طلباء کی آواز عروج اورنگزیب کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا

اپنی گرجدار آواز اور مخصوص انداز میں طلباء کے حقوق کے حوالے سے ہونے والے حالیہ مظاہروں میں نعرے لگانے والی اور ترنم سے فیض کی انقلابی شاعری پڑھنے والی عروج اورنگزیب کو بغیر وجہ بتائے نجی سکول نے ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔
طلباء کا یونین سازی کا جائز حق مانگنا عروج اورنگزیب کا جرم ٹھہرا اور اسے بےروزگار کر دیا گیا۔ عروج گریجویشن کے بعد سے پارٹ ٹائم ٹیچنگ کر رہی تھیں اور ایک نجی سکول سے منسلک تھیں ، تاہم سکول انتظامیہ نے انہیں کوئی وجہ بتائے بغیر نوکری سے نکال دیا۔ عروج کے مطابق نوکری سے نکالے جانے کا سبب انکی سوشل میڈیا پر نعرے لگاتی ویڈیوز نہیں بلکہ طلبہ کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد ہے۔
پاکستان میں طلبہ تنظیموں کی بحالی کیلئے ملک بھر میں سرگرم طلبہ اپنے حقوق کے لیے پرعزم ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں کچھ بھی برداشت کرنا پڑے، تاہم طلبہ رہنماؤں کے مطابق ان کیلئےطلبہ کے حقوق کیلئے کھڑے ہونا اتنا آسان نہیں، لیکن طلبہ کو اپنے جائز حقوق ملنے تک وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ لاہور میں گزشتہ ماہ ہونیوالے طلبہ یونینز کی بحالی اور دیگر حقوق کا حصول کیلئے مظاہرے کرنیوالی سٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عروج اورنگزیب کا کہنا ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھی طلبہ کو کئی مسائل کا سامنا ہے مگر اس بارے میں بات اس لیے نہیں کرتے کہ ان کا اصل مقصد پیچھے چلا جائے گا۔ عروج کے مطابق وہ اور ان کے تمام ساتھی اس بات پر متفق ہیں کہ چاہے جتنی بھی مشکلات آئیں، اب اس ملک میں نوجوانوں کے مسائل حل کرکے انہیں بنیادی آزادیاں دینی ہی پڑیں گی، اسی لیے پاکستان کے ہر شہر میں طلبہ متحد ہو رہے ہیں۔
عروج اورنگزیب نے کہا کہ دنیا بھر میں طلبہ یونینز موجود ہیں، لیکن ہمارے یہاں یونیورسٹیوں، کالجوں میں طالبات کو ہراساں کیا جارہا ہے، پسماندہ علاقوں میں خواتین پر تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں، بلوچستان میں یونیورسٹیوں کے گرلز ہاسٹلز خالی ہوتے جا رہے ہیں، تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کا استحصال کیا جارہا ہے یا ان کی آواز دبا کر ریموٹ کنٹرول نسل تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مخالفت کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اپنا حق مانگنے والے نوجوانوں کو ٹی وی کا ریموٹ مانگنے کی ضد کرنے والے بچے نہ سمجھا جائے۔ ابھی تو جدوجہد کا آغاز ہوا ہے تو ہر طرف مخالفت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ یہ ہماری کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری طرف پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم حسنین جمیل نے بتایا کہ جب سے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا گیا ہے، انہیں اور ان کے دوستوں کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔حسنین جمیل کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کی ایم فل (پاکستان سٹڈیز) میں رجسٹریشن منسوخ کر دی جب کہ دیگر طلبہ کے خلاف بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بھی تفصیلات پیش کی ہیں اور کمیٹی کو تمام مشکلات اور کارروائیوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا ہے لیکن کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
طلبہ یونیز کی بحالی اور آزادی اظہارِ رائے پر مشکلات کا سامنا کرنے والوں میں صرف عروج اورنگزیب اور حسنین جمیل ہی نہیں بلکہ کئی طلبہ کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے اور پنجاب یونیورسٹی سے ریاست مخالف تقریر کرنے کے الزام میں حراست میں لیے گئے طالب علم عالمگیر وزیر جیسی دیگر کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہیں طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کہا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے بین الاقوامی تعلیمی اداروں کی طرز پر طلبہ یونینز کی بحالی کا اعلان ضرور کیا ہے، سندھ حکومت نے بھی اس بارے میں قانون سازی کی یقین دہانی کرائی ہے مگر طلبہ کے مطابق ابھی تک جامع اور ٹھوس حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی، لہذا جب تک انہیں جمہوری حق نہیں دیا جاتا، وہ جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button