پارلیمانی سیاست کے خلاف ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کی جماعت کا کوئی بھی رکن پی ڈی ایم کے جلسوں میں شرکت کرے۔
لہذا اس طرح کی افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ محسن داواڑ شاید پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو محسن داوڑ کے ساتھ کافی محبت سے پیش آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے قومی دھارے کی سیاست میں آ جایئں۔ تاہم محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ ابھی انہوں نے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وقت آنے پر مشاورت کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔
پی ڈی ایم کے آئندہ جلسوں میں شرکت نہ کرنے کے اعلان کے حوالے سے محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ اس میں شامل چند جماعتوں کو ان کی شرکت پر اعتراض تھا اسی لیے وہ آئندہ اس موومنٹ کے کسی بھی جلسے میں شریک نہیں ہوں گے۔ حال ہی میں پشاور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں محسن داوڑ کو دعوت نہیں دی گئی تھی اور اس سے پہلے مختلف اخباروں میں یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ 17 نومبر کو پی ڈی ایم کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے تھے، جس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے محسن داوڑ کو پی ڈی ایم اتحاد سے نکال دیا۔ محسن داوڑ کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ ’پشاور جلسے میں دعوت نہ دینے کے باوجود 30 نومبر کو ملتان کے جلسے میں اُنھیں شرکت کی دعوت دی گئی ہیں لیکن وہ اب شریک نہیں ہوں گے۔‘ اس سے قبل پی ڈی ایم کے ہونے والے چار حکومت مخالف جلسوں میں سے دو میں داوڑ کو دعوت دی گئی تھی جن میں سے صرف کراچی کے ایک ہی جلسے میں اُنھوں نے شرکت کی تھی، جبکہ کوئٹہ جلسے میں شرکت کے لیے انھیں صوبائی حکومت نے اجازت نہیں دی اور ائیر پورٹ پہنچنے کے بعد اُنھیں سڑک کے ذریعے واپس اسلام آباد روانہ کر دیا گیا تھا۔
داوڑ کا کہنا ہے ’مجھے صرف بلاول کے علاوہ کوئٹہ جلسے میں شرکت کے لیے سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی دعوت دی تھی۔‘
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کے مطابق پی ڈی ایم میں شریک بعض سیاسی پارٹیوں کو ان کی موجودگی پر اعتراضات تھے۔ اگرچہ انھوں نے ان پارٹیوں میں کسی پارٹی کا نام نہیں لیا لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ اعتراضات کیا تھے تو محسن داوڑ نے کہا کہ ’ان پارٹیوں کو اعتراض یہ تھا کہ میں کسی پارٹی میں کیوں نہیں یا صرف پارٹی والے ہی اس موومنٹ میں شریک ہو سکتے ہیں۔‘ محسن داوڑ کا دعویٰ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن صرف انھوں نے اور علی وزیر نے ہی کی ہے کیونکہ آرمی ایکٹ میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں بھی حکومت کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے پہلے ہی دن پی ڈی ایم قیادت کو بتا دیا تھا کہ میں اسمبلی میں بھی آزاد حیثیت سے ہوں اور آپ کے ساتھ بھی آزاد حیثیت سے شرکت کروں گا۔‘
یاد رہے کہ محسن داوڑ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن ہیں لیکن وہ اسمبلی میں آزاد حیثیت سے اپوزیشن میں ہیں۔ اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق 17 نومبر کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں قبائلی علاقوں کے انضمام اور میران شاہ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے آخری جلسے پر مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے اور تلخ گفتگو بھی ہوئی تھی۔ مولانا نے اس اجلاس میں قبائلی علاقوں کے انضمام کو بین الاقوامی قوتوں کی سازش قرار دیا اور پی ٹی ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کو شمالی وزیرستان میں جلسے کی اجازت دی گئی تھی لیکن ان کی جماعت کو وزیرستان میں جلسے کی اجازت نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمان کی ان باتوں کے جواب میں محسن داوڑ نے فاٹا کے انضمام کو قبائلی عوام کی خواہش کے عین مطابق قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی ایم نے وزیرستان میں سارے جلسے حکومتی اجازت کے بغیربزور بازو پر منعقد کئے اور مولانا بھی یہ کوشش کر سکتے ہیں۔
