ٹیکس گوشواروں میں غلط بیانی پر بھاری جرمانے تجویز

حکومت نےانکم ٹیکس گوشوارے تاخیر سے جمع کرانے، ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں بحالی اور دستاویزات کی دستیابی و فارمیٹنگ سے متعلق خامیوں پر عائد جرمانوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔

مالی سال 27-2026 کے فنانس بل کے تحت متعارف کرائی گئی یہ ترامیم وفاقی ٹیکسوں جن میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں، پر لاگو ہوں گی۔

بعض معاملات میں جرمانوں کی شرح دوگنا سے بھی زیادہ بڑھا دی گئی ہے اور  ایف بی آر کے لیے محصولات بڑھانے کے ایک اضافی ذریعہ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

مجوزہ تبدیلیوں کے تحت ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے کی فیس کمپنیوں کے لیے 5 گنا بڑھا کر 20 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

اسی طرح افراد کی انجمنوں کے لیے یہ فیس 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے جبکہ انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ نمایاں اضافہ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اس سے چھوٹے ٹیکس دہندگان کیلئےمشکلات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

فنانس بل میں ایف بی آر کے نفاذی اختیارات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ اے ٹی ایل میں بحالی کی لاگت پانچ گنا بڑھا دی گئی ہے۔

اس کے ساتھ مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں کاروباری مراکز کو سیل کیے جانے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

Back to top button