طالبان کا اقتدار پاکستان کی معیشت کو برباد کرنے لگا


افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہاں پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال کے منفی اثرات پاکستانی معیشت پر ظاہر ہونے لگے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر تیزی سے گر رہی ہے اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے
معاشی تجزیہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے طالبان حکومت کی غیر ضروری وکالت کے نتیجے میں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ پاکستان سے مزید ناراض ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط مزید سخت ہونے اور آئی ایم کی جانب سے پاکستان کو قرض کی فراہمی میں تعطل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے قیام اور امریکہ کے انخلا کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے پاکستانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کا اندازہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے منفی رجحان اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تاریخی کمی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔واشنگٹن میں قائم ’نیو لائنز انسٹیٹیوٹ‘ سے وابستہ تجزیہ کار کامران بخاری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے پاکستان کی معیشت پر اثرات آنا شروع ہو چکے ہیں اور ابھی پاکستانی معیشت کے حالات مزید ابتر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کمی ان اثرات کی ایک مثال ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے طالبان کی حکومت آنے سے قبل وہاں کی جانے والی بیرونی سرمایہ کاری کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نظر آئے تھے البتہ اب یہ سلسلہ بند ہونے کے بعد پاکستان سے امریکی ڈالرز افغانستان منتقل ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں موجود طالبان سے بھی دنیا یہ کہے گی کہ وہ ان کی شرائط کو مانیں تب ہی انہیں امداد ملے گی یا ان کے ساتھ تجارتی روابط قائم ہوں گے۔ ان دونوں صورتوں کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔
معاشی ماہرین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان افغانستان میں امن و امان کے قیام اور وہاں معاشی بہتری پیدا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو پاکستان میں بڑی تعداد میں مہاجرین داخل ہوسکتے ہیں جس سے معیشت پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔ کامران بخاری کے خیال میں سرمایہ کار پاکستان کے بارے میں امریکہ کی نئی حکمتِ عملی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ 21 ستمبر کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے میں آئی جب پانچ حدیں مگر گئیں اور سرمایہ کاروں کے 96 ارب ڈوب گئے۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافہ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور مہنگائی کے خدشات جیسے عوامل مسلسل مارکیٹ میں مندی کا باعث بن رہی ہیں، ان اعداد و شمار سے پاکستان میں معیشت کی دگرگوں صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر پاکستان کے تعلقات امریکہ سے ٹھیک نہیں تو بین الاقوامی معاشی اداروں سے خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ وہاں پاکستان کو عدم تعاون کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں بھی موجود ہے چنانچہ اس حوالے سے بھی پاکستان کو دبانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو سب سے زیادہ فنڈز فراہم کرنے والا ملک امریکہ ہے۔ اس لیے اس کا اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی شرائط اور ان کے قوانین و ضوابط پورا کرنے پر قرض کی فراہمی ممکن ہونا تصویر کا ایک رخ ہے جب کہ دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ ہر فیصلہ جغرافیائی اور سیاسی زاویے کا عکاس ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم میں شامل ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان کی معاشی حالت دگرگوں ہے اور ہو سکتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں سے نکلنے میں مزید وقت لگ جائے۔ ان کے مطابق یہ امکان بھی موجود ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے معطل کی جانے والا پروگرام معطل ہی رہے۔ خیال رہے کہ آئی ایم ایف میں امریکہ کے 16 فی صد شیئرز اور ووٹنگ پاور ہے جو سب سے زیادہ ہے اور ظاہر ہے امریکہ کی مرضی کے خلاف وہاں سے کوئی فیصلہ آنا ممکن نہیں۔
اسی طرح ایف اے ٹی ایف میں بھی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کا اثر و رسوخ کافی زیادہ ہے۔ عابد سلہری کے خیال میں پاکستان اور امریکہ کے آئندہ تعلقات کا انحصار گزشتہ پاکستان کے رویے پر ہو گا کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں اسلام آباد نے القاعدہ کے خلاف تو امریکہ کا ساتھ دیا لیکن دوسری جانب طالبان رہنماؤں کو اپنے ہاں پناہ دیے رکھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ امریکی ادارے افغانستان میں اپنی شکست پر ہونے والی تنقید قبول کرنے کی بجائے پاکستان کو اسکا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ اسے قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو معاشی بحران سے بچانے کے لیے افغان طالبان کا ساتھ دینے کی پالیسی پر نظر ثانی کرتی ہے یا نہیں؟

Back to top button