محسن داوڑ کے جواب پر مولانا سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے ان کی پی ڈی ایم اجلاس میں شرکت پر سوال اُٹھاتے ہوئے پوچھ لیا کہ سیاسی پارٹیوں کے اس اجلاس میں وہ کس جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جواب میں محسن داوڑ نے بتایا تھا کہ وہ آزاد حیثیت سے پہلے ہی دن سے ان پارٹیوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں کل دس سیاسی جماعتیں ہیں اور محسن داوڑ کے ساتھ پی ٹی ایم لکھ کر یہ گیارہ جماعتیں بن گئی تھی۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان نے محسن داوڑ کی شرکت پر اس لیے سوال اٹھایا تھا کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں ہے تو وہ کیسے پی ڈی ایم میں شرکت کر سکتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ یے کہ جب سے پشتون تحفظ موومنٹ وجود میں آئی ہے کئی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو بھی اس موومنٹ سے اختلافات ہیں اور اس کی بڑی وجہ اس نے سابقہ قبائلی علاقوں میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو سیاسی طور پر ٹف ٹائم دیا ہے۔ اگرچہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تحریک پارلیمانی سیاست میں کبھی حصہ نہیں لے گی لیکن پھر بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو تشویش ہے۔ اگرچہ پشتون تحفظ موومنٹ نے سابقہ قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام پر کوئی باضابطہ موقف اختیار نہیں کیا تھا لیکن محسن داوڑ ذاتی حیثیت سے اس انضمام کے حق میں تھے اور ابھی تک اس پر قائم ہیں۔ واضح رہے کہ فاٹا کے انضمام پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس کے حق میں جبکہ جمعیت علما اسلام (ف) اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی اس کے خلاف تھے۔
اگرچہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تنظیم غیر پارلیمانی ہے اور غیر پارلیمانی رہے گی۔ لیکن ان خبروں کے بعد کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے محسن داوڑ کو پی ڈی ایم سے نکال دیا ہے سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے منظور پشتین کے کہنے پر محسن داوڑ کو پی ڈی ایم سے نکالا ہے۔ خود محسن داوڑ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ انھوں نے پہلے دن سے ہی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا اور اسمبلی کا رکن بھی آزاد حیثیت سے ہی بنا تھا۔
’جہاں تک یہ بات ہے کہ منظور کے کہنے پر یہ سب کچھ ہوا تو پارلیمان میں، میں پی ٹی ایم کا نمائندہ ہوں اور نہ ہی پی ٹی ایم کا پارلیمانی سیاست میں کوئی ڈھانچہ ہے۔ تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ پی ڈی ایم کے بننے کے بعد سوشل میڈیا پر جب یہ کہا گیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی شرکت کی وجہ سے اپوزیشن کی تحریک کو نئی طاقت ملی ہے تو جواب میں خود پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’آل پارٹیز کانفرنس کی میٹنگ اور اعلامیہ انتہائی خوش آئند ہے مگر اس میں پی ٹی ایم کو دعوت دی گئی تھی اور نہ بحیثیت تحریک پی ٹی ایم نے اس میں شرکت کی ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ آل پارٹیز آئین کی بالادستی کے لیے قدم اُٹھائے گی۔ پی ٹی ایم نے ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کی ہے۔‘
اس بیک گراؤنڈ میں بی بی سی کے نمائندے نے محسن داوڑ سے یہ سوال بھی کیا وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں؟ جواب میں محسن داوڑ نے کہا کہ وہ بلاول بھٹو کی بہت عزت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن پی پی پی میں شامل ہونے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وہ وقت آنے پر ساتھیوں سے مشاورت کے ساتھ کریں گے۔
