پی ٹی آئی سینیٹ کے 2027 کے الیکشن سے اتنی خوفزدہ کیوں؟

پاکستان کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں آنے والے سینیٹ انتخابات نہ صرف پارلیمانی توازن بلکہ ملک کے مجموعی سیاسی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندر موجود سنجیدہ حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مارچ 2027ء میں متوقع سینیٹ انتخابات کے بعد ملک میں موجود ہائبرڈ نظام پہلے سے زیادہ مستحکم اور طاقتور ہو سکتا ہے۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کی ایک پورٹ کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات حکمران اتحاد، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، کے حق میں جا رہے ہیں۔ اگر موجودہ صوبائی اسمبلیوں کی ساخت برقرار رہی تو سینیٹ کے آئندہ انتخابات میں حکمران اتحاد ایوان بالا میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ آئینی ترامیم، کلیدی قانون سازی اور ریاستی ڈھانچے سے متعلق اہم فیصلوں میں ایوان بالا کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اگر حکمران اتحاد سینیٹ میں مضبوط اکثریت حاصل کر لیتا ہے تو اسے آئینی اور قانونی تبدیلیوں کے لیے زیادہ سیاسی سہولت میسر آ سکتی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے اندر اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد گزرنے والے تقریباً ڈھائی برسوں میں پارٹی اپنی سیاسی گنجائش میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکی۔ متعدد رہنماؤں کا خیال ہے کہ مسلسل سیاسی دباؤ، مقدمات، تنظیمی مشکلات اور محدود سیاسی سرگرمیوں نے پارٹی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔پارٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار فی الحال دکھائی نہیں دے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سینئر رہنما نجی محفلوں میں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ موجودہ سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے ساتھ بامعنی رابطے ناگزیر ہو چکے ہیں۔تاہم اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بانی چیئرمین عمران خان کی منظوری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اہم رہنماؤں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ کسی بھی بڑی سیاسی مفاہمت، مذاکراتی عمل یا حکمت عملی میں تبدیلی کے لیے عمران خان کی واضح رضامندی ضروری ہوگی۔ جب تک وہ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت پر مبنی حکمت عملی کی حمایت نہیں کرتے، تب تک پارٹی کے لیے موجودہ سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی لانا مشکل نظر آتا ہے۔

تحریک انصاف کے اندر یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو 2027ء کے بعد پارٹی ایک ایسے سیاسی ماحول میں داخل ہو سکتی ہے جہاں قانون سازی، پارلیمانی اثر و رسوخ اور قومی سیاسی بیانیے پر اس کی گرفت مزید کمزور ہو جائے گی۔ بعض رہنما اسے پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دے رہے ہیں۔

مبصرین کے بقول سینیٹ انتخابات کی اہمیت اس حقیقت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ سینیٹرز کی مدت چھ سال ہوتی ہے جبکہ ہر تین سال بعد نصف ایوان ریٹائر ہو جاتا ہے۔ مارچ 2027ء میں ہونے والے انتخابات کے دوران بھی تقریباً نصف سینیٹرز اپنی مدت مکمل کریں گے۔ چونکہ سینیٹ کی نشستوں کا انتخاب صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے ہوتا ہے، اس لیے موجودہ صوبائی طاقت کا توازن حکمران اتحاد کے حق میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینے تحریک انصاف کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔ پارٹی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ محاذ آرائی کی موجودہ پالیسی جاری رکھے گی یا پھر مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور نئی حکمت عملی کے ذریعے اپنے لیے سیاسی راستے تلاش کرے گی۔ بصورت دیگر 2027ء کے سینیٹ انتخابات پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک ایسا موڑ ثابت ہو سکتے ہیں جو آنے والے کئی برسوں کی سیاست کا رخ متعین کر دے گا۔

Back to top button