ایک سوتیلی ماں کی کہانی

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
کچھ دن پہلے اپنی کتابوں کی جھاڑ پونچھ شروع کی تو چند ایسی شاندار کتابیں سامنے آئیں جو خرید تو لی تھیں لیکن ابھی پڑھ نہ سکا تھا۔ اکثر ہوتا ہے کوئی کتاب اچھی لگی تو خرید لی کہ یہ نہ ہو دوبارہ نہ ملے‘ وقت ملا تو پڑھ لیں گے۔ پھر کتابیں اکٹھی ہو جاتی ہیں جو پڑھنے سے رہ جاتی ہیں۔ اب اس کام کیلئے حافظ خضر صاحب کو رکھ لیا ہے کہ میرے لائبریری نما گھر میں ان سب کتابوں کا دھیان رکھیں۔ میری کتابیں اکثر بکھری ہوتی ہیں‘ کچھ بیڈ پر میرے ساتھ تو کچھ بیڈ کے نیچے۔ ایک دن ڈاکٹر بابر اعوان صاحب پوڈ کاسٹ کیلئے گھر تشریف لائے تو ادھر اُدھر رکھی کتابیں دیکھ کر میری خوب کلاس لی۔ خیر ان کی اس کلاس کے بعد کچھ کتابوں کی ترتیب کا دھیان کیا۔ اس سے پہلے سپر مارکیٹ میں بک سٹور پر جانا ہوتا تھا‘ وہاں برسوں سے حافظ خضر صاحب کو دیکھ رہا تھا۔ تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے حافظ صاحب برسوں سے وہیں کام کررہے تھے۔ سادہ سا مخلص انسان جس کی شخصیت دور سے بتائے کہ وہ بے ضرر ہے۔ اکثر گاہکوں کا کتابوں کا تھیلا اٹھا کر گاڑی تک چھوڑ آتے۔ کسی نے ٹپ دے دی اور کسی نے نہ دی۔ مجھے یاد پڑتا ہے انہوں نے مجھے سب رنگ کی سلسلہ وار کہانی بازی گر کے سات حصے ڈھونڈ کر لا دیے۔ خیر ایک دن گیا تو غمگین کھڑے تھے۔ پتہ چلا نوکری اچانک ختم کردی گئی ہے۔ بیس برس کی نوکری کے بعد مالک کے بیٹے نے دکان سنبھالتے ہی انہیں نکال دیا تھا۔ مجھے بڑا دکھ ہواکہ اس بڑھاپے کی عمر میں جب آپ نے ان لوگوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے جنہوں نے آپ کے باپ کے ساتھ برسوں کام کیا ہو آپ نے چند ہزار روپے بچانے کیلئے انہیں فارغ کر دیا۔ خیر انہیں گلے لگایا اور کہا: کل سے آپ میرے ساتھ میرے دفتر میں کام کریں گے۔ ہمارے قابلِ احترام دوست ہارون الرشید صاحب کا ایک جملہ یاد آیا کہ امیر بندے کو پیسوں کی ضرورت ایک غریب سے زیادہ ہوتی ہے۔ غریب کم پیسوں میں بھی مطمئن اور خوش رہ سکتا ہے‘ امیر بندے کیلئے اربوں بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ خیر اب وہ میری کتابیں سنبھالتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح کتابوں کو خوبصورت انداز میں ترتیب دیا ہے وہ کمال ہے۔ میں نے انہیں کہا: خضر صاحب ناراض نہ ہوں تو مجھے کہنے دیں آپ سادہ سے مخلص انسان لگتے ہیں لیکن آپ جس نفاست اور خوبصورتی سے اَنتھک کام کرتے ہیں مجھے اس کا اندازہ نہ تھا۔ آپ کا میرے ساتھ کام کرنا میرے لیے خوش نصیبی ہے کہ آپ جیسا بندہ کتنی خاموشی سے بغیر شور شرابہ کیے کتنا خوبصورت کام کرتا ہے اور مزے کی بات ہے آپ داد کے طلب گار بھی نہیں ۔
خیر ان کتابوں سے ایک بڑی شاندار کتاب برآمد ہوئی اور مجھے شرمندگی ہوئی کہ اتنی خوبصورت کتاب بھی دیگر کتابوں کے ساتھ غائب ہو گئی تھی۔ جب میں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ ہندوستان کے بڑے فلم میکر‘ ہدایت کار اور کہانی نویس ستیا جیت رے کی بیگم صاحبہ Bijoya Ray کی لکھی ہوئی آپ بیتی ہے۔ یہ انہوں نے 84برس کی عمر میں لکھی جب اُن کے لیجنڈ شوہر‘ جنہیں آسکر ایوارڈ بھی ملا تھا‘ کو فوت ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ یہ انہوں نے بنگالی زبان میں لکھی تھی جسے بعد میں انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ اس خود نوشت کا نام ہے Manik and I: My Life with Satyajit Ray۔ یہ دونوں میاں بیوی کزن تھے اور جس بچپن کی کہانی انہوں نے لکھی ہے وہ آپ کے دل کو چھُو جائے۔ انگریز دور کے بنگال کے جس ماحول کی عکاسی کی گئی ہے وہ آپ کو اپنی گرفت سے باہر نہیں نکلنے دیتا۔ ہم سنتے تھے کہ دو کزنز میں پیار محبت ہو جاتا ہے‘ شادی بھی ہو جاتی ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ محبت کہیں غائب ہو جاتی ہے اور دونوں کزنز پھر اپنے خاندان کے بزرگوں کے برسوں سے چلے آئے جھگڑوں اور طعنوں اور شریکے میں پھنس کر رہ جاتے ہیں اور اکثر یہ شادیاں ہر وقت لڑائی جھگڑے کا شکار ہو جاتی ہیں‘ لیکن اس کہانی کو پڑھ کر آپ کو یقین آتا ہے کہ کزنز کی محبت کیا رنگ لاتی ہے۔ اس غیرمعمولی انسان کی سرگزشت میں بہت سارے خوبصورت واقعات ایسے ہیں جو آپ کو اپنے سحر میں قید کر لیتے ہیں۔ ایک واقعہ ایسا ہے جس نے مجھے بھی گرفت میں لے لیا۔ ہمارے ہاں کہانیوں‘ فلموں اور حقیقی زندگی میں سوتیلی ماں کا کردار بڑا بھیانک دکھایا گیا ہے۔ میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ ماں تو ماں ہوتی ہے۔ اگر ایک عورت ایک مرد کو اپنا سکتی ہے تو اس کے کسی اور عورت سے پیدا کیے گئے بچے کو کیوں نہیں۔ اتنا ظلم کیوں۔ اسے اپنا بچہ سگا اور خاوند کا بچہ بُرا کیوں لگتا ہے؟ میں نے اس کتاب میں ایک ایسی سوتیلی ماں کی کہانی پڑھی ہے کہ یقین نہیں آتا۔ وہ لکھتی ہیں‘ اُن کے والد بہت قابل تھے‘ یونیورسٹی میں سکینڈ پوزیشن لی اور سترہ سال کی عمر میں وہ انگلینڈ چلے گئے۔ مصنفہ کے دادا چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا برٹش دور میں انڈین سول سروس کا امتحان دے لیکن انگلینڈ پہنچ کر انہیں سانس کا مرض لاحق ہو گیا یوں اُن کا باپ امتحان نہ دے سکتا تھا۔ امتحان صرف پیپرز کا نہیں تھا جسمانی اور میڈیکل امتحان بھی پاس کرنا تھا جو اَب ممکن نہ تھا۔ تعلیم کے علاوہ گھڑ سواری‘ ایتھلیٹ‘ سوئمنگ بھی ضروری تھے اور ان کے والد کیلئے سانس کی بیماری کی وجہ سے یہ سب کچھ مشکل تھا۔ آخرکار مصنفہ کے والد نے بیرسٹر بننے کا فیصلہ کیا اور بار کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے باپ کے تمام تر منت ترلے کے باوجود ہندوستان لوٹنے سے انکار کر دیا۔ وہ لکھتی ہیں کہ اس دوران ان کا باپ تھیٹر کا رسیا بن چکا تھا اور وہ شیشے کے آگے کھڑا ہو کر گھنٹوں شیکسپیئر کے ڈراموں کے ڈائیلاگ دہراتا رہتا تھا۔ وہ تھیڑ کا اداکار بننا چاہتا تھا۔ یہ سن کر مصنفہ کے دادا کو تپ چڑھی کہ ان کا بیٹا کس چکر میں پڑ گیا ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں‘ ان کے باپ کی ماں ان کی پیدائش کے وقت فوت ہو گئی تھی۔ ان کے دادا نے دوسری شادی کر لی۔ اگرچہ وہ سوتیلی تھی لیکن اس نے اپنے خاوند کے بیٹے کو بہت پیار دیا جیسے اپنے سگے بیٹے سے کیا جاتا ہے۔ اس کے اپنے بھی چھ بچے پیدا ہوئے لیکن اس نے اس بچے کو بھی اپنا بچہ سمجھا۔ جب باپ نے دیکھا کہ بیٹا لندن سے واپس نہیں آرہا‘ جہاں اسے رہتے دس برس ہو گئے تھے تو اس نے بیٹے کو لندن مزید پیسے نہ بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس پر اس سوتیلی ماں نے اپنے خاوند کو منع کیا‘ بہت سمجھایا اور ٹھنڈا کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو پیسے بھیجنا بند نہ کرے۔ اسے بتایا کہ وہ قابل بچہ ہے‘ وہ کوئی بھی کام ڈھونڈ کر وہاں پیسے کما لے گا اور پھر وہ کبھی ہندوستان واپس نہیں آئے گا۔ تم پیسے بھیجتے رہو‘ کوئی نہ کوئی تعلق‘ رابطہ رہنے دو چاہے پیسوں کا ہی کیوں نہ ہو۔ انتظار کرتے رہو‘ وہ ایک دن لوٹ آئے گا۔ وہی ہوا اپنے باپ کے پیسے پر لندن رہتے ہوئے ایک دن اُس کے ضمیر پر کچھ بوجھ پڑا تو وہ دس برس کے بعد لندن چھوڑ کر ہندوستان اپنے گھر لوٹ آیا۔ کچھ دنوں کے بعد اُس کی مصنفہ کی ماں سے دارجیلنگ میں ملاقات اور شادی ہوئی جس سے 1917ء میں پٹنہ میں مصنفہ پیدا ہوئی جس کی برسوں بعد 1949ء میں ستیا جیت رے سے شادی ہوئی۔
ایک سوتیلی ماں کی سمجھداری ایک بیٹے کو ہندوستان واپس لے آئی تھی۔ ایک باپ کو دس سال کے بعد بیٹا واپس مل گیا تھا۔ یہ خوبصورت داستان پڑھتے ہوئے مجھے تھامس ہارڈی کا ناول The Return of the Native یاد آیا جس کا امیر ہیرو یوبرائٹ پیرس کی زندگی سے بیزار ہو کر اپنے گاؤں لوٹ آیا تھا جہاں ایک اور محبت کہیں یا ٹریجڈی خوبصورت یوسٹیشیا کی شکل میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اگرچہ ہارڈی کے ناول کے ہیرو اور مصنفہ کے والد کی لَو سٹوریز کا انجام مختلف ہوا۔ دس سال کے بعد ایک زمین زادہ اپنی سوتیلی ماں کی سمجھداری کی وجہ سے ہندوستان لوٹ آیا تھا۔
