ضمنی الیکشن ،پولنگ کے دوران مختلف شہروں میں ہنگامے

قومی و صوبائی اسمبلی کی 11 نشستوں پر پولنگ کاعمل جاری ہے تاہم مختلف شہروں میں پولنگ سٹیشنزکے باہرکارکن ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، کہیں کہیں پولیس کیساتھ بھی جھگڑوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عوام نیشنل پارٹی (اے این پی) کے کارکنان جبکہ کراچی میں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے کارکنان کے درمیان تصادم کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان ہدا علی گوہر نے بتایا کہ پی پی 209 خانیوال میں پولنگ اسٹیشن کے باہر سیاسی کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، ہدا علی گوہر نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت صورتحال پر قابو پالیا اور ووٹنگ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی، انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جھگڑے میں کون سی سیاسی جماعت کے کارکنان ملوث تھے۔
ایک اور بیان میں ہدا علی گوہر نے کہا کہ فیصل آباد کے حلقہ این اے 108 کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے، رانا ثنا اللہ نے گھر گھر انتخابی مہم اور امیدوار عابد شیر علی کی کارنر میٹنگ میں شرکت کی جوکہ این اے 108 فیصل آباد کے حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں، رانا ثنا اللہ کو صبح 10 بجے تک وضاحت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر اور سٹی پولیس کو خط لکھ کر حکم دیا کہ وہ سرکاری عہدے داروں کو حلقے سے فوری طور پر بے دخل کریں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ووٹر لسٹ سے مختلف ووٹرز کے نام غائب ہیں۔
فرخ حبیب نے دعویٰ کیا تھا کہ این اے 108 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 162 پر پولنگ ایجنٹس کو فراہم کردہ ووٹر لسٹ میں کئی ووٹرز کے نام غائب ہیں، ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ متعلقہ حلقے میں الیکشن ناکافی سیکیورٹی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے، الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ ووٹر لسٹیں ایک شفاف اور غلطی سے پاک عمل کے تحت مرتب کی جاتی ہیں۔
دوسری جانب کراچی میں پولنگ کا عمل مبینہ تشدد کے دعوئوں سے اس وقت متاثر ہوگیا جب پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر و رکن صوبائی اسمبلی بلال غفار کو سر پر پٹی بندھے دیکھا گیا۔
ویڈیو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں 10 سے 15 لوگوں نے دھکے دیے اور اینٹوں سے ان پرحملہ کیا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سلیم بلوچ کو حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مزید کہا کہ جب انہوں نے مدد کے لیے پکارا تو وہاں موجود پولیس نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔علی زیدی نے بھی الزام عائد کیا کہ حملہ آور پیپلزپارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سلیم بلوچ اور سلمان مراد تھے، پی ٹی آئی کے رکن ریٹائرڈ جج رانا ذکی شمسی غفار کے ساتھ تھے اور ان پر بھی جسمانی تشدد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ شکست سے ڈرتے ہیں اور تشدد کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما رہنما خرم شیر زمان نے بھی بلال غفار کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ زخمی حالت میں کار میں بیٹھے نظر آرہے ہیں، ان بدمعاشوں نے مجھ پر حملہ کیا، یہ پیپلزپارٹی کے لوگ تھے، ان کے رکن صوبائی اسمبلی سلیم بلوچ اور دیگر نے مجھ پر حملہ کیا، پولیس بھی وہاں موجود تھی انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا، میں نے صرف پریذائڈنگ افسر کو توجہ دلائی تھی کہ دھاندلی ہورہی ہے۔
وزیر اطلاعات سندھ اور پیپلزپارٹی رہنما شرجیل میمن نے ایک ویڈیو پوسٹ کی اور کہا کہ گوہر خٹک کے ہمراہ پی ٹی آئی کارکان پولنگ اسٹیشنز میں جرائم پیشہ افراد اور ہتھیاروں کے ساتھ گھوم رہے ہیں، ویڈیو میں پی ٹی آئی کا جھنڈہ پہنے ایک شخص کو پولنگ اسٹیشن میں عملے سے جارحانہ انداز میں بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی غیر قانونی طور پر ہر پولنگ اسٹیشن کا دورہ کر رہے ہیں اور پریزائیڈنگ افسران کو دھمکیاں دے رہے ہیں، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر قانونی نقل و حرکت پر کارروائی کیوں نہیں کر رہا؟
اس واقعے پرردعمل دیتے ہوئے صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا کہ بلال غفار نے این اے 237 میں عمران خان کی یقینی شکست کے خوف سے حالات خراب کرنے کی کوشش کی، بدمعاشی اور بد تمیزی تحریک انصاف کا طرہ امتیاز ہے، سلیم بلوچ پولنگ اسٹیشن میں بلال غفار کی غنڈہ گردی کی اطلاع کے بعد وہاں پہنچا، حکیم بلوچ کی یقینی فتح سے تاریک انصاف بوکھلاہٹ کا شکار ہے، الیکشن کمیشن تحریک انصاف کی بدمعاشی کا فوری نوٹس لے، عمرانی ٹولے نے اپنی یقینی شکست کے ابھی سے بہانے تلاش کرنا شروع کردیے ہیں، عمرانی ٹولے کو خوف ہے کہ کراچی میں عبرتناک شکست کے بعد عمران خان اپنے نالائق ٹولے کو عاق کردے گا۔
ادھرملیر پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ بلال غفار اسکول میں ذاتی تنازع پر جھگڑے کے دوران زخمی ہوئےاورانہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا، اس حوالے سےمزید تفتیش ابھی جاری ہے۔
دوسری جانب این اے31 پشاورمیں پولنگ کے دوران عوامی نیشنل پارٹی اورتحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا، ٹیلی ویژن پرنشرہونے والی فوٹیج میں پولنگ اسٹیشن کے باہر اے این پی اور پی ٹی آئی کے کارکنان کو جھگڑااورشدید نعرے بازی کرتے دیکھا گیا، واقعے کے باعث ووٹنگ کچھ دیر کے لیے روک دی گئی اور ایک کارکن کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، بعدازاں پولیس پولنگ اسٹیشن پہنچی اور 2 کارکنوں کو حراست میں لے لیا جس کے بعد ووٹنگ دوبارہ شروع ہوئی، تاحال یہ واضح نہیں کہ زیرحراست کارکنان کا تعلق کس پارٹی سے ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا معظم جا انصاری نے بتایا کہ 1100 پولنگ اسٹیشنز پر 13 ہزار سے زائد نفری تعینات ہے، اکا دکا واقعات ہورہے ہیں لیکن کوئی بڑا واقعہ تاحال رونما نہیں ہوا، چارسدہ میں نجی سیکیورٹی گارڈز کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا۔
