پی ڈی ایم کا جلسہ، ڈپٹی کمشنر ملتان کا اجازت دینے سے انکار

30 نومبر کو ملتان میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ ہوگا یانہیں ؟ ضلعی انتظامیہ نے جلسے کیلئے پیپلزپارٹی کی درخواست مستردکردی۔
ڈپٹی کمشنر کہتے ہیں کہ 31 جنوری 2021 تک ہرطرح کی سماجی تقریبات پرپابندی ہے، کوروناوائرس کےبڑھتے کیسزپرپہلےہی 8 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہے، 300 سے زائد افراد کے جمع ہونے کی اجازت نہیں دےسکتے۔
اس کے علاوہ گزشتہ روز گرفتار ہونے والے سابق رکن قومی اسمبلی موسیٰ گیلانی کو تھانہ چہلیک کی پولیس نے آج ساتھیوں سمیت اسپیشل مجسٹریٹ جواد ظفر کی عدالت میں پیش کیا جہاں موسیٰ گیلانی سمیت تمام گرفتار افراد کی ضمانت منظور کر لی گئی۔موسیٰ گیلانی نے اس موقع پر کہا کہ گرفتاریوں سے حوصلہ بلند ہوا ہے اب کارکن نہیں لیڈرز بھی قربیانیاں دیں گے۔اس موقع پر یوسف رضا گیلانی کاکہناتھاکہ موجودہ حکومت آمریت سے بھی بد تر ہے ، کارکنوں کی گرفتاریوں سے ثابت ہوا پی ڈی ایم جلسہ ہونے سے قبل ہی کامیاب ہوگیا۔ادھر ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک نے 31 جنوری 2021ء تک سماجی تقریبات پر پابندی عائد ہونے پر پی ڈی ایم جلسہ کی درخواست اجازت مسترد کر دی ہے۔ ملتان کے ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کے مطابق ‘قانونی طور پر اس جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ صوبائی حکومت نے تین سو سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر 31 جنوری تک پابندی عائد کر رکھی ہے۔’انہوں نے مزید بتایا کہ ‘کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شہر میں پہلے ہی آٹھ جگہوں پر سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جا چکا ہے۔ تو ایسے میں جلسہ کرنا لوگوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ اس لیے جلسہ کرنا غیر قانونی ہے۔’
دوسری طرف پیپلزپارٹی جلسے کی بھرپور تیاریاں کر رہی ہے جبکہ پولیس نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحب زادے علی موسیٰ گیلانی کو بھی ایک روز قبل گرفتار کر لیا تھا جسے جمعرات 26 نومبر کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ان کے بڑے بھائی علی حیدر گیلانی کے مطابق جلسہ ہر صورت میں ہو گا۔ ‘ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ کورونا کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے، اور خود ہمارے چیئرمین کو کورونا ہو چکا یے۔ اس لیے وہ اس جلسے میں شرکت نہیں کریں گے، البتہ ان کا ورچوئل خطاب ضرور ہو گا۔’انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ‘ہم کورونا کے حوالے سے محتاط ہیں اور بڑی تعداد میں ماسک اور ہینڈ سینیٹائزرز کی فراہمی جلسے کے داخلی راستوں پر یقینی بنائیں گے، لیکن جلسہ ہر صورت میں ہو گا۔ حکومت کورونا کی آڑ میں اپوزیشن کو دبانا چاہتی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔’
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا لوگوں کے اتنی تعداد میں اکھٹے ہونے سے ان کی زندگیاں داؤ پر نہیں لگیں گی؟ ان کا کہنا تھا ‘ہم بالکل بھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہمارا جلسہ کسی بھی پرہجوم بازار میں لوگوں کے جم غفیر اور ماسک تک نہ پہننے سے مختلف ہو گا۔ ہمارا ہر کارکن ماسک پہنے گا اور سینیٹائزر استعمال کرے گا۔ اگر بازاروں کے رش سے کورونا نہیں پھیل رہا جہاں احتیاط بھی نہ ہونے کے برابر ہے تو جہاں احتیاط کی جا رہی ہے وہاں کیسے پھیلے گا؟’علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ کورونا کی بات ہوتی تو حکومت سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرتی۔ ‘میرے بھائی کی گرفتاری اور ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاملہ کورونا کا ہے ہی نہیں، یہ حکومت کی طرف سے سیاسی تحریک کو کمزور کرنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ ہم تو حکومت سے زیادہ احتیاط کر رہے ہیں اور کریں گے۔’
