پاکستان کو قطر سے ایل این جی کی تیسری کھیپ مل گئی

پاکستان کی کمزور توانائی سپلائی چین کو ایک اور بڑا سہارا اس وقت ملا جب قطر سے آنے والا ایل این جی ٹینکر ’’فویرت‘‘ حساس آبنائے ہرمز عبور کرکے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہوگیا۔
ایل این جی ٹینکر ’’فویرت‘‘ آج یا کل اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان کے پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور ایل این جی جہاز بھی آئندہ چند روز میں پہنچنے والا ہے، جو پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ (پی جی پی ایل) ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگا۔
یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد شدید گرمیوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور خلیجی خطے میں کشیدہ صورتحال کے دوران بلا تعطل ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کررہا ہے۔
فویرت کی آمد دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں قطر سے آنے والی مسلسل تیسری ایل این جی کھیپ ہے۔
اس سے قبل 15 مئی کو ’’مِہزم‘‘ نامی ایل این جی بردار جہاز، جو تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار مکعب میٹر مائع قدرتی گیس لے کر آیا تھا، پورٹ قاسم کے پی جی پی ایل ٹرمینل 12 پر لنگر انداز ہوا تھا۔

Back to top button