TTPکو پاکستان میں اچھا مستقبل کیوں نظر آنے لگا؟


افغانستان میں طالبان کی جیت اور اقتدار میں آنے کے بعد پاکستانی طالبان نے بھی دوبارہ سے اپنے پر پرزے نکالتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جیت نے پاکستانی طالبان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیا ہے کہ وہ بھی افغان طالبان کی طرح پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں لہذا انہوں نے ریاست کو دباؤ میں لانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ خطے کی بدلتی صورت حال میں پاکستانی طالبان افغان طالبان کو مستقبل میں اپنی کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی نے اب یہ بڑھک بھی مار دی ہے کہ اگر طالبان افغانستان میں امریکہ کو شکست دے سکتے ہیں تو پاکستان کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیت سکتے۔
دوسری جانب پاکستان میں بعض قدامت پسند عناصر افغانستان میں حالیہ تبدیلی کو نہ صرف خوش آئند قرار دے رہے ہیں بلکہ وہ پاکستان میں بھی ایسی ہی تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی عمارت پر مولانا عبدالعزیز کے شدت پسند ساتھیوں کی جانب سے افغان طالبان کے جھنڈے لہرا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا تھا۔ پاکستان کی مختلف دینی جماعتوں کی قیادت بشمول مولانا فضل الرحمن نے بھی طالبان کے حکومت میں آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارک باد دی تھی۔ حالیہ دنوں میں لال مسجد سے منسلک مولانا عبدالعزیز کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اسلام آباد کے پولیس اہلکاروں کو پاکستانی طالبان کے آنے سے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو پر شدید تنقید کی گئی اور مولانا عبدالعزیز کے خلاف کیس بھی درج کیا گیا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔
اس بارے میں وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں 511 مدارس ہیں اور صرف ایک مدرسے میں یہ مسئلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہم ایسے افراد کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جامعہ حفصہ سے منسلک افراد کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری نے کہا کہ اس بات کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے عناصر زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں لیکن فوری طور پر بڑے شہروں میں کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آرہا۔ لیکن پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق سربراہ ڈاکٹر ہمایوں خان کا کہنا ہے کہ انتہا پسند عناصر کے دوبارہ زور پکڑنے کا خطرہ مذید بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل بھی یہ خطرہ موجود تھا کہ طالبان کی کامیابی کو سپر پاور کو شکست دینے سے تعبیر کیا جائے گا۔ اس لیے پاکستان میں ان کے حامیوں کے پرجوش ہونے کا خطرہ موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی نے بھی افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے بعد قبائلی علاقوں میں شرعی نظام نافذ کرنے کی بات کی تھی۔
لیکن پروفیسرحسن عسکری کا کہنا ہے کہ تشدد کے تمام تر واقعات کو طالبان سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ طالبان کے افغانستان میں برسر اقتدار آنے کے بعد اگست اور ستمبر میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد حملوں میں تیزی لانے کا مقصد اپنی طاقت دکھانا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں یہ خطرہ طالبان کے افغانستان میں اقتدار حاصل کرنے سے پہلے بھی موجود تھا اور اب اس میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان خطرات کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ خفیہ ادارے مزید فعال ہوں اور افغانستان پر دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت اور فوجی سربراہ کی جانب سے ٹی ٹی پی کو عام معافی کی پیشکش سے بھی ریاست کی کمزوری کا پہلو نمایاں ہوتا ہے لہذا اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے ایک سپرپاور کو شکست دینے کا تاثر پاکستان میں موجود انتہا پسند عناصر کے لیے حوصلے کا باعث بنا ہے اور وہ سمجھتے ہین کہ اگر امریکہ کو شکست دی جا سکتی ہے تو پاکستان میں بھی گوریلا جنگ کو جاری رکھتے ہوئے ریاست پاکستان کو ہرایا جاسکتا ہے۔ لہازا پاکستانی ریاست کی جانب سے ٹی ٹی پی کو معافی دینے کی پیشکش کر کے کمزوری دکھانے کی بجائے انتہا پسند عناصر سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی پالیسی پر دوبارہ عمل درآمد کرانا ہوگا۔

Back to top button