امن معاہدہ سبوتاژ کرنےکیلئےاسرائیل نے بیروت پرحملہ کردیا،ایران کابدلہ لینےکااعلان

اسرائیل کی ایران امریکا امن معاہدہ سبوتاژ کرنےکی کوشش،لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کے میزائل حملوں میں 2 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔
لبنانی میڈیا کے مطابق بیروت کے جنوبی علاقےکی عمارت پر فضائی حملے سے 2 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہےکہ اسرائیل کے دو جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی حصے کو 4 گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ لبنان سے حزب اللہ کے جوابی حملوں کے پیش نظر اسرائیلی علاقوں میں خطرےکا الرٹ بڑھا دیا ہے۔
خیال رہےکہ یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔
ایران کے مطابق اس مرحلے کی فوری ترجیح تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ یقینی بنانا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے بیروت پر اسرائیل کے حملے پر ردعمل میں کہا ہے کہ یہ حملہ ایک بار پھر یہ ظاہر کرتا ہےکہ امریکا یا تو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا عزم نہیں رکھتا یا پھر اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
باقر قالیباف نےکہا کہ صیہونی حکومت کو کھلی چھوٹ دے کر امریکا کوئی رعایت حاصل نہیں کر سکتا، نرمی اور سختی کی ملی جلی پالیسی کا دور اب گزر چکا، اگر امریکا میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنےکا عزم یا صلاحیت نہیں تو پھر آگے بڑھنے یا اس مذاکراتی عمل کو جاری رکھنےکی بات کرنا ممکن نہیں۔
ایران کی خاتم الانبیا سینٹرل کمانڈ کےکمانڈر اسدی کا کہنا ہےکہ بیروت میں اسرائیلی جرائم کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہیں گے، لبنانی دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی فوج کے حملےکا جواب ضرور دیا جائےگا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہےکہ ایران کو نظرانداز یا ختم کرکے علاقائی سلامتی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔
تہران میں ممتاز شخصیات اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک تسلیم کر چکے ہیں کہ پائیدار سلامتی، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے، افہام و تفہیم خطے کے تمام ممالک، بشمول ایران کے مشترکا مفادات میں ہے اور خطے کا نیا سکیورٹی ڈھانچہ تمام ممالک کی شمولیت اور اجتماعی تعاون کا متقاضی ہے۔
