ایف پی سی سی آئی نے ملک کا پہلا ’شیڈو بجٹ‘ پیش کر دیا

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 2026-27 کے لیے ملک کی تاریخ کا پہلا ’شیڈو بجٹ‘ جاری کر دیا ہے
شیڈول بجٹ میں معیشت کی بحالی، ٹیکس نظام میں اصلاحات، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور 3 سال میں مالی خسارہ صفر کرنے کا متبادل اقتصادی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پہلی بار پاکستان کی کاروباری برادری نے محض تجاویز دینے کے بجائے ایک مکمل متبادل اقتصادی فریم ورک پیش کیا ہے، جس میں شیڈو وفاقی بجٹ، شیڈو اکنامک سروے، ٹیکس پالیسی و انتظامی اصلاحات اور پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ شامل ہیں۔یہ دستاویزات اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک (ایف پی بی ڈی) نے تیار کی ہیں۔
شیڈو بجٹ میں جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے، تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح 35 فیصد سے 20 فیصد تک لانے، شرح سود میں کمی، سبسڈیز میں کمی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کی تجاویز دی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق ان اقدامات سے مالی سال 2027 میں 19.6 کھرب روپے ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود کیا جا سکتا ہے۔
