طالبان نے صدر غنی کے گھر پر اپنا جھنڈا لہرا دیا

امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہونے سے پہلے ہی افغان طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے لوگرصوبے کے ضلع محمد آغا پر قبضہ کر لیا ہے اور صدر اشرف غنی کے سرخاب گاؤں میں انکے آبائی گھر پر اپنی ‘امارت اسلامیہ افغانستان‘ کا پرچم لہرا دیا ہے۔ یاد رہے کہ افغان صدر کا گھر ضلع لوگر کے گاؤں سرخاب میں واقع ہے جو افغان دارالحکومت کابل سے فقط 30 کلو میٹر دور ہے۔ اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان نے یہ دعوی کر دیا ہے کہ افغانستان کے 384 اضلاع میں سے 154 پر طالبان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اور 100 سے زائد اضلاع اس وقت طالبان کے گھیرے میں آ چکے ہیں۔
سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے مطابق افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا آبائی گاؤں لوگر کے ضلع محمد آغا میں واقع ہے۔ اس گاؤں کا نام سرخاب ہے، جہاں آج بھی ڈاکٹر اشرف غنی اور ان کے خاندان کے پرانے گھر موجود ہیں۔ انکامکہنا ہے کہ طالبان صرف کابل کے جنوب میں واقع لوگر کے ضلع محمد آغا تک ہی نہیں پہنچے، بلکہ کچھ ہی دنوں میں انہوں نے شمال کے بہت سے اہم اضلاع پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ کچھ صوبوں کے ہیڈکوارٹرز پر انہوں نے قبضے سے گریز کیا کیوں کہ ایسی صورت میں فضائی بمباری کا خدشہ ہوتا۔ طالبان اکثر علاقوں پر خونریزی کے بغیر قبضے کی کوششوں میں ہیں۔ کچھ دن پہلے شمال میں عبدالرشید دوستم، استاد محقق اور عطا محمد نور نے طالبان کے مقابلے کے لیے ایک اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن افغان طالبان کی پیش قدمی رکی نہیں۔زابل، فاریاب اور فراہ سمیت کئی صوبوں میں افغان نیشنل آرمی نے مزاحمت کیے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔
حامد میر کے مطابق افغان طالبان نے یہ حکمت عملی بھی اختیار کی کہ اگر کہیں افغان نیشنل آرمی گھیرے میں آ گئی اور اسکے فوجیوں نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کر دیا، تو انہیں ہتھیاروں سمیت بھاگ جانے کا راستہ دے دیا گیا، یوں وہ کئی اہم علاقوں میں اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ طالبان کی پیش قدمی روکنے میں ناکامی پر ہی صدر اشرف غنی نے ملکی وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو تبدیل کر دیا ہے۔ وزیر دفاع اسد اللہ خالد کی جگہ جنرل بسم اللہ خان محمدی کو لایا گیا ہے اور وزیر داخلہ حیات اللہ حیات کی جگہ جنرل عبدالستار مرزا خیل کو یہ وزارت سونپی گئی ہے۔ افغان طالبان کی طرف سے واضح کر دیا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر تک ملک سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کو وہ افغان سرزمین پر برداشت نہیں کریں گے۔ ترکی کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی تھی کہ وہ کابل ایئر پورٹ کی حفاظت کے لیے اپنی فوج کابل میں رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ بھی افغانستان سے نکل جائے۔
طالبان کی پیش قدمی نے ایک طرف امریکا اور یورپ اور دوسری طرف ایسے تمام مسلم ممالک کو بھی پریشان کر دیا ہے، جو افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ امریکی فوج گیارہ ستمبر 2021 تک افغانستان سے نکلنا چاہتی ہے مگر افغان طالبان کو کابل پر قبضے سے روکنا بھی چاہتی ہے۔ اسی لیے امریکہ افغان نیشنل آرمی کی فضائی مدد کے لیے پاکستان میں ایک فوجی اڈہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، جسے بوقت ضرورت طالبان پر بمباری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک کالم میں واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہیں لیکن امریکا کو پاکستان میں فوجی اڈے نہیں دیں گے۔ اسی کالم میں انہوں نے لکھا ہے کہ اگر طالبان نے کابل پر فوجی طاقت سے قبضے کی کوشش کی تو بہت خونریزی ہو گی۔ حامد۔میر کہتے ہیں کہ میں نے اس کالم پر افغان طالبان کے دوحہ میں قائم سیاسی دفتر کے ترجمان محمد سہیل شاہین کی رائے طلب کی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ فوجی طاقت سے افغان مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتے بلکہ تمام افغان گروپوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی پرامن حل تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
لیکن ایک طرف محمد سہیل شاہین مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف افغانستان میں ان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کے 384 اضلاع میں سے 154 پر طالبان کا مکمل قبضہ ہے اور 100 سے زائد اضلاع طالبان کے گھیرے میں ہیں۔ حامد میر کے مطابق اشرف غنی کی حکومت طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہی ہے حالانکہ شمالی افغانستان کا کوئی علاقہ پاکستانی سرحد کے قریب نہیں ہے اور پاکستان کی طرف سے طالبان کو مدد فراہم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ عجیب بات ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں افغان طالبان نے ایران سے بھی خوب مدد حاصل کی لیکن حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی ہمیشہ پاکستان کو طالبان کا سرپرست قرار دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے ملا عبدالغنی برادر پاکستان کی قید میں رہے۔
حامد میر کے مطابق پاکستان کے ارباب اختیار نے ہمیشہ افغان طالبان کے بارے میں تاثر دیا ہے کہ پاکستان ان پر بہت اثر رکھتا ہے لیکن اہم مواقع پر افغان طالبان نے پاکستان کی بات ماننے سے انکار کیا اور پاکستان کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ حال ہی میں ترکی نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم کانفرنس کا اعلان کیا لیکن افغان طالبان نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ انکا کہنا ہے مغربی ذرائع ابلاغ یہ بھول جاتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے اپنی افغان پالیسی بدلی تو افغان طالبان کے دل بھی بدل گئے۔ وہ پاکستان کے ارباب اختیار پر اعتبار نہیں کرتے۔ پاکستان ایک طرف طالبان کو کابل پر قبضے سے دور رکھنا چاہتا ہے تو دوسری طرف طالبان پر اثر قائم رکھنے کا بھی خواہش مند ہے۔ پاکستان ایک طرف امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار کر رہا ہے تو دوسری طرف ‘ایف اے ٹی ایف‘ کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اور آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے لیے امریکا کی مدد کا بھی خواہاں ہے۔
لہذا حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان کے بارے میں ایک واضح اور شفاف پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ خدانخواستہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تو افغان مہاجرین کا پہلا ٹھکانہ پاکستان ہی بنے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ سرخاب میں اشرف غنی کے آبائی گھر پر طالبان اپنا پرچم لہرا چکے ہیں۔ اگر اشرف غنی کابل کے صدارتی محل سے بھی نکال دیے گئے تو ان کا ٹھکانہ کوئی مغربی ملک ہو گا اور پھر ان کا اصل نشانہ طالبان نہیں بلکہ پاکستان ہو گا۔ اس صورت حال میں سب مغربی طاقتیں غنی کی پشت پر کھڑی ہوں گی۔ حامد میر کہتے ہیں کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ طالبان ابھی تک فوجی پیش قدمی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی بات بھی کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا اشرف غنی کے کچھ قریبی ساتھیوں سے رابطہ ہے اور وہ اپنے مخالف گروپوں کے ساتھ ‘کچھ لو اور کچھ دو‘ کی سوچ کے تحت کوئی راستہ نکالنا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کوئی بڑا سرپرائز دیں لیکن انہیں دنیا کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ وہ اپنے زیر تسلط علاقوں میں کسی انتہا پسند یا دہشت گرد تنظیم کو ٹھکانے نہیں بنانے دیں گے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اب پاکستان سمیت کوئی مسلم ملک ان کا دفاع کرنے کے قابل نہیں رہا۔
