آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کا اصل حل کیا ہے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستوں کا تنازع محض ایک آئینی یا انتخابی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ خطے کی سیاست، ریاستی ڈھانچے، عوامی نمائندگی اور وفاق کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں اس تنازع نے اس وقت شدت اختیار کی جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان اختلافات سڑکوں پر تصادم، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور ریاستی کارروائیوں تک پہنچ گئے۔ بعد ازاں ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا گیا، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں 12 نشستیں ان کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو 1947ء اور بعد کے ادوار میں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے۔ ان نشستوں کے نمائندے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔تاہم گزشتہ چند برسوں میں یہ بحث زور پکڑتی گئی کہ چونکہ یہ نمائندے پاکستان میں منتخب ہوتے ہیں لیکن آزاد کشمیر کی حکومت سازی اور قانون سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے اس نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے۔
اس تنازع کے مرکز میں سیاسی مفادات کا عنصر بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے موجودہ نظام سے بعض سیاسی جماعتوں کو نسبتاً زیادہ فائدہ پہنچتا ہے، خصوصاً وہ جماعتیں جن کا پنجاب میں مضبوط سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن اس تاثر کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ نشستیں لاکھوں کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کی علامت ہیں اور انہیں ختم کرنا یا ان کی حیثیت کم کرنا مسئلہ کشمیر کے تاریخی بیانیے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق حقیقت شاید ان دونوں مؤقف کے درمیان کہیں موجود ہے۔ ایک طرف سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں، جبکہ دوسری جانب عوامی حلقوں میں اس نظام کے بارے میں حقیقی سوالات بھی موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق ستمبر 2025ء میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد تقریباً آٹھ ماہ تک مسئلے کے حل کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس دوران حکومتیں بدلتی رہیں، سیاسی ترجیحات تبدیل ہوتی رہیں اور معاملہ مسلسل مؤخر ہوتا رہا۔کئی مبصرین کے مطابق اگر تمام فریق بروقت مذاکرات اور آئینی مشاورت کا عمل شروع کر دیتے تو شاید صورتحال تصادم تک نہ پہنچتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے کشمیر میں ایک نئے سیاسی رجحان کو جنم دیا ہے۔ یہ تحریک روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر مقامی مسائل، معاشی مشکلات اور اختیارات کی تقسیم جیسے موضوعات کو سامنے لا رہی تھی۔اسی وجہ سے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ روایتی سیاسی قیادت نے اس تحریک کو اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے لیے خطرہ سمجھا، جس کے نتیجے میں فاصلوں میں مزید اضافہ ہوا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود تقریباً تمام سیاسی فریق مذاکرات کی ضرورت سے انکار نہیں کر رہے۔وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہے کہ کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود ایکشن کمیٹی سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے حامی ہیں۔البتہ مسلم لیگ ن کا مؤقف نسبتاً سخت ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پہلے احتجاجی سیاست اور تشدد کا مکمل خاتمہ ہو، اس کے بعد آئینی اور سیاسی معاملات پر گفتگو کی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا ہو سکتا ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند ماہ اس تنازع کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ تین ممکنہ راستے سامنے آ سکتے ہیں:
پہلا راستہ: تمام سیاسی جماعتوں، مہاجرین نمائندوں اور ریاستی اداروں پر مشتمل ایک جامع مذاکراتی عمل شروع ہو جس کے نتیجے میں نشستوں کی تعداد، حیثیت یا انتخابی طریقہ کار پر اتفاق رائے پیدا ہو۔
دوسرا راستہ: معاملہ آئینی اور عدالتی فورمز پر چلا جائے اور سیاسی حل مزید تاخیر کا شکار ہو جائے۔
تیسرا راستہ: اگر سیاسی کشیدگی برقرار رہی تو یہ مسئلہ محض 12 نشستوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کشمیر میں وفاق، مقامی حکومت اور عوامی تحریکوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
اصل سوال صرف 12 نشستوں کا نہیں بلکہ سیاسی نمائندگی، عوامی اعتماد اور ریاستی نظم و نسق کے درمیان توازن کا ہے۔ اگر تمام فریق سیاسی لچک اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ایک قابلِ قبول حل ممکن ہے، لیکن اگر مسئلہ سیاسی مفادات اور طاقت کی کشمکش کا شکار رہا تو یہ تنازع آنے والے برسوں تک کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔اس وقت کشمیر کو شاید کسی نئی محاذ آرائی سے زیادہ ایک ایسے سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے جو عوامی جذبات، آئینی تقاضوں اور مسئلہ کشمیر کی حساسیت تینوں کو یکساں اہمیت دے۔
