دورۂ تہران پر عاصم منیر کو ٹرمپ کا نمائندہ کیوں کہا گیا؟

 

 

 

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بارے میں پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں نے تب ایک نیا رخ اختیار کر لیا جب پاکستانی دفتر خارجہ کو باقاعدہ یہ وضاحت جاری کرنا پڑی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ نہ تو امریکی صدر ٹرمپ کے نمائندے کی حیثیت سے کیا اور نہ ہی یہ دورہ امریکہ کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔

 

یاد رہے کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی پس منظر میں رواں ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا، جہاں پاکستانی وفد نے ایرانی صدر سمیت اعلیٰ سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ تاہم دورے سے قبل، اس کے دوران اور بعد میں مختلف ذرائع ابلاغ اور مبصرین کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں سامنے آتی رہیں کہ عاصم منیر امریکی صدر کا کوئی پیغام لے کر تہران گئے تھے۔

 

ان قیاس آرائیوں کو اس خبر سے بھی تقویت ملی کہ تہران روانگی سے قبل امریکی صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اس تاثر کو واضح طور پر مسترد کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ امریکی صدر کے نمائندے یا امریکہ کی ہدایت پر کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ پاکستان کے بطور ثالث کردار کے پس منظر میں کیا گیا اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے صدر ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کیا، ’’گمراہ کن اور حقائق کے منافی‘‘ ہے۔

 

انہوں نے صحافیوں کے مزید سوالات کے جواب میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کو امریکی صدر کے نمائندے یا امریکہ کی ہدایت پر کیے گئے دورے کے طور پر پیش کرنے والی رپورٹس درست نہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق جب ملک کی قیادت کسی اہم عالمی رہنما سے کسی اہم معاملے پر رابطہ کرتی ہے تو اس بارے میں باقاعدہ طور پر پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے، تاہم عاصم منیر کے دورۂ تہران کے حوالے سے امریکی پیغام رسانی کی جو قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، سرکاری طور پر ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

 

اس معاملے میں سب سے اہم سوال فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے سے پیدا ہوا۔ 24 اگست کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ عاصم منیر نے تہران کے دورے سے قبل صدر ٹرمپ سے بات کی تھی۔ تاہم اسی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے موضوعات اور تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں تھیں۔ اسی تناظر میں وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ امریکی صدر اور فیلڈ مارشل کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا، تو کیا آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی نئی تجویز سامنے آئی ہے؟

 

جواب میں ترجمان طاہر اندرابی نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ دورے کو امریکی صدر کے نمائندے کی حیثیت سے کیا گیا دورہ قرار دینا درست نہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے عاصم منیر کے دورۂ تہران کے بارے میں ہونے والی قیاس آرائیوں کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ ایک طرف ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان رابطے کی خبر سامنے آئی، دوسری جانب اس کے فوراً بعد پاکستانی وفد نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان دونوں واقعات کے درمیان تعلق کے بارے میں سوالات اٹھنا فطری تھا، تاہم اسلام آباد نے سرکاری طور پر امریکی پیغام رسانی کے تاثر کی تردید کی ہے۔

 

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق عاصم منیر کا دورۂ تہران پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا حصہ تھا، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوشش کرنا تھا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا حتمی فیصلہ ایران اور امریکہ نے خود کرنا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ثالث اور سہولت کار صرف فریقین کے درمیان رابطے، مذاکرات اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ کار، ثالث اور سہولت کار صرف کوشش کر سکتے ہیں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اپنے دورۂ تہران کے دوران اسی نوعیت کی ایک مخلصانہ کوشش کی۔

اس وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام آباد عاصم منیر کے دورے کو براہ راست امریکی سفارتی مشن کے بجائے پاکستان کی اپنی ثالثی کی کوشش کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

 

دورۂ تہران کے بعد پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی امریکی صدر کا کوئی پیغام لے کر ایران جانے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی اور ایرانی فریقوں کے درمیان جامع مذاکرات ہوئے جن میں مزید کشیدگی روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جاری تنازع کے جلد از جلد خاتمے کے لیے اقدامات پر بات کی گئی۔

دونوں فریقوں نے علاقائی امن اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل تک پہنچنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یوں پاکستان کی وزارت خارجہ اور عسکری حکام کے سرکاری بیانات میں دورے کو پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں سے جوڑا گیا، جبکہ امریکہ کی جانب سے کسی خصوصی پیغام کی ترسیل کا کوئی باضابطہ ذکر سامنے نہیں آیا۔

 

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔

یونیورسٹی آف تہران کے انگریزی ادب کے پروفیسر سید محمد مرانڈی نے 24 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ پاکستانی ثالثوں نے ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ایران تک پہنچایا اور اس کے جواب میں ایران کا مؤقف حاصل کیا۔ تاہم پاکستان اور ایران کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیانات میں اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

نئی ترامیم کے بعد جنرل عاصم منیر اختیارات کا اصل مرکز

ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی عاصم منیر کے دورے کو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں رپورٹ کیا، تاہم اسی ادارے نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستانی آرمی چیف ٹرمپ کا کوئی پیغام لے کر ایران گئے تھے۔ تسنیم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ عاصم منیر اپنے ساتھ امریکہ کی جانب سے کوئی دھمکی آمیز یا اس نوعیت کا پیغام نہیں لائے تھے، بلکہ ان کا مقصد مذاکرات کی راہ ہموار کرنا اور ایران کی شرائط اور مؤقف امریکی فریق تک پہنچانے میں مدد کرنا تھا۔

اس طرح دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے عاصم منیر کو ٹرمپ کا نمائندہ قرار دینے کی قیاس آرائیاں کی گئیں، وہیں ایرانی ذرائع ابلاغ میں بھی اس حوالے سے مختلف آرا سامنے آئیں، لیکن ایران کے بعض اہم ذرائع نے خود اس تاثر کی تردید کی۔

Back to top button