ضمنی الیکشن میں عمران کی مقبولیت میں 25 فیصد کمی


تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 8 نشستوں میں سے 6 دوبارہ جیت کر خود کو فاتح تصور کر رہی ہے اور اپنی عوامی مقبولیت میں اضافے کا دعویٰ کر رہی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ضمنی انتخابات میں عمران نے اپنے ہی حلقوں میں 25 فیصد مقبولیت کھو دی ہے اور 8 میں سے 2 نشستیں ہار دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شکیل انجم کا کہنا ہے کہ ملتان سے پی ٹی آئی کی شکست اور پیپلز پارٹی کی کامیابی عمران کے لئے عمومی اور شاہ محمود قریشی کے لئے خصوصی طور پر خطرے کی گھنٹی کی صورت میں اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ خداوند عالم کو تکبر پسند نہیں اور وہ بڑے بڑے قلعوں کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

شکیل انجم کے مطابق پنجاب حکومت کے اندرونی مخالفین کا صحیح یا غلط مؤقف ہے کہ ملتان کی نشست پر تحریک انصاف کی شکست وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی جانب سے شاہ محمود قریشی کی مخالفانہ رویہ کا جواب ہے کیونکہ پرویز الٰہی بھی موقع محل کے مطابق سیاست کی دکان چلانے پر ایمان رکھتے ہیں اور انہوں نے جنرل مشرف کے دور اقتدار میں ان کی حکومت میں شامل ہو کر ان کی طرز سیاست پر منفی رنگ چڑھا کر جس طرح اس کا حلیہ بگاڑا تھا اس کا تماشہ ساری دنیا نے دیکھا تھا۔ اسی موقع پرستی کی سیاست کے طفیل جنرل مشرف کو بدترین حالات کا سامنا کرتے ہوئے ملک بدر ہونا پڑا جبکہ پرویز الٰہی نے عمران خان کی مقبولیت کے طفیل پھر صرف 10 سیٹوں کے سہارے پنجاب پر حکومت جما لی اور تحریک انصاف کو بے دخل کر کے عملی طور پر پارٹی میں اختلافات کی بنیاد ڈال دی اور اختلاف کرنے والے کلیدی حیثیت رکھنے والے بعض رہنماؤں کو پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔

شکیل انجم کے بقول، ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومتوں نے ریاستی اختیارات اور وسائل استعمال کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور نے تو سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے لیکن ہارنے والے بیشتر لوگوں نے اپنے اپنے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور انہیں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نتائج کو ریاستی طاقت کے زیراثر قرار دیا ہے۔
عمران خان کی طرز سیاست سے اختلاف کرنے والے بعض پارٹی رہنماؤں نے قومی اسمبلی کی 8 میں سے 6 نشستوں پر خود الیکشن لڑنے کے اقدام پر شدید الفاظ میں تنقید کی اور عمران خان کی اس حرکت کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ثابت یہ ہوتا کہ تحریک انصاف صرف عمران خان ہے اور انکے علاوہ ایسا کوئی الیکٹیبل لیڈر پارٹی میں موجود نہیں جسے الیکشن جیتنے کے لئے میدان میں اتارا جا سکے اور ہر جگہ عمران خان کا چہرہ نہ بیچنا پڑے۔

شکیل انجم سوال کرتے ہیں کہ کیا عمران خان سیاسی رموز سے اس قدر نابلد ہیں انہیں ایسے حالات سے آگاہی نہ ہو کہ ایک سیٹ کے علاوہ انہیں تمام نشستیں چھوڑنا ہونگی اور ان کی چھوڑی ہوئی نشستوں پر پھر الیکشن ہونے ہیں اور اس طریقے سے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت نہیں بنا سکتے خواہ وہ سو بار بھی پارلیمنٹ کی تمام نشستوں پر الیکشن لڑکر جیت کیوں نہ جائیں الیکشن کا میدان تو پھر بھی سجے گا۔

دوسری جانب پی ڈی ایم نے کچھ گنوائے بغیر قومی اسمبلی میں اپنی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن الیکشن نتائج نے پی ڈی ایم کی ان امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ آڈیو لیکس کے نتیجے میں عمران خان کی مقبولیت میں کمی ہو گی اور ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو بد ترین شکست کی ہزیمت کا سامنا کرنا ہو گا۔ نتیجہ ان کی خواہشات کے برعکس نکلا اور خود انہیں شرمندگی اٹھانا پڑی۔ لیکن پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی 11 میں سے 3 نشستوں پر تحریک انصاف کی شکست ان کی تنزلی کا نقطہ آغاز ہے۔ دوسرا انتہائی حساس اور اہم معاملہ امریکی صدر جو بائیدن کا ایک بیان ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بائیڈن کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کے بعد بائیڈن کو بھی ٹرمپ جیسے عالمی رہنماؤں کی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔!

Back to top button