طالبان کی وکالت پاکستان کیلئے کتنی خطرناک ثابت ہوگی؟

ایک جانب تو پاکستان کا یہ موقف ہے کہ افغان طالبان اب اسکے کہنے میں نہیں رہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں ہی دل و جان سے کابل پر قبضہ کرنے والی طالبان حکومت کو کھڑا کرنے کے لیے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان سے پاکستان کا رابطہ قومی مفاد میں ہے اور ان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا جبکہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت کے منجمند بینک اکاؤنٹس فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی عسکری اور اور حکومتی قیادت ایک ہی صفحے پر لگتی ہے کیونکہ دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔
آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حالیہ دورہ افغانستان کے بعد حکومت پاکستان خصوصاً وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں نئی طالبان حکومت کے ’وکیل نمبر ایک‘ بن کر سامنے آئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا تائثر پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟ آئیے جانتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران سے لے کر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف تک سب ہی بین الاقوامی برادری سے طالبان کو ’انگینج‘ کرنے کا مشورہ تواتر سے دے رہے ہیں۔ یہ عہدیدار عالمی اجلاسوں، پریس کانفرنسوں، اخباری مضامین اور انٹرویوز میں افغان طالبان سے بات کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ طالبان کو تنہا چھوڑنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ’افغانستان کو تنہا چھوڑنے کے نتیجے میں پناہ گزین اور سکیورٹی کے بحران پیدا ہوں گے جو کسی ایک علاقے یا خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔‘
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ بات کوئی اتنی بری نہیں کیونکہ ماضی میں دنیا کا افغانستان کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ القاعدہ اور دیگر تنظیموں کی موجودگی کی شکل میں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان کو جس پر افغان طالبان کی مدد کے الزامات پہلے دن سے لگائے جاتے ہیں اسے ایسا کرنے کی ضرورت ہے؟ یہ ذمہ داری کوئی دوسرا ملک کیوں نہیں نبھانا چاہتا؟پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دیگر خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر طالبان سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی اپوزیشن قیادت سے بات چیت نہ کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے اس سلسلے میں طالبان سے بات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن پاکستان کے سابق سفیر عاقل ندیم اس حکمت عملی کو غلط قرار دیتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ میرے خیال میں یہ بہت ایموچور پالیسی ہے جس سے لگتا ہے کہ پاکستان افغانستان میں اپنی فتح کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔ یہ بات ہمارے اس موقف کو بہت بری طرح متاثر کر رہی ہے کہ ہم افغانستان میں مداخلت نہیں کر رہے اور ہمارا وہاں کوئی پسندیدہ گروپ نہیں ہے۔ یہ ہمارے بیانیے کے خلاف بات ہے۔ عاقل ندیم کے خیال میں اس پالیسی پر کچھ زیادہ سوچا نہیں گیا کیونکہ اس میں یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ یہ ہمیں دنیا میں مزید اکیلا اور آئسولیٹ)ل کر دے گی۔ ان کا مشورہ تھا کہ افغان حکومت میں تمام اہم گروہوں اور شخصیات کی شمولیت کے لیے خاموشی سے کام کرنا چاہیے۔ اس میں اپنے آپ کو عوامی سطح پر کم از کم زیادہ آگے دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں میگا فون سفارت کاری سے گریز کرنا چاہیے۔‘
بطور سفارتکار امریکہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے عاقل ندیم نے اس بابت گذشتہ دنوں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید کے دورہ کابل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسے اتنا ہائی پروفائل نہیں بنانا چاہیے تھا۔ انکا کہنا تھا کہ میڈیا سے خفیہ ایجنسیاں نہیں بلکہ کسی بھی ملک کی سیاسی قیادت بات کرتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کوئی دوسرا ملک افغانستان کی ذمہ داری کیوں نہیں لے رہا تو ان کا جواب تھا کہ ’دیگر ممالک بھی یہ ضرور کر رہے ہوں گے۔ چین، ایران اور روس خاموشی کے ساتھ طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وہ انہیں پبلک نہیں کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی یہی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔‘
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا یے کہ خاموش سفارت کاری کیسے ممکن ہے جب ابتدا میں پاکستانی وزرا اور اعلیٰ حکام نے یکے بعد دیگرے افغانستان سے متعلق ایسے بیانات دیے جن سے وہ مزید تنقید کا نشانہ بنا۔ دنیا کے اکثر ممالک طالبان کی حکومت تسلیم کرنے سے متعلق یقیناً سوچ رہے ہیں۔ کئی مغربی ممالک کے وزرا اسلام آباد اپنے خدشات اور مطالبات کی فہرستیں لے کر گذشتہ دنوں آئے بھی تھے۔ انہیں اپنے قومی مفادات کے تناظر میں بعض ضمانتیں درکار ہوں گی۔ کل کو اگر طالبان اپنی بات سے پھر جاتے ہیں تو پھر پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟
یاد رہے کہ امریکہ کے سابق قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے گذشتہ دنوں پالیسی ایکسچینج سیمینار میں کہا تھا کہ ’اگر پاکستان نے جہادی گروہوں کی حمایت بند نہ کی تو اسے ایک ’اچھوت ریاست‘ سمجھا جانا چاہیے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ دکھاوا بند کرنا ہوگا کہ پاکستان شراکت دار ہے۔ پاکستان ان افواج کو منظم، تربیت اور لیس کرکے اور دہشت گرد تنظیموں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک بازو کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہمارے خلاف دشمن قوم کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘
