ایران امریکہ امن معاہدہ کہاں پر اٹکا ہوا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے سفارتی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ معاہدہ اتواز کو طے پا سکتا ہے، تاہم تہران نے واضح کر دیا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے وقت کا ابھی حتمی تعین نہیں ہوا، اگرچہ آنے والے دنوں میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں تاہم کسی بھی سمجھوتے کے لیے اس کی بعض بنیادی شرائط اور قومی مفادات ناقابلِ مذاکرات ہیں۔دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ان نکات کی نشاندہی کی ہے جنہیں تہران اپنی ’’ریڈ لائنز‘‘ یا سرخ لکیریں قرار دیتا ہے۔ ان شرائط سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران فوری طور پر جوہری معاملات پر بڑی رعایت دینے کے بجائے پہلے جنگی کشیدگی کے خاتمے اور معاشی فوائد کے حصول کو ترجیح دے رہا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مجوزہ فریم ورک کا پہلا مقصد خطے میں جاری محاذ آرائی اور جنگی ماحول کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تہران آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کو بھی معاہدے کا اہم حصہ بنانا چاہتا ہے۔ ایران کا خیال ہے کہ اعتماد سازی کا آغاز اقتصادی اور سکیورٹی معاملات سے ہونا چاہیے، جبکہ جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ موضوعات کو بعد کے مذاکرات کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے۔

جوہری پروگرام کے معاملے پر ایران کا مؤقف بدستور سخت دکھائی دیتا ہے۔ تہران یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی اپنے پرامن جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ ایران کے نزدیک جوہری ٹیکنالوجی اور افزودگی کا حق اس کی قومی خودمختاری اور سائنسی ترقی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اسی لیے ایرانی قیادت چاہتی ہے کہ کسی بھی آئندہ مذاکراتی مرحلے میں یہ حق برقرار رہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسرائیل اور ایران کے مؤقف میں سب سے بڑا تصادم پیدا ہوتا ہے۔ اسرائیل مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کی افزودگی کی صلاحیت کو محدود یا ختم کیا جائے، اس کے جوہری مواد کے ذخائر ختم کیے جائیں اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی پابندیاں عائد ہوں۔ اسرائیلی قیادت کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایران خطے میں اپنے اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرے۔ ان شرائط کے برعکس ایران اپنی دفاعی اور علاقائی پالیسیوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔

آبنائے ہرمز بھی اس مجوزہ معاہدے کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے۔ دنیا کی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی خودمختاری اور سکیورٹی کردار سے دستبردار نہیں ہوگا، تاہم وہ تجارتی جہازرانی کی مکمل بحالی اور جنگی ماحول کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک بھی اس گزرگاہ کو کھلا رکھنے کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کرتے ہیں۔

معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا اسرائیل ایسے کسی فریم ورک کو قبول کرے گا جس میں ایران فوری طور پر اپنے جوہری پروگرام پر بنیادی رعایت نہ دے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ابتدائی معاہدہ صرف جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی معاملات تک محدود رہتا ہے تو اسرائیل اسے ناکافی قرار دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ فریق نہیں اور اس کی اپنی سکیورٹی ترجیحات الگ ہیں۔

اس ممکنہ معاہدے کو متعدد چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان چار دہائیوں پر محیط بداعتمادی، اسرائیل کے شدید تحفظات، جوہری افزودگی کے حق پر اختلافات، پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار پر تنازعات اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ سے متعلق خدشات ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی وقت مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی داخلی سیاست بھی ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ کانگریس اور دیگر سیاسی حلقے ایران کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔اگر ابتدائی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی، عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام اور سفارتی روابط کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا، جب ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے مستقل خاتمے، میزائل پروگرام اور علاقائی سکیورٹی جیسے حساس موضوعات پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایران ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں اس کی جوہری صلاحیت، قومی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ محفوظ رہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل انہی عناصر کو محدود کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہی بنیادی اختلاف مستقبل کے مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گا اور آنے والے دن مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button