طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے پر فضل الرحمن کی امریکہ پر تنقید

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے پر پاکستان اور امریکہ دونوں کو تنقید کا نشاہ بنایا ہے۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پشاور میں جے یو آئی کے صوبائی جنرل کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو چاہئے کہ طالبان کے ساتھ دوحہ معاہدے کی روشنی میں ان کی حکومت کو فوری تسلیم کرے۔

پشاور میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کابل میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، موجودہ حکومت نے 40 سال غیر ملکی طاقتوں اور حملہ آروں کے خلاف جدوجہد کرنے والے افغانوں کو مشکل میں چھوڑ دیا ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں عالمی برادری کو افغانستان کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے سنجیدہ فیصلہ کرنا پڑے گا۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ جنرل کونسل کے اجلاس کاآغاز جمعے کو صوبائی سیکریٹریٹ میں ہوا تھا جس میں قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا سے ہزار سے زائد اراکین نے شرکت کی ۔کونسل کے اختتامی سیشن سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایوان میں نئے قوانین متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مغربی ایجنڈے کی پیروی کر رہی ہے ، میں نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی۔جے یو ایف کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کا ڈومیسٹک وائلنس بل لانے، مدارس کو ریگیولیٹ کرنے کے نام پر نیا قانون متعارف کرونے اور نو عمروں کو اسلام قبول کرنے پر پابندی عائد کرنے کا کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی ناتجربہ کار پالیسیوں اور وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے وقت پڑنے پر پاکستان کے قریبی پڑوسیوں کو مایوس کیا ہے۔جے یو آئی ایف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک خراب حکمرانی اور مالیاتی بد انتظامی کی وجہ سے دو راہے پر ہے۔

تاجروں پر نئے ٹیکس لگانے، پشاور کے رپیڈ بس ٹرانزٹ (بی آر ٹی) جیسے بڑے منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں تاخیر کے حوالے سے تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا گیا کہ جے یو آئی کا عزم ہے کہ ایسے مشکل وقت میں لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

Back to top button