موجودہ مالیاتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں : سلمان اکرم راجہ

مرکزی رہنما پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، قرضوں پر انحصار سے معاشی خرابیاں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،موجودہ مالیاتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔معاشی بحران سے نکلنے کےلیے اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئےکہا رہنما پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھاکہ بنیادی اصلاحات کےبغیر معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے۔طویل المدتی بجٹ کی منصوبہ بندی بھی اصلاحات کےبغیر مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قرضوں کے ذریعے معاملات چلانے کی پالیسی پر سوالات اٹھتےہیں۔نظام میں اصلاحات نہ ہوئیں تو مسائل میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ پائیدار معاشی استحکام کےلیے جامع اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ حکومت کو درست فیصلوں کی توفیق دے،پاکستان کی معیشت سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں قومی قرضوں میں تقریباً 40 کھرب روپے اضافہ ہوا ہے۔مجموعی قرضے میں تقریباً 100 فیصد اضافہ تشویشناک ہے۔موجودہ قرضوں کا حجم گزشتہ کئی دہائیوں کے مجموعی قرضوں کے برابر پہنچ گیا ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کا 37 فیصد قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔قرضوں کے سود کی مد میں بھاری ادائیگیاں قومی خزانے پر بوجھ بن گئیں۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر اپوزیشن کو حکومت کی تعریف کرنی چاہیے : وزیر اطلاعات
انہوں نے کہاکہ دفاعی اور سودی ادائیگیوں کےبعد ترقیاتی منصوبوں کےلیے وسائل محدود ہو جاتےہیں۔قرضوں کا بڑھتا بوجھ ترقیاتی اخراجات کو متاثر کررہا ہے، معاشی استحکام کےلیے قرضوں پر انحصار کم کرنےکی ضرورت ہے۔ترقیاتی کاموں کےلیے مالی گنجائش مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔
