TTPدہشتگردمعصوم بچوں کی زندگیاں کیسے اجاڑنے لگے؟

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران سامنے آنے والی بعض اطلاعات نے نہ صرف سکیورٹی اداروں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک بازیاب بچے کے بیان نے ٹی ٹی پی سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے مبینہ غیر انسانی رویوں اور معصوم بچوں کے استحصال کے الزامات کو نئی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک فوج کے ایک آپریشن کے دوران بازیاب ہونے والے کمسن بچے اکرام اللہ نے دعویٰ کیا کہ والد کی وفات کے بعد اسے شدت پسند عناصر اپنے ساتھ لے گئے جہاں اس کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال کیا جاتا رہا۔ بچے کے مطابق دیگر کمسن بچے بھی وہاں موجود تھے جنہیں مبینہ طور پر اسی طرح کے مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔

سماجی اور نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی اور شدت پسند ماحول میں بچوں کا استحصال ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔ ایسے واقعات متاثرہ بچوں کی ذہنی، نفسیاتی اور سماجی زندگی پر دیرپا منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان دعوؤں کی مکمل تحقیقات میں تصدیق ہوتی ہے تو یہ نہ صرف انسانی حقوق بلکہ مذہبی اور اخلاقی اقدار کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

دوسری جانب افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی جریدے کی رپورٹس اور مختلف ممالک کے سکیورٹی اداروں کے بیانات کے مطابق افغانستان میں متعدد علاقائی اور عالمی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اب بھی ایک بڑا مسئلہ سمجھی جا رہی ہے۔

روسی حکام نے حالیہ دنوں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن کے جنگجوؤں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ گروہ نہ صرف اپنی تنظیمی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کا جدید ٹیکنالوجی کی جانب رجحان خطے کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔ ماضی میں ایسے گروہ روایتی طریقوں پر انحصار کرتے تھے، تاہم اب ڈیجیٹل رابطوں، خفیہ مواصلاتی نظام اور آن لائن نیٹ ورکس کے استعمال سے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ روس سمیت متعدد ممالک نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی اسلحے کی تجارت اور سرحد پار جرائم دہشت گرد تنظیموں کے لیے مالی وسائل کا بڑا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ یہی مالی طاقت انہیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور نئے افراد کو بھرتی کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں سکیورٹی چیلنجز صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستوں، روس، چین اور دیگر ممالک کو دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے انتہا پسند نظریات، مالیاتی ذرائع، بھرتی کے نیٹ ورکس اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ خصوصاً بچوں کے تحفظ، تعلیم اور بحالی کے لیے خصوصی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ شدت پسند عناصر مستقبل کی نسلوں کو اپنا نشانہ نہ بنا سکیں۔ ناقدین کے مطابق حالیہ اطلاعات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ دہشت گردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی، سماجی اور اخلاقی بحران بھی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط اور مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔

Back to top button