تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر اپوزیشن کو حکومت کی تعریف کرنی چاہیے : وزیر اطلاعات

 

 

 

 

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیاگیا، جس پر اپوزیشن کو حکومت کی تعریف کرنی چاہیے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے جس ماحول میں بات کی ہم نے انہی ڈیسک سے کتابیں جلتی دیکھیں،کاغذ پھینکے جاتےرہے۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے۔تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیاگیا ہے۔پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں۔کئی افسران چھٹی لےکر چلے گئے۔ریاست کی بقاء کےلیے سیاست کی قربانی دی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہوئی،اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی تو آج والی خوش حالی نہ آتی۔پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہورہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے۔کاروباری حضرات کی ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں۔مہنگائی اڑتیس فیصد تھی۔

مرکزی رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ نے کہا کہ اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی کہ آئیں میثاق معیشت کرتےہیں۔ان کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھے۔یہ چاہتے تھےکہ ملک دیوالیہ ہو۔آئی ایم ایف کو لکھےگئے خط ریکارڈ کا حصہ ہیں۔یہاں سے خط لکھ رہے تھےکہ پاکستان کو بیل آوٹ نہ ملے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اداروں کی بہت کاوش ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹیم کا کردار ہےکہ ملک میں استحکام ہوا۔مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آسکتی تھی۔شرح سود بائیس فیصد پر رہتا گیارہ فیصد پر نہ آتا تو کیا حالات ہوتے۔

سینیٹ انتخابات 2027: پی ٹی آئی کو ہائبرڈ نظام کے مزید مضبوط ہونے کا خدشہ

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج غیرملکی زرمبادلہ 17.2 ارب ڈالر ہے۔ڈیفالٹ کے دھانے پر تھے اور یہاں خوشیاں منائی جارہی تھیں۔شوگر، ٹوبیکو، بیوریجز کو کوئی پوچھتا نہیں تھا لیکن ہم نے صرف شوگر انڈسٹری سے ساٹھ ارب ریکور کیے ہیں۔

 

Back to top button