بجلی و گیس کاگردشی قرضہ 5100 ارب روپےسے تجاوزکرگیا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف ہوا ہے کہ بجلی اور گیس کا مجموعی گردشی قرضہ 5100 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے لیے پاکستان کی معاشی صورتحال اور مالی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ابھرتے ہوئے معاشی خطرات، آئی ایم ایف پروگرام کی کارکردگی، اور بنیادی اصلاحات کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بجلی وگیس کا گردشی قرضہ جو گزشتہ برس تین ہزار 500ارب روپے تھا جبکہ مجموعی بیرونی قرضہ 137ارب 56کروڑ ڈالر ہے۔
بریفنگ کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ بتدریج معاشی بحالی کے آثار کے باوجود پاکستان اب بھی “غیر مستحکم استحکام” کے راستے پر ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی نمو کی شرح 3.5فیصد سے 4.5فیصد کے درمیان متوقع ہے، جبکہ مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں میں داخل ہو چکی اور اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر 10.9فیصد تک پہنچ گئی۔
قائمہ کمیٹی نے ٹیکس بیس بڑھانے کے بجائے ان ڈائر یکٹ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی پر مسلسل انحصار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جبکہ چیئرمین کمیٹی نے گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، سرکاری اداروں میں اصلاحات کی سست رفتار،مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے باعث بڑھتے ہوئے سماجی و معاشی دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

Back to top button